ابریق ایسے برتن کو کہتے ہیں جس میں مائع اشیاء، عام طور پر پانی، کو رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ یعنی ابریق میں چھاگل، صراحی، پانی پینے کا لوٹا، پانی کا ایک ٹونٹی اور دستہ دار برتن وغیرہ شامل ہیں۔ ابریق کی جمع اباریق ہے۔ چمکیلی تلوار کو بھی ابریق کہا جاتا ہے۔ اباریق، ابریق کی جمع ہے آفتابہ (لوٹا) یہ برق سے مشتق ہے، آفتابے چونکہ بہت زیادہ چمکدار ہوں گے اس لیے اس کو ابریق کہتے ہیں۔[1] کاس شیشے کے پیالے کو کہتے ہیں اگر پیالے میں مشروب نہ ہو تو اس کو کاس نہیں کہتے بلکہ کوب یا ابریق کہتے ہیں اور جب وہ پیالہ مشروب سے بھرا ہوا ہو تو اس کو کاس کہتے ہیں۔[2]

2200 قبل مسیح کی صراحیاں
1790 میں دریافت ہونے والے لوٹا یا جگ نما برتین

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. تفسیر جلالین ،جلال الدین سیوطی الواقعہ،1
  2. تفسیر تبیان القرآن ،غلام رسول سعیدی الصافات،41