اتر پردیش (المعروف یو پی) بلحاظ آبادی بھارت کی سب سے بڑی اور رقبے کے اعتبار سے پانچویں بڑی ریاست ہے۔

اتر پردیش
  • उत्तर प्रदेश
اُترپردیش
TajMahalbyAmalMongia.jpg
Evening Ganga Aarti at Dashashwamedh Ghat.JPG
Rumi Darwaza.JPG SwampDeerDudhwa Two.jpg
CCS International Airport.jpg
Fatehput Sikiri Buland Darwaza gate 2010.jpg
Uttar Pradesh montage:
The تاج محل
Evening Ganga Aarti, at Dashashwamedh Ghat وارانسی
Rumi Darwaza، لکھنؤ اور Swamp Deer in Dudhwa National Park
Chaudhary Charan Singh International Airport
Buland Darwaza gate to جامع مسجد مسجد، فتح پور سیکری
Coat of arms of {{{official_name}}}
Coat of arms
Location of Uttar Pradesh in بھارت
Location of Uttar Pradesh in بھارت
Map of Uttar Pradesh
Map of Uttar Pradesh
خود مختار ریاستوں کی فہرست Flag of India.svg بھارت
فہرست بھارت کے علاقہ جات شمالی ہند
Formation Modern: 1807 (as Ceded and Conquered Provinces)
تاریخ
دار الحکومت لکھنؤ
اتر پردیش کے اضلاع اتر پردیش کے اضلاع[1]
حکومت
 • جسم Government of Uttar Pradesh
 • گورنر Ram Naik[2]
 • Chief Minister Akhilesh Yadav (SP)
 • Chief Secretary Deepak Singhal IAS
 • Legislature
 • پارلیمان بھارت
رقبہ
 • کل 243,286 کلو میٹر2 (93,933 مربع میل)
رقبہ درجہ 4th
آبادی (2015)[1]
 • کل 215,609,813
 • درجہ بھارت کی ریاستیں بلحاظ آبادی
 • کثافت 890/کلو میٹر2 (2,300/مربع میل)
نام آبادی اترپردیشی
منطقۂ وقت بھارتی معیاری وقت (UTC+05:30)
UN/LOCODE آیزو 3166-2:IN
گاڑی رجسٹریشن UP 01—XX
انسانی ترقیاتی اشاریہ Increase2.svg 0.380 (low)
HDI rank 18th (2007-08)
Literacy
  • 67.7%
  • 77.3% (مرد)
  • 57.2% (عورتیں)
ریاستی زبانیں
ویب سائٹ UP.gov.in

اتر پردیش دریائے گنگا کے انتہائی زرخیز اور گنجان آباد میدانوں پر پھیلی ہوئی ریاست ہے۔ اس کی سرحدیں نیپال کے علاوہ بھارت کی ریاستوں اتر انچل، ہماچل پردیش، ہریانہ، دہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھاڑکھنڈ اور بہار سے ملتی ہیں۔

اتر پردیش کا انتظامی و قانونی دار الحکومت لکھنؤ ہے جبکہ اعلیٰ عدالت الہ آباد میں قائم ہے۔

اترپردیش قدیم اور قرون وسطی بھارت کی طاقتور سلطنتوں کا گھر تھا۔ ریاست کے دو بڑے دریاؤں، گنگا اور دریائے جمنا، الٰہ آباد میں ملتے ہیں اور پھر گنگا مشرق کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ریاست میں کئی تاریخی، قدرتی، اور مذہبی سیاحتی مقامات ہیں، جیسا کہ، آگرہ، وارانسی، رائے بریلی، کوسامبی، کانپور، بلیا، شراوستی ضلع، گورکھپور، اناؤ، چوری چورا میں واقع گورکھپور، کشی نگر، لکھنؤ، جھانسی، الٰہ آباد، بدایوں، میرٹھ، متھرا، جونپور، اترپردیش اور مظفر نگر۔

فہرست

تاریخترميم

ماقبل تاریخترميم

جدید انسان شکاری ہجوم کی صورت اتر پردیش میں رہے ہیں[4][5][6] یہ تقریباً[7] 85 اور 73 ہزار سال پہلے یہاں رہے۔ اس کے علاوہ اترپردیش سے ماقبل تاریخ کے درمیانے اور اعلا قدیم حجری دور کے 21–31 ہزار سال پہلے کے[8] اور وسطی حجری دور/خرد حجری دور hunter-gatherer کی آبادکاری کے نشانات، پرتاپگڑھ کے قریب ملے ہیں، جو 10550–9550 قبل مسیح قدیم ہیں۔ آثار میں ایسے گاؤں بھی ملے ہیں جن میں پالتو مویشی، بھیڑیں، اور بکریاں اور زراعت کا ثبوت ملتا ہے جو 6000 قبل مسیح سے شروع ہو کر آہستہ آہستہ 4000 تا 1500 قبل مسیح  میں ویدک دور کی وادیٔ سندھ کی تہذیب اور ہڑپہ تہذیب کے آغاز تک جاتا ہے; جو لوہے کے زمانے کی توسیع ہے۔[9][10][11]

زراعتترميم

اتر پردیش بھارت کے شعبہ زراعت میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ اس کا اندازا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت میں ہر پانچ فروخت ہونے والے ٹریکٹروں میں سے ایک اس ریاست میں بکتا ہے۔[12] 2010-11 میں اتر پردیش میں ہر وقت سے زیادہ یعنی 47.55 میٹریک ٹن غلے کی پیداوار درج کی جو پچھلے سال سے 10 فی صد اضافہ تھا۔ 2010-11 میں ریاست میں پورے ملک کے غلے کا پانچواں حصہ اگا تھا۔ ریاست میں ملک کے کل چاول کا 13 فی صد، گیہوں کا 35 فی صد، دالوں کا 13 فی صد اور موٹے اناج کا 8 فی صد اگا تھا۔۔[13]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ 1.0 1.1 "Statistics of Uttar Pradesh". Census of India 2011. UP Government. 1 مارچ 2011. اخذ کردہ بتاریخ 31 جولائی 2012. 
  2. "Centre in a hurry, but Governors won’t quit". The Hindu. Hindu. http://www.thehindu.com/news/national/centre-in-a-hurry-but-governors-wont-quit/article6123902.ece?homepage=true۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 جون 2014. 
  3. Cite error: حوالہ بنام langoff50 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  4. Virendra N. Misra, Peter Bellwood (1985). Recent Advances in Indo-Pacific Prehistory: proceedings of the international symposium held at Poona. صفحہ۔69. https://books.google.com/?id=gMoJj-0Z94UC&pg=PA69۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 جولائی 2012. 
  5. Bridget Allchin, Frank Raymond Allchin (29 جولائی 1982). The Rise of Civilization in India and Pakistan. Cambridge University Press. صفحہ۔58. https://books.google.com/?id=r4s-YsP6vcIC&pg=PA58۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 جولائی 2012. 
  6. Hasmukhlal Dhirajlal Sankalia; Shantaram Bhalchandra Deo; Madhukar Keshav Dhavalikar (1985). Studies in Indian Archaeology: Professor H.D. Sankalia Felicitation Volume. Popular Prakashan. صفحہ۔96. http://books.google.com/books?id=35DP1Z-2dnYC&pg=PA96. 
  7. عمر میں اعتماد کی حد 85 (±11) اور 72 (±8) ہزار سال پہلے۔
  8. Gibling، Sinha; Sinha، Roy; Roy، Tandon; Tandon، Jain; Jain، M (2008). "Quaternary fluvial and eolian deposits on the Belan river, India: paleoclimatic setting of Paleolithic to Neolithic archeological sites over the past 85,000 years". Quaternary Science Reviews 27 (3–4): 391. doi:10.1016/j.quascirev.2007.11.001. 
  9. Kenneth A. R. Kennedy (2000). God-apes and Fossil Men. University of Michigan Press. صفحہ۔263. https://books.google.com/?id=W6zQHNavWlsC&pg=PA263۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 جولائی 2012. 
  10. Bridget Allchin, Frank Raymond Allchin (1982). The Rise of Civilization in India and Pakistan. Cambridge University Press. صفحہ۔119. https://books.google.com/?id=r4s-YsP6vcIC&pg=PA119۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 جولائی 2012. 
  11. "Prehistoric human colonization of India" (PDF). اخذ کردہ بتاریخ 5 اپریل 2012. 
  12. Biju M K,Aneesh P. & Faisal U. "Analysis on Sales Drops in Tractor Market for Mahindra & Mahindra Using Sales Funnel Analysis", Indian Journal of Business and Retail Management Research, Vol 5 No 1-2, Jan-Dec 2016, Serials Publications (P) Ltd,New Delhi (INDIA), Pp 81-94.
  13. Ajai Prakash & Ankit Srivastava, "Influence of Farming Methods on Value Chain of Agriculture: An Empirical Study for Uttar Pradesh",Arthshastra Indian Journal of Economics & Research (Bi-monthly)، Volume 5,ستمبر-اکتوبر, 2016, pp 39-48

بیرونی روابطترميم