ابو عمرو الدانی

اندلسی عالم قراءت، محدث اور مفسر

ابو عمرو الدانی جو اپنے زمانے ابن الصیرفی کے نام سے معروف تھے۔ وہ اندلسی عالمِ قراءت، محدث اور مُفسّر تھے۔

ابو عمرو الدانی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 981  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دانیہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1053 (71–72 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دانیہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت طائفہ دانیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ قاری،  مفسر قرآن،  محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام و نسب اور پیدائشترميم

ابو عمرو عثمان بن سعید بن عثمان بن سعید بن عمر اموی مقام دانیہ کے باشندے تھے اس لیے نسبت میں دانی کہلاتے ہیں سنہ پیدائش 371ھ ہے۔ آپ فن قرات کے امام، عالمِ حدیث اور اسماء الرجال کے ماہر، عمدہ خطاط، جید الحفظ، ذکی اور ذبین، متقی و پرہیز گار اور مستجاب الدعوات تھے۔

حالات زندگیترميم

386ھ میں علم کی تحصیل شروع کی، 397ھ میں مشرق کی طرف گئے اسی سال شوال میں مصر گئے اور یہاں ایک سال قیام کیا پھر حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے اور ماہ ذیقعدہ 399ھ میں اندلس آئے پھر 403ھ میں سرحد کی طرف نکلے اور سر قسطہ میں سات سال قیام کیا وہاں سے قرطبہ گئے اور 417ھ میں قرطبہ سےاپنے وطن دانیہ میں آئے اور آخر تک میں قیام پزیر رہے صاحب مفتاح السعادت نے آپ کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے۔ كان احد الائمة في علم القرآن در روایاتہ و تفسيرہ و معانيہ وطرقہ و اعرابہ۔ آپ علم قرآن اس کی روایت تفسیر اس کے معانی طرق اور اعراب کے امام تھے۔

ابو عمرو کے ہم عصر، محمد بن عتيق بن فرج المقرئ الطلیطلی المغامی کہتے ہیں کہ وہ مالکی المذہب تھے۔[2]

قوت حافظہترميم

آپ فرماتے تھے کہ میں نے جو چیز دیکھی اسے لکھ لیا اور جو لکھا اسے حفظ کر لیا اور جو کچھ حفظ کیاہے کبھی نہیں بھولا

تصانیفترميم

آپ نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں جن میں «التيسير في القراءات السبع» فن قراءت سبعہ میں بہت مشہور اور عربی مدارس میں داخل درس ہے دیگر تصنیفات یہ ہیں:

  • جامع البيان في السبع
  • الاقتصاد في السبع
  • المقنع (یہ رسم مصحف پر ہے)
  • طبقات القراء
  • المحتوى في القراءات الشواذ
  • السنن الواردة في الفتن وغوائلها والساعة وأشراطها
  • شرح قصيدة أبي مزاحم الخاقاني، وغیرہ

وفاتترميم

آپ نے تقریباً تہتر سال کی عمر پاکر بروز دوشنبہ 15 شوال 444ھ میں وفات پائی۔[3][4]

حوالہ جاتترميم

  1. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 6 مارچ 2020
  2. الصلة 2/ 593
  3. ظفر المحصلین باحوال المصنفین،صفحہ386، دار الاشاعت کراچی
  4. ابن بشكوال، أبو القاسم خلف بن عبد الملك (1989). الصلة. دار الكتاب المصري، القاهرة - دار الكتاب اللبناني، بيروت. ISBN 977-1876-19-8.