حکیم الامت ابو الدرداء مشہور انصار صحابی ہیں، تارک الدنیا اصحاب صفہ میں سے تھے۔ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ”حكيم هذہ الأمة“ اِس اُمت کے حکیم کا لقب عطا ہوا۔[3]

ابو درداء
(عربی میں: أبو الدرداء ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Abi Al-Daardaa.JPG
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 580  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 653 (72–73 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دمشق  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ ام الدرداء الکبریٰ
ام الدرداء الصغریٰ  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد بلال بن ابو درداء  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ تاجر،  واعظ،  قاضی،  فقیہ،  محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ احد  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسب اورابتدائی حالاتترميم

عویمر نام، ابوداؤد کنیت ،قبیلہ خزرج کے خاندان عدی بن کعب سے ہیں،نسب نامہ یہ ہے، عویمربن زید بن قیس بن امیہ بن مالک بن عامر بن عدی بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج اکبر والدہ کا نام مجتہ تھا،جو ثعلبہ بن کعب کے سلسلہ سے وابستہ تھیں۔ بعثت نبوی کے زمانہ میں تجارت کسب معاش کا ذریعہ تھا،لیکن جب یہ شغل عبادت میں خلل اندا ز ہوا تو اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیر باد کہا اوررزاق کون ومکان کے سفرۂ عام پر آبیٹھے بعد میں تجارت سے ایسے دل برداشتہ ہوئے کہ فرماتے تھے مجھے اب ایسی دوکان بھی پسند نہیں جس میں ۴۰ دینار یومیہ نفع ہو جس کو روزانہ صدقہ کرتا رہوں اور نماز بھی نہ قضا ہوتی ہو،لوگوں نے کہا اس کا سبب؟ فرمایا قیامت کے حساب کا خوف ہے۔

اسلامترميم

یہ عجیب بات ہے کہ حضرت ابودرداؓ بایں ہمہ کمال عقل دوسرے اکابر انصار کے ایک سال بعد ۲ھ میں مشرف باسلام ہوئے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا اسلام تقلیدی نہ تھا ، اجتہادی تھا،ممکن ہے کہ یہ ایک سال مزید غور وفکر اورکاوش و تحقیق میں صرف ہوا ہو۔ لیکن قبول اسلام میں یہ ایک سال تاخیر تمام عمران کے لئے تکلیف دہ رہی فرمایا کرتے تھے ایک گھڑی کی خواہش نفس دیرپا غم پیدا کرتی ہے۔

غزوات اور عام حالاتترميم

غزوہ بدر میں وہ مسلمان نہ تھے، اس لئے اس میں شریک نہ تھے ،غزوہ احد حالت ایمان میں پیش آیا، اس میں نہایت سرگرمی سے حصہ لیا ،گھوڑے پر سوار ہوکر میدان میں آئے، آنحضرتﷺ نے ان کی شجاعت وبسالت کو دیکھ کر فرمایا :نعم انفارس عویمر یعنی عویمر کس قدراچھے سوار ہیں۔ احد کے علاوہ دیگر غزوات اورمشاہد میں آنحضرتﷺ کے ساتھ شرکت کی ،حضرت سلمان فارسیؓ نے اسلام قبول کیا تو آنحضرتﷺ نے ان کو ابودردا کا اسلامی بھائی تجویز فرمایا۔ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابودرداؓ نے مدینہ کی سکونت ترک کردی،کہ یہاں ہر وقت آپ کی یاد تازہ رہتی تھی،نیز ملک بملک علم اسلام کی اشاعت وارثان نبوت کا فرض تھا، آنحضرتﷺ سے انہوں نے یہ بھی سنا تھا کہ فتنہ کی آندھی میں ایمان کا چراغ شام میں محفوظ رہےگا اس بنا پر شام کے دارالحکومت دمشق کی سکونت اختیار کی۔ ان کے ترک وطن کے سلسلہ میں یہ واقعہ لائق ذکر ہے کہ سفر کی تیاری کے بعد انہوں نے حضرت عمرؓ سے ترک وطن کی اجازت چاہی، انہوں نے کہا اجازت تو نہیں دیتا،ہاں اگر حکومت کی کوئی خدمت قبول کیجئے تو منظور کرسکتا ہوں، حضرت ابودردانے کہا میں حاکم بننا ناپسند کرتا ہوں، حضرت عمرؓ نے فرمایا پھر اجازت کی امید فضول ہے ،حضرت ابودردا نے درخواست کی کہ حکومت کے بجائے لوگوں کو قرآن و حدیث سکھاؤں گا اورنماز پڑھاؤں گا، فرمایا یہ البتہ قبول ہے،چنانچہ اس ادا ئے فرض کی نیت سے شام کا سفر اختیار کیا۔

دمشق میں ان کا وقت زیادہ تر درس و تدریس ،احکام شریعت کی تلقین اور عبادت وریاضت میں گذرتا تھا، شام کے متوطن صحابہ کرام میں اکثرایسے تھے جن کی زاہدانہ اورسادہ زندگی پر شام کی خصوصیات و تکلفات کا رنگ و روغن چڑھ گیا تھا؛ لیکن حضرت ابودرداؓ برابر اپنی اصلی بے تکلفی وسادگی پر قائم رہے، حضرت عمرؓ نے شام کا سفر کیا اور یزید بن ابی سفیان ؓعمروبن عاصؓ اورابو موسیٰؓ کے مکانوں پر جا کر ملاقات کی تو سب کے شاہانہ ٹاٹھ دیکھے ،حضرت ابو درداؓ کے گھر پہنچے تو خدم وحشم نقیب وچاؤش ،تزک واحتشام ،زینت وآرائش ایک طرف، مکان میں چراغ تک نہ تھا، کشوردین و ملت کا تاجدار تاریک مکان میں ایک کمبل اوڑھے پڑا تھا، حضرت عمرؓ نے یہ حالت دیکھی توا ٓنکھوں میں پانی آگیا، پوچھا اس قدر عسرت سے زندگی گزارنے کا سبب کیا ہے؟ حضرت ابودرداؓ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ دنیا میں ہم کو اتنا سازوسامان رکھنا چاہئے جتنا ایک مسافر کے لئے درکار ہے ،آہ آنحضرتﷺ کے بعد ہم لوگ کیا سے کیا ہوگئے ،اس پر اثر فقرہ کا یہ اثر ہوا کہ دونوں بزرگوں نے روتے روتے صبح کردی۔ [4]

حضرت عمرؓ نے اپنے عہد خلافت میں تمام اکابر صحابہ کے نقد وظائف مقرر کردیئے تھے،مجاہدین بدر کی سب سے بڑی تنخواہ تھی،حضرت ابودرداؓ مجاہدین بدر میں داخل نہ تھے، لیکن حضرت عمرؓ نے ان کا وظیفہ بدریوں کے برابر مقرر کیا۔ حضرت عثمانؓ کے عہدِ خلافت میں حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت عثمانؓ کی منظوری سے ان کو دمشق کا قاضی مقرر کیا ،کبھی کبھی جب حضرت امیر معاویہؓ کو باہر جانے کی ضرورت پڑی تو وہ ان کو اپنا قائم مقام بنا جاتے،دمشق میں قضا کا یہ پہلا عہدہ تھا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ واقعہ عہدِ فاروقی کا ہے؛ لیکن یہ صحیح نہیں حافظ ابن عبدالبر نے پہلی روایت کو ترجیح دی ہے۔

اہل وعیالترميم

حضرت ابودرداؓ کے ابواب فضائل میں یہ باب بھی قابل لحاظ ہے کہ ان کے حبالۂ نکاح میں دو بیویاں آئیں اور دونوں فضل وکمال میں ممتاز تھیں ،پہلی کا نام ام درداء کبری خیرۃ بنت ابی حدرواسلمی ہے اور دوسری کا نام ام دردأ صغری ہجیمہ بنت حی وصابیہ تھا۔ ام درداء کبریٰ،مشہور صحابیہ اوربڑی فقیہ، عقلمند اورعبادت گذار بی بی تھیں ان سے حدیث کی کتابوں میں بہت سی روا یتیں مروی ہیں۔ ام درداؓ اصغری صحابیہ نہ تھیں،شوہر کے بعد بہت دنوں تک زندہ رہیں، امیر معاویہؓ نے نکاح ثانی کا پیام دیا تھا، لیکن قبول نہ کیا، اولاد کے نام حسب ذیل ہیں: بلال، یزید، درداء،نسیبہ۔ بلال ابو محمد دمشقی یزید اورخلفائے ما بعد کے عہد میں دمشق کے قاضی تھے ،عبدالملک نے اپنے زمانہ میں معزول کیا ۹۲ھ میں وفات پائی۔ درداء صفوان بن عبداللہ بن صفوان بن امیہ بن حلف قرشی سے منسوب تھیں جو معزز تابعی اورمکہ کے ایک جلیل القدر خاندان کی یادگار تھے۔

حلیہترميم

حلیہ یہ تھا، جسم خوبصورت،ناک اٹھی ہوئی، آنکھیں شربتی،ڈاڑھی اور لباس عربی تھا، قلنسوہ ایک قسم کی ٹوپی پہنتے ،عمامہ باندھتے تواس کا شملہ پیچھے لٹکاتے تھے۔

وفاتترميم

اوپر گذرچکا ہے کہ حضرت ابودرداؓ مسافرانہ زندگی بسر کرتے تھے،ہجرت کا بتیسواں ۳۲ھ سال تھا کہ یہ مسافر کاروان سرائے عالم سے وطن مالوف کو سدھارا۔ وفات کا واقعہ عجیب حسرتناک تھا، حضرت ابودرداء گریہ وزاری میں مصروف تھے،ام دردا (بیوی کا نام ہے) نے کہاآپ صحابی ہوکر روتے ہیں؟ حضرت ابودرداءؓ نے فرمایا کیوں نہ روؤں ،خدا معلوم گناہوں سے کیونکر چھٹکارا ہو،اسی حالت میں بلال کو بلایا اورفرمایا دیکھو! ایک دن تم کو بھی یہ واقعہ پیش آنا ہے، اس دن کے لئے کچھ کر رکھنا،موت کا وقت قریب آیا تو جزع وفزع کی کوئی انتہا نہ تھی ،ایمان کے متعلق کہا گیا ہے کہ خوف و رجاء کے درمیان ہوتا ہے، حضرت ابودرداء ؓ پر خوف الہی کا نہایت غلبہ تھا،بیوی کے جو پاس بیٹھی تسکین دے رہی تھیں کہا تم موت محبوب رکھتے تھے،پھر اس وقت پریشانی کیوں ہے؟فرمایایہ سچ ہے؛لیکن جس وقت سے موت کا یقین ہوا سخت پریشانی ہے یہ کہہ کر روئے،پھرفرمایا: یہ میرا اخیرت وقت ہے ،کلمہ پڑھاؤ ،چنانچہ لوگ کلمہ کی تلقین کرتے رہے اور حضرت ابو درداؓاس کو دہراتے رہے،یہاں تک کہ روح مطہر نے آخری سانس لی۔

وفات سے کچھ دن پیشتر حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام ان کے پاس علم حاصل کرنے کے لئے آئے تھے، لیکن اس وقت حضرت ابودردأ بستر مرض پرتھے،پوچھا کیسے آئے،عرض کیا میرے والد اورآپ میں جو ارتباط تھا اس کی وجہ سے زیارت کو حاضر ہوا ،فرمایا جھوٹ بھی کیا بری شے ہے،لیکن جو شخص استغفار کرلے تو معاف ہو جاتا ہے۔ [5] حضرت یوسفؓ ان کی وفات تک مقیم رہے،انتقال سے پہلے یوسف کو بلا کر کہا کہ لوگوں کو میری موت کی خبر کردو، اس خبر کا مشتہر ہونا تھا کہ آدمیوں کا طوفان امنڈآیا،گھر سے باہر تک آدمی تمام مجمع کو مخاطب کرکے ایک حدیث بیان کی ،[6] اللہ اکبر! اشاعت حدیث کا جوش اس وقت بھی قائم تھا۔

فضل وکمالترميم

حضرت ابودرداؓ کا شمار علمائے اصحاب میں ہے،صحابۂ کرام ان کو نگاہ عظمت سے دیکھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہا کرتے تھے کہ دونوں باعمل عالموں کا کچھ ذکر کرو(معاذ اور ابودردا) یزید بن معاویہ کا قول تھا کہ ابودرداؓ کا علم وتفقہ بہت سے امراض جہل کو شفا بخشتا ہے، معاذ بن جبل نے وفات کے وقت وصیت کی تھی کہ ابودرداءؓ سے علم سیکھنا،کیونکہ ان کے پاس علم ہے ، حضرت ابوذر غفاریؓ نے ابودرداؓ سے خطاب کرکے کہا تھا کہ" ماحملت ورقاء ولا اظلت خضراء علم منک یا ابا الدردا" یعنی زمین کے اوپر اورآسمان کے نیچے تم سے کوئی بڑا عالم نہیں،مسروق جو بڑے جلیل القدر تابعی اوراپنے زمانہ کے امام تھے کہتے ہیں کہ میں نے تمام صحابہ کا علم چھ شخصوں میں مجتمع پایا، جس میں ایک ابودرداؓ ہیں ،یہی سبب ہے کہ گو حجاز میں بڑے بڑے صحابہ مسند امامت پر متمکن تھے،تاہم وہاں سے بھی طالبین جوق درجوق ان کے آستانہ کا رخ کرتے تھے۔

درس کے وقت تشنگان علم کا بڑا ہجوم رہتا تھا، مکان سے نکلتے تو طلبہ کا مجمع رکاب میں ساتھ ہوتا ایک روز مسجد جارہے تھے پیچھے لوگوں کا اتنا اژدہا م تھا کہ موکب شاہی کا دھوکا ہوتا تھا، اس مجمع کا ہر فرد کسی نہ کسی مسئلہ کا سائل ہوکر آیا تھا۔ حضرت ابودرداؓ کی تعلیم کا یہ طرز تھا کہ فجر کی نماز پڑھ کر جامع مسجد میں درس کے لئے بیٹھ جاتے تھے شاگردان کے گرد ہوتے اور مسائل پوچھتے وہ جواب عنایت فرماتے تھے ۔

درس قرآنترميم

حضرت ابودرداؓ اگرچہ فقہ وحدیث میں بھی ممتا ز تھے،لیکن ان کا اصل سرمایہ قرآن مجید کا درس و تعلیم تھا وہ ان لوگوں میں تھے جو خود آنحضرتﷺ کی زندگی میں پورے قرآن کے حافظ تھے ،اسی بنا پر حضرت عمرؓ نے شام میں قرآن مجید کی تعلیم اشاعت کے لئے نامزد فرمایا، دمشق کے جامع عمری میں یہ قرآن کا درس دیتے تھے اور گویا یہ قرآن کا ایک مدرسۂ اعظم بن گیا تھا، حضرت ابودرداء ؓ کے ماتحت اور مدرسین بھی تھے، طلبہ کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز تھی دور دور سے لوگ آ آکر شریک درس ہوتے تھے۔ نماز صبح کے بعد دس دس آدمیوں کی علیحدہ علیحدہ جماعت کردیتے تھے اور ہر جماعت ایک قاری کے زیر نگرانی ہوتی تھی ،قاری قرآن پڑھاتے اور خود ٹہلتے جاتے اورپڑہنے والوں کی طرف کان لگائے رہتے تھے، جب کسی طالب علم کوپورا قرآن یاد ہوجاتا تو اس کو خود اپنی شاگردی میں لے لیتے ،یہ مدرسین جب طلبہ کے کسی سوال کا جواب نہ دے سکتے تو وہ مرکز درس کی طرف رجوع کرتے۔

طلبہ کا درس میں اتنا ہجورم رہتا تھا کہ ایک روز شمار کرایا تو سولہ سو طالب العلم حلقۂ درس میں نکلے۔ دارالقرا کے ممتاز اصحاب میں ابن عامر یحصی،ام درداء،صغریٰ،خلیفہ بن سعد، راشد ابن سعد، خالد بن سعدان تھے، ان میں سے اول الذکر بزرگ ولید بن عبدالملک کے زمانہ میں اہل مسجد کے رئیس تھے، ام درداء حضرت ابودرداءؓ کی زوجہ قرأت میں یگانہ روزگار تھیں، قرأت کا فن اپنے شوہر سے سیکھا تھا، عطیہ بن قیس کلابی کو انہی نے قرأت سکھائی تھی، خلیفہ بن سعد کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ صاحب ابی الدرداؓ کہتے تھے اور شام کے مشہور قاریوں میں ان کا شمار ہوتا تھا، باقی بزرگوں کو یہ شرف حاصل تھا کہ انہوں نے خود حضرت ابودرداء کو قرآن سنایا تھا اوران کے خاص تلامذہ میں داخل تھے۔

تفسیرترميم

علم تفسیر کا سرمایہ جن صحابہ سے جمع ہوا اگرچہ حضرت ابو درداءؓ کا نام نامی ان میں شامل نہیں تاہم ان میں سے متعدد آیتوں کی تفسیریں مروی ہیں، ان کا قول تھا:"لا یفقہ الرجل کل الفقہ حتی یجعل للقرآن وجوھا!" یعنی انسان تاوقتیکہ قرآن میں مختلف پہلو پیدا نہ کرے فقیہ نہیں ہوسکتا۔ مشکل آیتوں کے مطالب خود آنحضرتﷺ سے دریافت فرماتے تھے،ایک روز دریافت کیا یا رسول اللہ ! " الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ، لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا" جو لوگ ایمان لائے اور تقوی اختیار کیا ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی خوشخبری ہے۔ اس آیت میں خوشخبری سے کیا مراد ہے،آنحضرت ﷺ نے فرمایا "رویا ئے صالحہ"(سچے خواب) خواہ خود دیکھے یا کوئی دوسرا شخص اس کے متعلق دیکھے۔ [7]

خود ابودرداء سے جب کسی آیت کی تفسیر کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ نہایت شافی جواب دیتے تھے،ایک شخص نے سوال کیا کہ "وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ"(اور جوشخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سےڈرےاس کے لیے دو جنتیں ہیں) میں زانی اورسارق بھی داخل ہیں؟ فرمایا کہ اپنے رب کا خوف ہوتا تو زنا اور چوری کیوں کرتا؟۔ [8] سورہ قلم میں ایک کافر کے متعلق ہے۔ "عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ"(بد مزاج ہے اور اس کے علاوہ نیچے نسب والا بھی)لفظ عتل کے معنی مختلف مفسروں نے مختلف بیان کئے ہیں ،حضرت ابودرداءؓ نے یہ جامع معنی بیان فرمائے ہیں:کل رحیب الجوف ویثق الحلق اکول شروب جموع للمال منوع لہ (بڑے پیٹ اورمضبوط حلق والا کثیر الغذاء کثیر الشراب،مال جمع کرنے والا اورنہایت نجیل ) [9] سورۂ طارق میں ہے "یوم تبلیٰ السرائر" (جس دن تمام پوشیدہ باتوں کی جانچ ہوگی)زبان کے لحاظ سے سرائر کے معنی مطلقاً پوشیدہ شئے کےہیں، جن میں عقائد نیات یا جوارح کے اعمال کی کوئی قید نہیں،حضرت ابودرداءؓ نے موقع ومحل کے لحاظ سے اس تعمیم میں کسی قدر تخصیص کردی، چنانچہ فرمایا: خدا نے چار چیزوں کا بندوں کو ضامن قرار دیا ہے،نماز، زکوٰۃ،روزہ، طہارت سرائرانہی چیزوں کا کہتے ہیں۔ [10]

حدیثترميم

کلام الہی کی تعلیم وخدمت کے بعد صحابہؓ کا سب سے مقدم فرض حدیث نبوی کی نشر واشاعت تھا، حضرت ابو درداءؓ نے اس فرض کو بھی پوری طرح انجام دیا۔ ایک دفعہ انہوں نے سعد ان بن طلحہؓ سے ایک حدیث بیان کی مسجد دمشق میں حضرت ثوبان ؓ جو آنحضرتﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے،تشریف لائے تو سعدانؓ نے توثیق مزید کی غرض سے ان سے اس حدیث کے متعلق استفسار کیا حضرت ثوبانؓ نے فرمایا کہ ابودرداء نے بالکل صحیح کہا میں خود اس واقعہ کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا۔ [11] حضرت معاذؓ نے اپنی وفات کے وقت ایک حدیث بیان کی تھی اور فرمایا تھا کہ شہادت کی ضرورت ہو تو عویمر بن زید (ابودرداء) موجود ہیں، ان سے دریافت کرنا لوگ حضرت ابوالدرداءؓ کے پاس پہنچے،انہوں نے حدیث سن کر فرمایا میرے بھائی (معاذ) نے سچ کہا۔ [12]

صحابہ جب مل کر بیٹھتے تو آپس میں احادیث نبویﷺ کا مذاکرہ فرماتے،حضرت ابودرداءؓ بھی ان مجلسوں میں شریک رہتے تھے کبھی کبھی خود بھی مذاکرہ کی ابتدا فرماتے تھے۔ ایک مجمع میں حضرت ابودرداءؓ ، عبادہ بن صامتؓ ،حرث بن معویہ کندی اور مقدام ابن معدی کرب تشریف فرماتھے حدیثوں کا ذکر آیا، حضرت ابو درداءؓ نے حضرت عبادہؓ سے کہا کہ فلاں غزوہ میں آنحضرتﷺ نے خمس کے متعلق کچھ ارشاد فرمایا تھا؟ آپ کو یاد ہے؟ حضرت عبادہؓ نے پورا واقعہ بیان کیا۔ حضرت ابودرداءؓ کی پوری زندگی کلام الہی اورحدیث نبویﷺ کی تعلیم واشاعت میں صرف ہوئی جس وقت روح مطہر عالم فنا سے عالم بقا کو پرواز کررہی تھی اس وقت بھی آپ نے اہل شہر کو جمع کرکے نماز کے متعلق آخری وصیت سنائی۔ [13]

حضرت ابودرداؓ نے حدیث کا اکتساب زیادہ تر خود ذات اقدس نبوی سے کیا تھا آپ کی وفات کے بعد بعض روایتیں حضرت زیدؓ بن ثابت اورحضرت عائشہؓ سے بھی سنی تھیں، تلامذہ اور راویان حدیث کا دائرہ مختصر تھا،صحابہ میں سے متعد بزرگ ان کے حلقہ حدیث سے بھی مستفید ہوئے جن کے نام نامی یہ ہیں۔ حضرت انس بن مالکؓ، فضالہ بن عبیدؓ، ابوامامہؓ، عبداللہ بن عمرؓ، عبداللہ عباسؓ، ام درداءؓ تابعین میں سے اکثر اعیان واجلائے علم ان کے شرف تلمذ سے بہرہ یاب تھے بعض کے نام یہ ہیں۔ سعید بن مسیب،بلال بن ابودرداء،علقمہ بن قیس، ابو مرہ مولی ام ہانی، ابو ادریس خولی، جبیر بن نضیر، سوید ابن فضلہ، زید بن وہب، معدان بن ابی طلحہ، ابو حبیبہ طائی،ابوالسفر ہمدانی، ابو سلمہ ابن عبدالرحمن، صفوان بن عبداللہ،کثیر بن قیس، ابو بحریہ عبداللہ بن قیس ،کثیر بن مرہ، محمد بن سیرین، محمد بن سوید ابی وقاص، محمد بن کعب، قرظی ہلال بن یساف وغیرہم۔ حضرت ابودرداءؓ کے سلسلہ سے جو روایات احادیث میں مدون ہیں،ان کی تعداد ۱۷۹ ہے جن میں سے بخاری میں ۱۳ اور مسلم میں ۸ مندرج ہیں۔

فقہترميم

مسائل فقہ میں بھی ان کا ایک خاص درجہ ہے،لوگ دور دراز مسافت طے کرکے ان سے مسائل پوچھنے آتے تھے؛ چنانچہ ایک بزرگ کوفہ سے دمشق صرف ایک مسئلہ دریافت کرنے آئے۔ مسئلہ یہ تھا کہ شخص مذکور شادی پر رضا مندنہ تھا، اس کی والدہ نے جبراً شادی کردی ،شادی کے بعد میاں بیوی میں محبت زیادہ بڑھ گئی، اس وقت ماں نے کہا کہ اس کو طلاق دے دو، اب طلاق کے لئے آمادہ نہ ہوا، حضرت ابودرداؓ نے فرمایا کہ میں کسی شق کی تعیین نہیں کرتا نہ طلاق دینے کا حکم دیتا ہوں اورنہ والدہ کی نافرمانی جائز سمجھتا ہوں تمہارا دل چاہے تو طلاق دیدویا موجودہ حالت پر قائم رہو،لیکن یہ یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ماں کو جنت کا دروازہ کہا ہے۔ [14] ابو حبیبہ طائی نے استفسار کیا کہ میرے بھائی نے چند دینار فی سبیل اللہ دئے تھے اور مرتے وقت وصیت کی تھی کہ میں ان کو کسی مصرف میں صرف کردوں اب فرمائیے کہ سب سے بہتر مصرف کونسا ہے؟حضرت ابودرداءؓ نے جواب دیا کہ میرے نزدیک مجاہدین سب سے بہتر ہیں۔ [15]

اخلاق وعاداتترميم

حضرت ابودرداءؓ فطرۃ نہایت نیک مزاج اورصالح تھے،اسلام کی تعلیم نے اس طلاء کو اورخالص بنادیا تھا،حضرت ابوذرغفاریؓ تمام صحابہ میں سب سے زیادہ حق گو اورحریت مجسم تھے اور ابتداء شام میں رہتے تھے،یہاں بہت کم لوگ ان کی سخت گیری سے محفوظ تھے ،امیر معاویہؓ وغیرہ کو برسردربار ٹوک دیتے تھے،ابودرداءؓ کی نسبت خود ان سے انہوں نے کہا کہ اگر آپ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ بھی پاتے اورآنحضرتﷺ کے بعد اسلام لاتے تب بھی صالحین اسلام میں آپ کا شمار ہوتا، [16] اس سے زیادہ حضرت ابوالدردا کی طہارت اخلاق کا کیا ثبوت ہوسکتا ہے۔ باایں ہمہ کہ وہ بساط نبوت کے حاشیہ نشین تھے، خالق کون ومکان کے جلال وجبروت کا تخیل ان کے جسم میں رعشہ پیدا کردیتا تھا، ایک روز منبر پر کھڑے ہوکر خطبہ دیا تو فرمایا کہ میں اس روز سے بہت خائف ہوں جب خدا مجھ سے پوچھے گا کہ تم نے اپنے علم کے مطابق کیا عمل کیا؟ قرآن مجید کی ہر آیت پیکر امروز جر بن کر نمودار ہوگی اورمجھ سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اوامر کی کیا پابندی کی، آیۃ آمرہ کہے گی کہ اس نے کچھ نہیں کیا، پھر سوال ہوگا کہ نواہی سے کہاں تک پرہیز کیا، آیۃ زاجرہ بولے گی بالکل نہیں لوگو! کیا میں اس وقت چھوٹ جاؤں گا؟ عبادات میں قیام لیل اورنماز پنجگانہ کے علاوہ ۳ چیزوں کی نہایت سختی سے پابندی کرتے تھے ہر ماہ میں ۳ دن روزہ رکھتے، وتر پڑہتے اور حضروسفر میں چاشت کی نماز ادا کرتے ،ان چیزوں کے متعلق آنحضرتﷺ نے ان کو وصیت فرمائی تھی۔ [17] ہر فرض نماز کے بعد تسبیح پڑہتے تھے،تسبیح ۳۳ مرتبہ ،تحمید ۳۳ مرتبہ، تکبیر ۳۴ مرتبہ ۔ [18]

حضرت ابودرداءؓ کی زندگی زاہدانہ بسر ہوتی تھی وہ دنیا ئے دوں کی دلفریبیوں اور عالم فانی کے تکلفات سے ملوث نہ تھے ،فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو دنیا میں ایک مسافر کی حیثیت سے رہنا چاہیے۔ ایک دفعہ حضرت سلمان فارسیؓ ان سے ملنے ان کے گھرآئے، یہ دونوں مواخاۃ کے قاعدے سے بھائی بھائی تھے،بھاوج کو دیکھا تو نہایت معمولی وضع پایا، سبب پوچھا تو نیک بی بی نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابوالدرداءؓ دنیا سے بے نیاز ہوگئے ہیں، ان کو اب ان چیزوں کی کچھ پروا نہیں، حضرت ابو درداء آئے، سلمانؓ کو مرحبا کہا اورکھانا پیش کیا سلمانؓ نے کہا آپ بھی آئیے،حضرت ابودردأ نے کہا میں تو روزہ سے ہوں، سلمانؓ نے قسم کھا کر کہا آپ کو میرے ساتھ کھانا ہوگا ورنہ میں بھی نہ کھاؤں گا، رات کو سلمانؓ نے انہی کے مکان میں قیام کیا تھا، حضرت ابودرداءؓ نماز کے لئے اٹھے، حضرت سلمانؓ نے روک لیا، اور فرمایا بھائی آپ پر خدا کا بھی حق ہے، بیوی کا بھی اوراپنے بدن کا بھی ،آپ کو ان سب کا حق ادا کرنا چاہئے صبح کا تڑکا ہوا تو حضرت سلمانؓ نے ابو دردا کو جگایا اورکہا اب اٹھو، دونوں بزرگوں نے نماز پڑھی، اس کے بعد ادائے دوگانہ کے لئے مسجد نبویﷺ گئے،حضرت ابودرداءؓ نے آنحضرتﷺ سے سلمانؓ کا واقعہ بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ سلمانؓ نے ٹھیک کہا وہ تم سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ [19]

امر بالمعروف تمام تربیت یافتگان نبوت کافرض تھا،حضرت ابودرداءؓ بھی اس فرض سے غافل نہ تھے، امیر معاویہ نے کوئی چاندی کا برتن خریدا جس کی قیمت میں چاندی کے وزن سے کم و بیش روپے مالک کو دئے، اسلام میں یہ ناجائز ہے، حضرت ابودرداء نے فوراً ٹوکا،معاویہ!یہ درست نہیں، رسول اللہ ﷺ نے چاندی سونے میں برابر سرابر کا حکم دیا ہے۔ [20] یوسف بن عبداللہ بن سلام ان کے پاس شام گئے سفر کا مقصد تحصیل علم تھا یہ وہ ساعت تھی، جب حضرت ابودرداءؓ مرض الموت میں گرفتار تھے،یوسف سے پوچھا کیسے آئے؟ انہوں نے کہا آپ کی زیارت کو،یوسف نے یہ بات چونکہ واقعہ کے خلاف کہی تھی حضرت ابودرداءؓ نے فرمایا جھوٹ بولنا بڑی بری بات ہے۔ [21]

امیر معاویہؓ نے حضرت ابوذرؓ کو شام سے جلا وطن کردیا،حضرت ابودرداءؓ کو راستہ میں خبر ملی تو دس مرتبہ اناللہ پڑھا اور کہا کہ اب ان لوگوں کا بھی انتظار کرو، جیسا کہ اصحاب ناقہ کے بارہ میں کہا گیا تھا، اس کے بعد نہایت جوش میں فرمایا خدایا! ان لوگوں نے ابوذر کو جھٹلایا؛ لیکن میں نہیں جھٹلاتا ہوں، لوگوں نے ان کو متہم کیا، لیکن میں نہیں کرتا اوران لوگوں نے ان کو خارج البلد کیا، لیکن میں نے اس رائے میں شرکت نہیں کی، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے برابر کسی کو زمین پر نہیں سمجھتے تھے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابودرداءؓ کی جان ہے اگر ابوذر میرا ہاتھ بھی کاٹ ڈالیں تو بھی میں ان سے بغض نہ رکھوں،آنحضرتﷺ نے فرمایا اورمیں نے سنا تھا کہ مااظلت الخضراء ولا اقلت الغبراء من ذی الحجۃ اصدق من ابی ذر ؓ آسمان کے نیچے اورزمین کے اوپر ابوذرؓ سے زیادہ سچا کوئی نہیں۔

آنحضرتﷺ نے ایک دن فرمایا کہ جو شخص توحید کا قائل ہو وہ جنتی ہے، حضرت ابوذرؓ نے عرض کیا،خواہ زانی اورچور کیوں نہ ہو؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہاں، یہ ایک ایسی خوشخبری تھی جو سب مسلمانوں کو سنانی چاہیے تھی،ابودرداءؓ تین مرتبہ پوچھ کر مسلمانوں کو یہ مژدہ ٔ نجات سنانے چلے، راستہ میں حضرت عمرؓ سے ملاقات ہوئی انہوں نے منع کیا کہ اس اعلان سے لوگ عمل چھوڑ بیٹھیں گے،حضرت ابودرداءؓ نے آنحضرتﷺ سے عرض کیا،آپ نے فرمایا کہ عمرؓ نے صحیح کہا۔ [22]

ایک روز مکان میں تشریف لائے چہرہ سے غیظ و غضب عیاں تھا، بیوی نے پوچھا کیا حال ہے؟ فرمایا خدا کی قسم ،رسول اللہ ﷺ کی ایک بات بھی باقی نہیں رہی لوگوں نے سب چھوڑدیا،صرف نماز باجماعت پڑہتے ہیں۔ [23] ایک مرتبہ سعدان بن ابی طلحہؓ العمری کو دیکھا پوچھا آپ کا مکان کہاں ہے؟ انہوں نے کہا گاؤں میں مگر گاؤں شہر کے قریب ہے فرمایا تو تم شہر میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ جس مقام پر اذان یا نماز نہ ہوتی ہو وہاں شیطان کا دخل ہوجاتا ہے، دیکھو بھیڑیا اس بکری کو پکڑتا ہے جو گلہ سے دور رہتی ہے۔ [24]

تمام مسلمان ان کا نہایت ادب کرتے تھے، غیظ وغضب کے عالم میں بھی جو کچھ کہہ دیتے تھے لوگ دل سے لگالیتے تھے، ایک دفعہ ایک قریشی نے ایک انصار کا دانت توڑدیا امیر معاویہؓ کے سامنے مقدمہ پیش ہوا، امیر معاویہؓ نے کہا کہ ٹھیرو، میں انصاری کو رضا مند کروں گا، لیکن انصاری طالب قصاص تھا وہ راضی نہ ہوا، امیر معاویہؓ نے کہا یہ ابودرداءؓ بیٹھے ہیں جو فیصلہ کردیں، اس کو مان لینا، حضرت ابودرداءؓ نے ایک حدیث پڑھی کہ جو شخص کسی جسمانی تکلیف پہنچنے پر ایذا دہندہ کو معاف کردے تو اس کے مراتب بلند اوراس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، اس حدیث کے سنتے ہی انصاری جو مجسمہ قہر وغضب تھا پیکر تسلیم ورضا بن گیا، حضرت ابودرداءؓ سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں، انصاری نے کہا تو میں معاف کرتا ہوں۔ [25]

فساد وشر سے دور بھاگتے تھے ،شام کا ملک حجاز سے کسی حال میں بہتر نہ تھا؛ لیکن فتنوں کے زمانہ میں شام ایک حکومت کے ماتحت بہر حال قائم رہا اور حجاز میں ہر سال نئی فوج کشی کا سامنا تھا، حضرت ابودرداءؓ کی سکونت شام کا یہی سبب تھا، فرماتے تھے کہ جس مقام پر دو آدمی ایک بالشت زمین کے لئے منازعت کریں میں اس کو بھی چھوڑدینا زیادہ پسندکرتا ہوں۔ [26] نہایت ہشاش بشاش رہتے تھے، لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے، گفتگو کے وقت لب مبارک پر تبسم ظاہر ہوتا تھا، ام دردا تبسم کو خلاف وقار سمجھتی تھیں،ایک دن کہا کہ تم ہر بات پر مسکراتے ہو، کہیں لوگ بیوقوف نہ بنائیں، حضرت ابودرداء نے فرمایا کہ خود رسول اللہ ﷺ بات کرتے وقت تبسم فرماتے تھے۔ [27] مزاج فطرۃ سادہ تھا،مسجد دمشق میں خود اپنے ہاتھ سے درخت لگاتے تھے،لوگ دیکھتے تو تعجب کرتے کہ آغوش پروردۂ نبوت اورامام حلقہ مسجد ہوکر اپنے ہاتھ سے ایسے چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہیں؛ لیکن ان کو اس کی کچھ پروانہ تھی،ایک شخص نے ان کو اس حالت میں دیکھا تو بڑے تعجب سے پوچھا کہ آپ خود یہ کام کرتے ہیں؟ حضرت ابودرداءؓ نے اس کے تعجب کو ان الفاظ سے زائل کیا کہ اس میں بڑا ثواب ہے۔ [28]

بڑے فیاض اورمہمان نواز تھے، تنگدستی کے باوجود مہمانوں کی خدمت گذاری میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے تھے،اکثر ان کے ہاں لوگ ٹھہرا کرتے تھے، جب کوئی مہمان آتا حضرت ابودرداءؓ دریافت کراتے کہ قیام کرنے کا ارادہ ہے یا جانے کا، جانے کا قصد ہوتا تو مناسب زادراہ بھی ساتھ کردیتے تھے۔ [29] بعض لوگ ہفتوں قیام کرتے،[30] حضرت سلمان فارسی جب شام آتے تو انہی کے ہاں قیام فرماتے ۔ دل کے نرم تھے، ایک دن کسی طرف جارہے تھے کہ دیکھا کہ ایک شخص کو لوگ گالی دے رہے ہیں پوچھا تو معلوم ہوا کہ اس نے کوئی گناہ کیا تھا، حضرت ابودرداءؓ نے کہا کہ ایک شخص کنوئیں میں گرے تو اس کو نکالنا چائیے،گالی دینے سے کیا فائدہ؟ اسی کو غنیمت سمجھو کہ تم اس سے محفوظ رہے لوگوں نے عرض کیا کہ آپ اس شخص کو برا نہیں جانتے؟ فرمایا اس شخص میں طبعا تو کوئی برائی نہیں البتہ اس کا یہ عمل برا ہے،جب چھوڑدے گا تو پھر میرا بھائی ہے۔ [31] طبیعت میں استغنا اوربے نیازی بھی تھی،عبداللہ بن عامر شام آیا تو بہت سے صحابہ اپنے وظائف لینے گئے،لیکن حضرت ابودرداءؓ اپنی جگہ سے بھی نہ ہلے،عبداللہ خود ان کا وظیفہ لے کر ان کے مکان پر آیا اورکہا کہ آپ تشریف نہیں لائے، اس لئے میں خود وظیفہ لے کر حاضر ہوا ہوں انہوں نے جواب دیا کہ تم سے زیادہ خدا کے نزدیک کوئی ذلیل نہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا تھا کہ جب امراء اپنی حالت بدل لیں تو تم بھی اپنے کو بدلو۔ [32]

حوالہ جاتترميم

  1. عنوان : Абу ад-Дарда
  2. عنوان : Абу ад-Дарда
  3. سیر اعلام النبلاء از شمس الدین ذہبی ج 2
  4. (کنزالعمال:۷/۷۸،بحوالہ بشکری)
  5. (مسند:۶/۴۵۰)
  6. (مسند:۶/۴۴۳)
  7. (مسند ابوداؤد،طیالسی:۱۳۱)
  8. (کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر:۲۶۷)
  9. (کنزل العمال بحوالہ ابن دویہ :۱/۱۵۶)
  10. (کنزالعمال بحوالہ بیہقی:۱/۱۵۷)
  11. (مسند:۶/۴۴۳)
  12. (مسند:۶/۴۴۳)
  13. (مسند:۶/۴۴۳)
  14. (مسند:۵/۹۸)
  15. (مسند:۵/۹۸)
  16. (مسند عبادہ:۵/۱۴۷)
  17. (کنز العمال،جلد۷،بحوالہ ابن عساکر)
  18. (مسند:۶/۴۴۰)
  19. (بخاری عن ابی جحیفہ)
  20. (مسند:۶/۴۴۰)
  21. (مسند:۶/۵۲)
  22. (مسند:۲/۴۱۰)
  23. (مسند:۵/۱۹۵)
  24. (مسند:۶/۴۴۵)
  25. (مسند:۴۴۸)
  26. (مسند ابوداؤد طیالسی:۱۳۱)
  27. (مسند :۶/۴۴۸)
  28. (مسند:۴۴۴)
  29. (مسند:۱۹۶)
  30. (مسند:۱۹۷)
  31. (اسد الغابہ:۴/۱۶۰)
  32. (کنزالعمال:۲/۱۷۱)