حافظ ابوبکر بن ابی الدنیا ابن ابی الدنیا سے معروف عبد اللہ بن محمد بن عبید بن سفیان القرشی الاموی بغدادی ہیں۔

ابن ابی الدنیا
(عربی میں: ابن أبي الدنيا‎ ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 823[1][2][3][4][5][6]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 894 (70–71 سال)[1][2][3][4][5][7][6]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ محمد بن اسماعیل بخاری،  ابو داؤد،  ابو حاتم رازی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ معلم،  مورخ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم حدیث،  زہد  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ولادتترميم

ابن ابی الدنیا 208ھ/ 823ء میں بغداد میں پیدا ہوئے۔

اساتذہترميم

ان کے مشائخ میں احمد دورقی، علی بن جعد جوہری، زُہیر بن حرب، ابوعبید قاسم بن سلام، داود بن رشید خورازمی، محمد بن سعد کاتبِ واقدی، امام بخاری اور امام ابوداود وغیرہ ہیں جن سے فنِ حدیث کی تعلیم پائی،

تلامذہترميم

ان سے امام ابن ماجہ کو تلمذ حاصل ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی ’’تفسیر‘‘ میں ان سے روایتیں کی ہیں، لیکن ’’سنن‘‘ میں کوئی حدیث ان کی روایت سے منقول نہیں ہے۔

سیرت وخصائصترميم

شیخ الوقت، امام الائمہ، فقیہ العصر، شیخ الحدیث، حافظ الحدیث ابو بکر عبد اللہ بن محمد المعروف ابنِ ابی الدنیا مشہور حفاظِ احادیث میں سے تھے۔ابن ابی الدنیا شہزادگانِ خلفائے عباسیہ کے اَتالیق رہے۔خلیفہ معتضد باللہ کی تربیت بھی ان ہی کی اَتالیقی میں ہوئی۔ حافظ ذہبی نے "تذکرۃ الحفاظ" میں ان کا ترجمہ ان لفظوں میں شروع کیا ہے: ابن أبي الدنیا المحدث العالم الصدوق۔یعنی : ابنِ ابی الدنیا محدث، عالم اور سچے راویوں سے ہیں۔اورحافظ جمال الدین مزّی کے "تہذیب الکمال" میں یہ الفاظ ہیں: أبو بکر بن أبي الدنیا البغدادي الحافظ صاحب التصانیف المشہورۃ ومؤدب أولاد الخلفاء۔یعنی: ابنِ ابی الدنیااحادیث کے حافظ، کتبِ مشہورہ کے مصنف اور خلفاء کے اولاد کی تربیت فرماتے تھے۔ ابنِ ابی حاتم کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد کی معیت میں ان سے حدیثیں لکھی ہیں اور والد نے ان کو صدوق کہا ہے۔ آپ ایسی صلاحیت کے حامل شخص تھے ایک بندے کو آپ جب چاہیں رولادیں اور جب چاہیں ہنسا دیں۔ اسی ادا سے متاثر ہوکر خلیفہ نے آپ کو اپنی بیٹوں کی تربیت کے لیے رکھا۔

تصنیفاتترميم

یہ بڑے مشہور مصنف ہوئے ہیں۔ 164 تصنیفات ہیں دنیوی عروج بھی خوب پایا۔

  • كتاب الإخلاص والنيۃ
  • كتاب المطر والرعد والبرق
  • كتاب صفة الجنۃ
  • كتاب صفة النار
  • كتاب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر
  • كتاب التوكل على الله
  • كتاب التوبہ
  • كتاب الرقۃ والبكاء
  • كتاب الصبر وثوابہ
  • كتاب العقوبات
  • كتاب النفقة على العيال
  • الجوع
  • كتاب ذم الغيبۃ والنميمۃ
  • كتاب الفرج بعد الشدة
  • كتاب إصلاح المال
  • كتاب ذم البغي
  • كتاب ذم الملاهي
  • كتاب المحتضرين
  • كتاب الأهوال
  • كتاب الزهد
  • كتاب اليقين
  • فضائل رمضان
  • قرى الضيف
  • قصر الأمل
  • كلام الليالي والأيام
  • محاسبة النفس
  • هواتف الجنان
  • الإخوان
  • الإشراف في منازل الأشراف
  • التواضع والخمول
  • الحلم
  • الرضا عن الله بقضائه
  • الشكر
  • الاعتبار
  • التهجد وقيام الليل
  • الصمت
  • العقل وفضله
  • العمر والشيب
  • العيال
  • والنميمة
  • القناعة والعفاف
  • الليالي والأيام
  • المتمنين
  • المرض والكفارات
  • المنامات
  • الہم والحزن
  • الهواتف
  • الوجل والتوثق بالعمل
  • الورع
  • حسن الظن بالله
  • ذم الدنيا
  • ذم الكذب
  • ذم المسكر
  • قضاء الحوائج
  • مجابو الدعوة
  • مداراة الناس
  • مكائد الشيطان
  • مكارم الأخلاق
  • من عاش بعد الموت
  • الاحکام فی القبور
  • الأولياء

علمی مقامترميم

ابن ابی الدنیا شہزادگانِ خلفائے عباسیہ کے اَتالیق رہے۔ خلیفہ معتضد باللہ کی تربیت بھی ان ہی کی اَتالیقی میں ہوئی۔ حافظ ذہبی نے ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ میں ان کا ترجمہ ان لفظوں میں شروع کیا ہے : اِبْنُ أَبِي الدُّنْیَا اَلْمُحَدِّثُ الْعَالِمُ الصَّدُوْقُ۔ اورحافظ جمال الدین مزّی کے ’’تہذیب الکمال‘‘ میں یہ الفاظ ہیں : أَبُوْ بَکْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْیَا الْبَغْدَادِيُّ الْحَافِظُ صَاحِبُ التَّصَانِیْفِ الْمَشْہُوْرَۃِ وَمُؤَدِّبُ أَوْلَادِ الْخُلَفَائِ۔ ابنِ ابی حاتم کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد کی معیت میں ان سے حدیثیں لکھی ہیں اور والد نے ان کو صدوق کہا ہے۔

وفاتترميم

ابن ابی الدنیا نے 281ھ بمطابق 894ء کو بغداد میں وفات پائی۔[8][9]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12178056m — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119086239 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  3. ^ ا ب ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: https://id.worldcat.org/fast/169539/ — بنام: ʻAbd Allāh ibn Muḥammad Ibn Abī al-Dunyā — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب بنام: ʻAbd Allāh ibn Muḥammad Ibn Abī al-Dunyā — ایس ای ایل آئی بی آر: https://libris.kb.se/auth/191298 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب General Diamond Catalogue ID: https://opac.diamond-ils.org/agent/13707 — بنام: ʿAbd Allāh ibn Muḥammad ibn ʿUbayd Ibn Abī al-Dunyā
  6. ^ ا ب آسٹریلیا شخصی آئی ڈی: https://trove.nla.gov.au/people/1126925 — بنام: ʻAbd Allāh ibn Muḥammad Ibn Abī al-Dunyā — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. Vatican Library VcBA ID: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=8034&url_prefix=https://opac.vatlib.it/auth/detail/&id=495/167107 — بنام: Abd Allah ibn Muhammad Ibn Abī 'd-Dunyā
  8. تذکرۃ الحفاظ،امام ذہبی طبقۃ العاشرۃ
  9. الموسوعة العربية العالمية http://www.mawsoah.net آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ mawsoah.net (Error: unknown archive URL)