ابو عبداللہ محاسبی

صوفی متکلم فقیہ محدث

حضرت ابو عبداللّٰه حارث بن اسد محاسبی علیہ الرحمہ: آپ اپنے زمانے میں علم، تقویٰ، معاملہ اور حال میں بےمثال تھے۔ اصلاً بصری تھے۔ کہا گیا ہے کہ آپ کو اپنے والد سے ستر ہزار(70,000) بطور وراثت ملے لیکن آپ نے ان میں سے کچھ بھی نہ لیا۔ کہا گیا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے والد تقدیر کے منکر تھے پس آپ نے تقویٰ اسی بات میں سمجھا کہ ان کی میراث سے کچھ نہ لیں اور فرمایا: صحیح روایت میں رسول اکرم صلی اللّٰه علیہ واله وسلم ثابت ہے کہ: " لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى ". "دو مختلف دینوں سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔"¹ حضرت محمد بن مسروق علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حضرت حارث بن اسد محاسبی علیہ الرحمہ کا انتقال ہوا تو آپ ایک درہم کے محتاج تھے، حالانکہ آپ کے باپ نے سامان اور زمین چھوڑی لیکن آپ نے اس میں سے کچھ نہیں لیا۔

حضرت حارث محاسبی علیہ الرحمہ جب ایسے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتے جس میں شبہ ہوتا تو آپ کی انگلیوں پر پسینہ حرکت کرتا اور آپ اس کو کھانے سے رک جاتے۔²

حضرت ابو عثمان بلدی علیہ الرحمہ فرماتے تھے حضرت حارث محاسبی علیہ الرحمہ نے فرمایا: "جو شخص مراقبہ اور اخلاص کے ساتھ اپنے باطن کو درست کرے اللّٰهﷻ اس کے ظاہر کو مجاہدہ اور اتباعِ سنت کے ذریعے درست کردیتا ہے۔"

حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ سے منقول ہے کہ ایک دن حضرت حارث محاسبی علیہ الرحمہ میرے پاس سے گزرے تو میں نے ان میں بھوک کا اثر دیکھا۔ میں نے کہا اے چچا! اندر گھر میں آئیں اور کچھ کھا لیں۔ فرمایا: ہاں! میں گھر میں داخل ہوا اور کچھ تلاش کیا تاکہ ان کی خدمت میں پیش کروں تو گھر میں کھانا رکھا تھا جو کسی شادی والے گھر سے لوگوں نے بھیجا تھا۔ میں نے ان کے آگے رکھ دیا۔ انہوں نے لقمہ لیا اور کئی بار منہ میں گھمایا پھر وہ کھڑے ہوگئے اور دہلیز پر ڈال کر چلے گئے۔ جب کچھ دنوں بعد میں نے ان کو دیکھا تو ان سے اس بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: میں بھوک سے تھا اور میں نے ارادہ کیا کہ میں کھانے کے ذریعے آپ کو خوش کروں اور آپ کا دل رکھ لوں۔ لیکن میرے اور اللّٰهﷻ کے درمیان ایک علامت ہے کہ وہ مجھے ایسا کھانا نہیں کھلاتا جس میں شبہ ہو لہذا اس نے مجھے نگلنے کی طاقت نہیں دی۔ آپ کے پاس وہ کھانا کہاں سے آیا تھا؟ میں نے کہا: میرے گھر کے قریب سے شادی والے گھر سے آیا تھا۔ پھر میں نے کہا آپ آج تشریف لائیں گے؟ فرمایا: ہاں! حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں نے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا ان کے سامنے رکھا جو ہمارے گھر کا تھا تو انہوں نے تناول فرمایا اور ارشاد فرمایا: "جب تم کسی فقیر کے سامنے کھانا رکھو تو اسی قسم کا کھانا رکھو۔"³

آپ کا انتقال 243ھ میں بغداد میں ہوا۔

حوالہ جاتترميم

•¹۔ سنن ابو داؤد، کتاب الفرائض، حدیث نمبر: 2911

•²۔ اولیاء کرام پر اللّٰهﷻ کا یہ فضل ہوتا ہے کہ ان کو حلال وحرام کی تمیز ہوجاتی ہے اور اس کی بنیادی وجہ تقویٰ ہے۔

•³۔ آج کے خود ساختہ پیروں کو ان بزرگانِ دین کے حالات پڑھ کر موازنہ کرنا چاہیے کہ کیا وہ بھی حلال و حرام میں امتیاز کرتے اور سوکھی روٹی کی دعوت قبول کرتے ہیں۔؟؟

رسالہ قشیریہ از امام عبدالکریم القشیری علیہ الرحمہ