اکادمی ادبیات پاکستان

اکادمی ادبیاتِ پاکستان پاکستانی زبانوں کے فروغ کے لیے قائم شدہ ادارہ ہے جس کا قیام 1976ء میں مرحوم صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں ہوا۔ پاکستانی زبانوں کے فروع کے لیے سرگرم عمل اس ادارے کا صدر دفتر اسلام آباد میں واقع ہے۔

اکادمی ادبیات پاکستان
Pakistan Academy of Letters.JPG
مخففPAL
قیامجولائی 17، 1976؛ 43 سال قبل (1976-07-17)[1]
قانونی حیثیتپاکستان کا قومی ادارہ[1]
نصب العینادبی اور متعلقہ کاموں کی اشاعت، مصنفی و ادبی مباحثوں کا فروغ۔[1]
صدر دفاتراکادمی ادبیات سیکٹیریٹ
مقام
خطہserved
عالمگیر
باضابطہ زبان
انگریزی اور اردو
کرسی نشین
پروفیسر۔ ڈاکٹر۔ محمد قاسم بگھیو
نمائندہ میڈیا
اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، اور بورڈ آف گورنر
ویب سائٹhttp://pal.gov.pk/

صدر نشینترميم

اکادمی ادبیات پاکستان کے موجودہ صدر نشین سید جنید اخلاق ہیں۔

اکادمی کی مطبوعاتترميم

اکادمی ادبیات پاکستان نے پاکستانی ادب کے فروغ کے سلسلہ میں مختلف موضوعات پر بہت سی ادبی وتحقیقی اور ترجمہ شدہ کتب شائع کی ہیں۔ ان کتب میں پاکستان اور پاکستان سے باہر رہنے والے بہت سے ادیبوں کا تحقیقی اورتخلیقی کام شامل ہے۔ "پاکستانی ادب کے معمار" کے عنوان سے اکادمی ادبیات پاکستان نے بہت سے ادیبوں کی شخصیت اور فن کے حوالہ سے متعدد کتب شائع کی ہیں۔ نیز اس ادارہ نے "انتخاب پاکستانی ادب، سال بہ سال" کے حوالہ سے نثر اور شاعری پر بہت سی کتابیں بھی شائع کی ہیں۔ علاوہ ازیں یہ ادارہ پاکستانی ادب کی سال بہ سال کتابیات بھی شائع کرتا ہے۔

اکادمی کا کتب خانہترميم

اکادمی ادبیات پاکستان کا کتب خانہ چالیس ہزار سے زائد ذخیرہ کتب پر مشتمل ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ

بیرونی روابطترميم