اُمُّ الدَّرْدَاءِ الکبریٰ مکمل نام خیرہ بنت ابی حدرد صحابیہ رسول تھیں۔

نام و نسبترميم

اُم الدرداء دو تھیں اور دونوں ابو درداء کے عقد نکاح میں آئیں لیکن جو بڑی تھیں وہ صحابیہ جبکہ چھوٹی تابعیہ ہیں۔ احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین کے قول کے مطابق ان (بڑی) کا نام خیرہ تھا اور ابو حدرد اسلمی کی صاحبزادی تھیں۔[1]

قصہ قبول اسلامترميم

وارد ہوا ہے کہ ابو درداء انصار میں سب سے آخری اسلام قبول کرنے والے صحابی ہیں، وہ بت پوجا کرتے تھے، ان کے گھر میں ابن رواحہ اور محمد بن مسلمہ داخل ہوئے اور ان کے بت کو توڑ دیا، پھر وہ اس ٹوٹے ہوئے بت کو جمع کرنے لگے اور کہتے: تف تو نے انھیں روکا کیوں نہیں، کیا تو اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتا؟

ام درداء (الکبریٰ) نے کہا: اگر یہ نفع پہنچا سکتا یا دفاع کر سکتا تو سب سے اپنا دفاع کرتا اور اپنا نفع پہنچاتا۔ ابو درداء نے کہا: غسل خانہ میں میرے لیے پانی رکھ دو! چنانچہ غسل کیا، کپڑا پہنا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں (میاں بیوی) نے اسلام قبول کیا۔[1]

وفاتترميم

ام الدرداء الکبریٰ نے ابو درداء سے دو سال قبل (یعنی 30ھ) شام میں وفات پائی اور یہ خلافتِ عثمان کا زمانہ تھا۔[1] ام درداء سے فرماتی ہیں ایک بار میرے پاس ابودرداء غصے میں آئے میں نے کہا آپ کو کس چیز نے غصہ دلایا فرمایا اﷲ کی قسم میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے کاموں میں سے صرف یہ پاتا ہوں کہ وہ نماز جماعت سے پڑھ لیتے ہیں ام الدرداء ابو الدرداء کی بیوی ہیں ان کا نام خیرہ ہے۔ ابوالدرداء نے اپنے شہر والوں کی ان سے شکایت کی، اسی شہر والوں نے مسلمانوں کے سارے کام چھوڑ دیے یا بدل دیے صرف نماز باجماعت باقی تھی،اب ان میں بھی سستی کرنے لگے۔ خیال رہے کہ ابو الدرداء بڑے زاہد،تارک الدنیا،روزہ دار،شب بیدار صحابی تھے حتی کہ ام الدرداء نے بناؤ سنگار چھوڑ دیا تھا،حضرت سلمان فارسی کے پوچھنے پر کہا کہ میں سنگار کس لیے کروں میرے خاوند کو عبادت سے فرصت ہی نہیں جو میری طرف توجہ کریں،آپ چاہتے یہ تھے کہ سارے مسلمان مجھ جیسے عابد و زاہد ہوں،جس شہر میں آپ تھے وہاں کے باشندے اس درجے کے زاہد نہ تھے، اس کی آپ شکایت کر رہے ہیں کہ یہ لوگ نہ راتوں کو جاگتے ہیں نہ اشراق وغیرہ کی پابندی کرتے ہیں ہاں جماعت کے پابند ہیں تو اس میں بھی کمی کرنے لگے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحابہ دین کی ساری باتیں چھوڑ چکے تھے جیسا کہ روافض نے اس حدیث سے سمجھا وہ زمانہ خیر القرون میں سے تھا، اس کی بہتری کی گواہی قرآن و حدیث دے رہے ہیں۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ "أُمُّ الدَّرْدَاءِ الكُبْرَى". 
  2. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان جلد2 صفحہ303