مدافعاتی نظام انسانوں کو نقصان دہ عناصر مثلاً وائرس اور بیکٹیریا سے بچاتا ہے۔ الرجی (انگریزی: Allergy) کسی عنصر کے خلاف مضبوط مدافعاتی رد عمل ہوتا ہے، جوکہ بہت سے لوگوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتا۔ اس عنصر کو'الرجی' کہتے ہیں​۔ایسے لوگ جن کو الرجی ہوتی ہے، ان کا مدافعاتی نظام حملہ کرنے والے الرجن کے خلاف زیادہ رد عمل ظاہرکرتا ہے اور علاج بھی کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ایسی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن میں تھوڑی تکلیف بھی ہوتی اور لچھ لوگوں کو زیادہ بھی ہوتی ہے۔[1]

ایک شخص کے ہاتھ کی جلد کا الرجی کے لیے معائنہ کیا جا رہا ہے۔ چونکہ ہاتھ کے مخصوص متاثرہ حصوں کی شناخت مطلوب ہے، اس لیے قلم کی مدد سے نشانات کے نمبر درج کر دیے گئے ہیں۔ نیز اس سے حاصل معلومات کو الگ سے نوٹ کیا جا رہا ہے۔


علاماتترميم

آنکھوں میں خارش اور سوزش الرجی کی عام علامات میں سے ہیں۔ ان کو ٹھیک کرنے کا موثر اور تیز علاج تھوڑا مشکل ہے۔ الرجن کے گرد تھوڑی دیر موجودگی الرجی کی علامات کا باعث بنتی ہے۔ بعض لوگوں میں الرجی کا اظہار سوزش زدہ اور پانی سے بھری ہوئی آنکھوں کے بجائے ناک میں خارش اور سوزش کے ذریعے ہوتا ہے۔[2]

اقسامترميم

الرجی کی دو عام قسمیں ہیں۔ ایک شدید (Acute) اور دوسرے دائمی (Chronic)۔ پہلی قسم میں الرجی کے وہ تمام مسائل شامل ہیں جن کا فوری علاج کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مثلًا کھانا کھاتے ہی جسم پر خارش کا شروع ہو جانا یا داپھڑ یا ددوڑا پڑ جانا فورا قے یا دستوں کا شروع ہو جانا یا آدھے سر کا درد شروع ہونا وغیرہ جب کہ دوسری قسم میں وہ تمام الرجیز شامل ہیں جنہیں مریض برداشت کرتا رہتا ہے اور وہ کئی دن ہفتوں ، مہینوں یا سالوں میں جاکر شدت اختیار کرتی ہیں مثلًا کھانسی ، دمہ، ناک کا گوشت بڑھنا، مستقل نزلہ، آنکھوں میں خارش، صبح اٹھتے ہی چھینکوں کا شروع ہو جانا، نہانے کے بعد جسم میں خارش ہونا، جوڑوں کا درد، گلے میں مستقل خراش، پیٹ کا مستقل خراب رہنا یا پتلے پاخانے کا ہونا اور مختلف اقسام کی جلدی بیماریوں کے علاوہ جسم کے حصوں مثلًا چہرے یا ہونٹوں کا سوجنا اور خارش کی وجہ سے جسم پر دھبے وغیرہ پڑنا شامل ہیں۔[3]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم