الافضل بن صلاح الدین

الافضل بن صلاح الدین (Al-Afdal ibn Salah ad-Din) (عربی: الأفضل بن صلاح الدين) صلاح الدین ایوبی کے سات بیٹوں میں سے ایک تھا۔ وہ اپنے والد کے بعد دمشق کا دوسرا امیر بنا۔

الافضل بن صلاح الدین
معلومات شخصیت
پیدائش 16 جون 1170  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دولت فاطمیہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1225 (54–55 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سميساط  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Ayyubid Dynasty.svg ایوبی سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد صلاح الدین ایوبی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
الظاہر غازی،  العزیز عثمان  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان ایوبی سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان دمشق   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
4 مارچ 1193  – 3 جولا‎ئی 1196 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png صلاح الدین ایوبی 
ملک عادل  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ سلطان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں عین جوزہ کی لڑائی  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

637ء میں مسلم افواج کی یروشلم کی فتح کے وقت سوفرونیئس نے شرط رکھی کہ کہ شہر کو صرف مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن خطاب کے حوالے کیا جائے گا۔ چنانچہ خلیفہ وقت نے یروشلم کا سفر کیا۔ حضرت عمر نے سوفرونیئس کے ساتھ شہر کا دورہ کیا۔ کلیسائے مقبرہ مقدس کے دورہ کے دوران نماز کا وقت آ گیا اور سوفرونیئس نے حضرت عمر کو کلیسا میں نماز پڑھنے کی دعوت دی لیکن حضرت عمر نے کلیسا میں نماز پڑھنے کی بجائے باہر آ کر نماز پڑھی۔ جس کی وجہ یہ بیان کی کہ مستقبل میں مسلمان اسے عذر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کلیسا کو مسجد کے لیے استعمال نہ کریں۔ خلیفہ کی دانشمندی اور دوراندیشی کو دیکھتے ہوئے کلیسا کی چابیاں حضرت عمر کو پش کی گئیں۔ اس پیشکش کو انکار نہ کرنے کے باعث چابیاں مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو دے دی گئیں اور انہیں کلیسا کو کھولنے اور بند کرنے کا حکم دیا، آج تک بھی کلیسا کی چابیاں اسی مسلمان خاندان کے پاس ہیں۔

1193ء میں اس واقہ کی یاد میں صلاح الدین ایوبی کے بیٹے الافضل بن صلاح الدین نے میں ایک مسجد تعمیر کروائی جس کا نام مسجد عمر ہے۔ بعد ازاںعثمانی سلطان عبد المجید اول نے اپنے دور میں اس کی تزئین و آرائش بھی کی۔