محمد بن مسلمہ عرب مسلمان اور صحابی تھے۔ آپ نے کئی اسلامی جنگوں میں بطور سپاہ سالار حصہ لیا۔

محمد بن مسلمہ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 589  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 666 (76–77 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں اسلامی فتح مصر  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسبترميم

محمد نام ابو عبد الرحمن کنیت قبیلہ اوس سے ہیں، سلسلۂ نسب یہ ہے،محمد بن مسلمہ بن خالد بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس بعثت نبوی سے 22 سال قبل پیدا ہوئے، محمد نام رکھا گیا، سنِ شعور کو پہنچ کر عبد الاشہل کے حلیف بنے۔

اسلامترميم

سعد بن معاذسے قبل مصعب بن جبیرکے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ امین الامت ابو عبیدہ بن جراح سے جو عشرہ مبشرہ میں تھے رشتہ اخوت قائم ہوا،

غزوات میں شرکتترميم

غزوہ بدر میں شریک تھے اور غزوۂ قینقاع میں یہود کا مال انہی نے وصول کیا تھاکعب بن اشرف یہودی مدینہ میں ایک شاعر تھا، آنحضرتﷺ کی ہجو کرنا اور مسلمانوں کے خلاف آتش غیظ و غضب مشتعل کرنا رسول اکرم نے فرمایا کعب کے لیے کون ہے؟ اس نے خدا اور رسول کو بہت اذیت پہنچائی، محمد بن مسلمہ نے اٹھ کرکہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کی مرضی ہے کہ وہ قتل کر دیا جائے ،فرمایا ہاں عرض کیا تو اس کام کے لیے میں حاضر ہوں اس کا سرکاٹ کر لائے۔ امین الامت حضرت ابو عبیدہؓ بن جراح سے جو عشرہ مبشرہ میں تھے رشتہ اخوت قائم ہوا، غزوہ بدر میں شریک تھے اور غزوۂ قینقاع میں یہود کا مال انہی نے وصول کیا تھا [1] کعب بن اشرف یہودی مدینہ میں ایک شاعر تھا، آنحضرتﷺ کی ہجو کرنا اور مسلمانوں کے خلاف آتش غیظ و غضب مشتعل کرنا اس کا کام تھا، بدر میں مسلمانوں کو فتح اور قریش کو ہزیمت ہوئی تو بولا کہ اب زمین کا پیٹ اس کی پیٹھ سے اچھا ہے، اسی جوش میں مکہ پہنچا اور اشعار کے ذریعہ سے تمام قریش میں انتقام کی آگ بھڑکا دی،مدینہ واپس آیاتو آنحضرتﷺ کو اس کی فکر پیدا ہوئی،فرمایا: اللهم اكفني بن الأشرف بما شئت في إعلانه الشر وقوله الأشعار پھر مسلمانوں کے بھرے مجمع میں فرمایا: من لكعب بن الأشرف فإنه قد آذى الله ورسوله، کعب کے لئے کون ہے؟ اس نے خدا اور رسول کو بہت اذیت پہنچائی، محمد بن مسلمہؓ نے اٹھ کرکہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کی مرضی ہے کہ وہ قتل کردیا جائے ،فرمایا ہاں عرض کیا تو اس کام کے لئے میں حاضر ہوں ؛لیکن کچھ کروں تو کوئی مضائقہ تو نہ ہوگا ارشاد ہوا نہیں ،بارگاہ رسالت سے اٹھ کر کعب کے پاس آئے اور کہا کہ اس شخص( آنحضرتﷺ) نے ہم کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے اب صدقہ مانگتا ہے ہم تمہارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ایک یا دو وسق چھوہارے اور کھانا ہم کو پیشگی دے دو ،کیا کہیں اس سے بیعت کرچکے ہیں، اب چھوڑتے بھی نہیں بنتا ،تاہم انجام کا انتظار ہے، کعب نے کہا مجھے منظور ہے ؛لیکن کوئی چیز گرو ی رکھ دو، ساتھیوں نے کہا کیا رہن رکھیں؟ بولا عورتیں، کہا نہیں تم خوبصورت آدمی ہو،بولا تو بچے ،کہا یہ بھی ٹھیک نہیں لوگ انگلیاں اٹھا ئیں گے کہ ایک دو وسق کے لئے اولاد رہن رکھدی، یہ بڑے شرم کی بات ہے ،کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہتھیار گرو ی رکھدیں، اس نے کہا اچھا میرے پاس پھر آنا، رات کے وقت محمد بن مسلمہؓ ابو نائلہ کو کہ کعب کے رضاعی بھائی تھے اور مسلمان ہوچکے تھے لیکر پہنچے کعب نے قلعہ میں بلایا اور ملنے کے لئے گھر سے نکل رہا تھا کہ بیوی نے کہا ایسے وقت کہا جاتے ہو؟ جواب دیا کہ میرے دو بھائی آئے ہیں ان سے ملنے جارہا ہوں، بولی کہ ان کی آواز سے تو خون ٹپکتا ہے، کہا خیر اگر یہی ہے تب بھی مجھے جانا چاہیے ،کیونکہ شریف آدمی رات کو بھی نیزہ کی دعوت قبول کرتا ہے ،غرض نہایت عمدہ عطر لگا کر اورچادر اوڑھ کر گھر سے نکلا، محمد بن مسلمہؓ نے پہلے سے ساتھیوں کو کہہ رکھا تھا کہ میں اُ س پر قابو پانے کی کوشش کرونگا،جس وقت اشارہ کروں فوراً قتل کردینا؛چنانچہ اس سے کہا نہایت عمدہ خوشبو ہے کیا میں تمہارا سر سونگھ سکتا ہوں؟ اُس نے اجازت دی تو انہوں نے سر پکڑ کر سونگھا اورکہا کہ ان لوگوں کو بھی اجازت دو سب اٹھے اور سر سونگھا اتنی دیر میں وہ بخوبی قبضہ میں آگیا تھا، ساتھیوں سے کہا لو اس کو قتل کرو،اتنی دیر میں تلواریں برس پڑیں لیکن جان پھر بھی باقی رہ گئی،خدا کا دشمن اتنی زور سے چلایا کہ تمام یہود نے آواز سن لی اور ہر قلعہ پر روشنی ہوگئی محمد بن مسلمہؓ نے جرأت کرکے پیش قبض پیٹ میں بھونک دی جو ناف کے نیچے اتر گئی اور وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ [2] ان لوگوں نے اس کا سرکاٹ کر ساتھ لے لیا اور وہاں سے روانہ ہوگئے ،بقیع پہونچ کر تکبیر کہی، آنحضرتﷺ نے اس وقت تک آرام نہ فرمایاتھا، برابر نماز پڑھ رہے تھے تکبیر کی آواز گوش مبارک تک پہنچی سمجھے کہ مقصد میں کامیابی ہوئی، سامنے آئے تو فرمایا کہ "کامیاب پھرے ہیں" لوگوں نے کعب کا سر سامنے رکھ دیا تو نہایت خوش ہوئے اور خدا کا شکر ادا کیا۔ غزوہ ٔاحد میں لشکر اسلام کی حفاظت پر متعین تھے، پچاس آدمیوں کے ساتھ تمام رات گشت لگایا تھا۔ [3] واقعۂ نضیر میں کہ ۴ھ میں پیش آیا تھا، آنحضرتﷺ نے ان کو بنو نضیر کے پاس بھیجا کہ یہ اعلان کردو کہ ہمارے شہر سے نکل کر کسی اورجگہ چلے جاؤ تم لوگوں نے آنحضرتﷺ سے جو فریب اور دغا کی ہے، وہ ہم کو خوب معلوم ہے تم کو دس روز کی مہلت ہے،اس کے بعد اگر یہاں دیکھے گئے تو قتل کردیئے جاؤ گے، آنحضرتﷺ نے مجبور ہوکر محاصرہ کرلیا اور شکست دی، محمد بن مسلمہؓ کے ذمہ ان کے جلاوطن کرنے کا معاملہ سپرد ہوا (طبقات :۴۱) جس کو انہوں نے بخوبی انجام دیا۔ غزوۂ خندق کے بعد ۵ھ میں غزوۂ قریظہ ہوا، ۱۵ روز کے محاصرہ کے بعد یہود بنی قریظہ نے زچ ہوکر سپرڈالدی اورآنحضرتﷺ کے حکم پر راضی ہوگئے ،محمد بن مسلمہؓ نے عورتوں اوربچوں کو جدا کرکے باغیوں کے ہاتھ باندھ دئے اورایک طرف لاکر کھڑا کردیا۔ اس واقعہ کے بعد ۳۰ سواروں کے ساتھ آنحضرتﷺ نے بکرات روانہ کیا جو مدینہ سے ۷ دن کی مسافت پر واقع تھا، مقصود قرطاء پر غارت گری تھی، محمد بن مسلمہؓ رات کو چلتے اور دن کو کہیں چھپ رہتے، گاؤں پہونچ کر اچانک ان کو جالیا کچھ قتل ہوئے، باقی فرار ہوگئے،بہت سے اونٹ اوربکریاں عنیمت میں ہاتھ آئیں جن کی تفصیل یہ ہے: اونٹ ۱۵۰ ،بکریاں ۳۰۰۰ ۱۹روز کے بعد مدینہ واپس آئے۔ [4] ربیع الثانی ۶ھ میں ۱۰ آدمیوں کے ساتھ ذی القصہ بھیجے گئے ،یہ مقام مدینہ سے ۲۴ میل پر ہے اور ربذہ کی سڑک پر واقع ہے، رات کو وہاں پہنچے تو قبیلہ والوں نے سو آدمی جمع کرکے تیر اندازی کی،پھر نیزے لیکر ٹوٹ پڑے، محمد بن مسلمہؓ کے علاوہ ادھر کے سب آدمی مارے گئے، گو محمد بن مسلمہؓ شہید نہیں ہوئے،لیکن ان کے ٹخنے پر چوٹ آگئی تھی جس سے ہلنا بھی مشکل تھا، ان لوگوں نے سب کے کپڑے اتار لئے اور برہنہ چھوڑ کر چلے گئے،اتفاق سے ایک مسلمان ادھر سے گذر رہا تھا ،محمد بن مسلمہؓ کو اس حال میں دیکھا تو اٹھا کر مدینہ لایا، آنحضرتﷺ نے اس کے انتقام کے لئے حضرت ابو عبیدہؓ کو روانہ فرمایا۔ [5] ۷ھ میں عمرۃ القضاء ہوا، آنحضرتﷺ نے ذوالحلیفہ پہونچ کر گھوڑے محمد بن مسلمہؓ کے سپرد کردیئے اور فرمایا کہ تم آگے بڑھو، یہ مر ظہران پہنچے تو قریش سے ملاقات ہوئی پوچھا کیا ماجرا ہے؟ کہا آنحضرتﷺ تشریف لارہے ہیں اور انشاء اللہ کل یہاں پہونچ جائیں گے۔ [6] غزوۂ تبوک میں ۹ھ میں واقع ہوا تھا،آنحضرتﷺ نے مدینہ میں ان کو کاروبار خلافت سپرد کیا تھا۔ حضرت عمرؓ کے عہدخلافت میں قبیلہ جہینہ کے صدقات وہی وصول کرتے تھے، حضرت عمرؓ نے گورنروں اور عاملوں کی نگرانی کا ایک عہدہ قائم کیا تھا، دربار خلافت میں وقتا ًفوقتاً عمال کی جو شکایتیں موصول ہوتیں ان کی تحقیق و تفتیش کے لئے حضرت عمرؓ نے انہی کو انتخاب کیا، صاحب اسد الغابہ لکھتے ہیں: وهو كان صاحب العمال أيام عمر، كان عمر إذا شكي إليه عامل، أرسل محمداً يكشف الحال. وهو الذي أرسله عمر إلى عماله ليأخذ شطر أموالهم [7] یہ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں عمال کے نگران تھے،جب کسی عامل کی حضرت عمرؓ سے شکایت کی جاتی تو تحقیق حال کے لئے محمد بن مسلمہؓ بھیجے جاتے انہی کو حضرت عمرؓ نے عمال کے پاس بھیجا تھا کہ ان کے مال کا چوتھائی حصہ اصول کریں۔ ۲۱ھ میں حضرت سعدبن ابی وقاصؓ جو کوفہ کے گورنر اور عشرہ مبشرہ میں تھے ان کی نسبت لوگوں نے جاکر حضرت عمرؓ سے شکایت کی،حضرت محمد بن مسلمہؓ تحقیقات کے لئے کوفہ بھیجے گئے،انہوں نے کوفہ کی ایک مسجد میں جاکر لوگوں کا اظہار لیا اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو ساتھ لے کر مدینہ آئے یہاں حضرت عمرؓ نے خود ان سے حقیقت حال معلوم کی۔ [8] حضرت عمرؓ کو خبر ملی کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے محل بنایا ہے اور اس میں ڈیوڑھی رکھی ہے،فرمایا کہ اب کسی مظلوم اور فریادی کی آواز اُن تک نہیں پہنچے گی، محمد بن مسلمہؓ کو بھیجا کہ جاکر ڈیوڑھی میں آگ لگادیں ،انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی،حضرت سعدؓ باہر نکلے اور پوچھا کیا معاملہ ہے، انہوں نے واقعہ بیان کیا [9] تو خاموش ہوگئے۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ بازار میں پھر رہے تھے،ایک شخص نے آواز دی ،عمر!کیا چند شرطیں تم کو خدا سے نجات دلادیں گی؟ تمہارا عامل عیاض بن غنم جو مصر کا حاکم ہے باریک کپڑے پہنتا ہے اور دروازہ پر دربان مقررکر رکھا ہے،حضرت عمرؓ نے محمد بن مسلمہؓ کو بلاکر مصر بھیجا کہ وہ جس حال میں ہوں ان کو بلالاؤ، محمد بن مسلمہؓ نے وہاں پہنچ کر دیکھا تو واقعی دروازہ پر دربان تھا، اندرگئے تو عیاض باریک کرتہ پہنے تھے کہا چلو امیر المومنین نے طلب کیا ہے،درخواست کی کہ قبا تو پہن لوں، جواب ملا نہیں،اسی وضع سے چلو، غرض اسی حالت میں مدینہ آئے حضرت عمرؓ نے وہ کرتہ اتروا کر بالوں کا کرتہ پہنایا اور بکریوں کا گلہ منگوا کر حکم دیا کہ جنگل میں لیجا کر چراؤ۔ [10] حضرت عمرو بن العاصؓ کے متعلق معلوم ہوا کہ ان کے مال و دولت میں بہت اضافہ ہوگیا ہے،محمدؓ بن مسلمہ کو ان کے نام فرمان دے کر روانہ کیا جس میں لکھا تھا کہ سارا مال ان کے سامنے رکھ دیا جائے،یہ جس قدر مناسب سمجھیں گے لے لیں گے، محمد بن مسلمہؓ مصر پہنچے تو عمروؓ نے ہدیہ بھیجا انہوں نے واپس کردیا، حضرت عمروؓ کو اس کا بڑا ملال ہوا اور کہا کہ تم نے میرا ہدیہ واپس کردیا:حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمایا تھا، جواب دیا کہ آنحضرتﷺ کے ہدیہ اوراس میں فرق ہے اس میں برائی پوشیدہ ہے،عمروؓ نے کہا خدا اس دن کا برا کرے جب میں عمرؓ بن الخطاب کا والی بنا ،میں نے عاص بن وائل (عمروؓ کے باپ کا نام ہے) کو دیکھا ہے وہ جب کمخواب کے قبا زیب بدن کرتے تھے تو خطاب (حضرت عمرؓ کے باپ) لکڑیوں کا گٹھہ گدھے پر لادے پھرتا تھا، آج اسی خطاب کا بیٹا مجھ پر حکومت جتا رہا ہے،محمد بن مسلمہؓ نے کہا کہ آپ کے اوران کے باپ دونوں جہنم کے کندھے ہیں ؛لیکن عمرؓ آپ سے بہتر ہیں اس کے بعد کچھ سخت گفتگو ہوئی، عمروؓ نے کل مال لاکر سامنے رکھ دیا، انہوں نے کسی قدر لیکر باقی واپس کردیا اور مدینہ چلے آئے۔ [11] محمد بن ربیع نے صحابہؓ مصر کے حال میں اس واقعہ کو درج کیا ہے،ایک حدیث بھی سنداً پیش کی ہے ۔ [12] حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت تک مدینہ میں رہے پھر ربذہ کی سکونت اختیار کی، حضرت عثمانؓ کے قتل کے اندوہناک واقعہ میں بالکل الگ تھے، حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جس کو فتنہ نے کچھ ضرر نہیں پہنچایا اور وہ محمد بن مسلمہ ؓ ہیں۔ چند آدمی ربذہ آئے دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے ،اندر گئے تو محمد بن مسلمہؓ سے ملاقات ہوئی،عزلت نشینی کا سبب دریافت کیا ،تو فرمایا جب تک معاملہ صاف نہ ہوجائے، ہم کو دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ [13] جناب امیر ؓ خلیفہ ہوئے تو ان کو طلب فرمایا اورپوچھا میرے ساتھ کیوں نہ شریک ہوئے ،عرض کیا آپ کے بھائی آنحضرتﷺ نے مجھے تلوار دی تھی اورفرمایا تھا کہ مشرکین سے لڑنا اورجب مسلمان سرگرم پیکار ہوں تو اسے احد پر مار کر پاش پاش کردینا اورگھر میں بیٹھ رہنا؛ چنانچہ میں نے یہی کیا۔ [14] جمل اورصفین وغیرہ میں کسی فریق کے ساتھ نہ تھے،اس زمانہ میں ایک لکڑی کی تلوار بنائی تھی اورکہتے تھے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یہی حکم دیا ہے۔ [15]

وفاتترميم

امیر معاویہ کے عہد میں صفر 46ھ میں وفات پائی، ایک شامی جو صوبۂ اردن کا رہنے والا تھا اس وجہ سے قتل کیا کہ انہوں نے امیر معاویہ کی طرف سے تلوار کیوں نہ اٹھائی۔[16][17]

اہل و عیالترميم

دس لڑکے اورچھ لڑکیاں یاد گار چھوڑیں[18]مشہور لڑکوں کے نام حسب ذیل ہیں،جعفر عبد اللہ،سعد، عبدالرحمن،عمرؓ (یہ سب صحابی تھے) محمود

حلیہترميم

قدر دراز، بدن دہرا، رنگ گندم گوں ،سر کے بال آگے سے اڑ گئےتھے۔

فضل وکمالترميم

فضلائے صحابہؓ میں تھے[19] رسول اللہ ﷺ کے ساتھ برسوں رہے تھے، سینکڑوں حدیثیں سنی تھیں ؛لیکن صرف 6 روایتیں حدیث کی کتابوں میں ملتی ہیں۔ [20] راویوں میں مشاہیر تابعین ہیں جن کے نام یہ ہیں: ذویب، مسور بن مخرمہ،سہل بن ابی حشمہ، ابو بردہ بن ابی موسیٰ،عروہ، اعرج ،قبیصہ بن حصن

اخلاقترميم

اخلاق میں دو چیزیں نہایت نمایاں ہیں ،حبِ رسول، اورفتنہ سے کنارہ کشی اور دونوں کے مناظر اوپر گذر چکے ہیں۔

حوالہ جاتترميم

  1. (طبقات ابن سعد:۲۰،حصہ مغازی)
  2. (بخاری طبقات ابن سعد،صفحہ:۵۷۶،۲۱،۲۲ حصہ مغازی)
  3. (طبقات :۲۷)
  4. (طبقات :۵۶)
  5. (طبقات :۶۱،۶۲)
  6. (طباقت ابن سعد:۸۷)
  7. (اسد الغابۃ،باب محمد بن یفدید ویہ:۲/۴۹۲)
  8. (بخاری،صفحہ۱۰۴،جلد اول،طبری،صفحہ۲۶۰۶)
  9. (اصابہ:۶/۶۴)
  10. (کتاب الخراج:۶۶)
  11. (کنز العمال:۳/۱۸۴)
  12. (اصابہ:۶/۶۴)
  13. (اسد الغابہ:۴/۳۳۱)
  14. (مسند:۴/۲۲۵)
  15. (اسد الغابہ)
  16. تہذیب التہذیب
  17. استیعاب:1/239
  18. (اسدالغابہ:3/310)
  19. (استیعاب:1/239)
  20. (تہذیب التہذیب:9/455)