اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد

اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد (انگریزی: Akhil Bharatiya Vidyarthi Parishad) یا آل انڈین سٹوڈنٹس کونسل دائیں بازو کے طلبہ کی تنظیم ہے اور راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ تنظیم بھارت کی سب سے بڑی طلبہ تنطیم ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، جس کے ارکان کی تعداد 3 ملین ہے۔

اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد
مخفف ABVP
ملک Flag of India.svg ہندوستان  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صدر دفتر ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
تاریخ تاسیس 9 جولائی 1949 (72 سال قبل) (1949-07-09)
قسم طلباء کی تنظیم
خدماتی خطہ بھارت
جدی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ
باضابطہ ویب سائٹ www.abvp.org

تاریخترميم

اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد کا قیام 1948 کو عمل میں آیا۔ اسے آر ایس ایس کے ایکٹیویسٹ بلراج مدہوک نے قائم کیا۔ اس کی رجسٹریشن 9 جولائی 1949 کو ہوئی۔ اس کا بنیادی مقصد یونیورسٹی کے کیمپسوں میں کمیونسٹ اثر و نفوذ کو کم کرنا تھا۔ بمبئی کے ایک لیکچرر پروفیسر یشوانتراؤ کیلکار 1958 میں اس کے مرکزی منتظم بنے۔ اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد کی ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے اس تنظیم کو اس سانچے میں ڈھالا، جس میں یہ آج نظر آتی ہے۔1961 کے بعد سے اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد کی بہت سی شاخیں ہندو-مسلم فسادات میں شامل رہی ہیں۔تاہم 1970 کی دہائی میں اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد نے نچلی درمیانی کلاس کے مسائل جیسے کرپشن حکومتی کاہلی پر بھی آواز اٹھانا شروع کر دی ہے۔ 1974 تک اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد کے 790 کیمپس میں 1 لاکھ 60 ہزار ارکان ہو چکے تھے۔ انہوں نے الیکشن کے ذریعے بہت سی یونیورسٹیوں میں کنٹرول حاصل کر لیا۔ان میں یونیورسٹی آف دہلی بھی شامل ہے۔1983 تک اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد کے اراکین کی تعداد 2 لاکھ 50 ہزار اور اس کی شاخوں کی تعداد 1100 ہو چکی تھی۔ 1990 کی دہائی میں بابری مسجد کے گرائے جانے کے بعد اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد کو بہت زیادہ حمایت ملی۔ 2003 میں یونائیٹڈ پروگریسو ایلائنس کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے کافی ترقی کی۔ 2016 میں اس کے اراکین کی تعداد 3.175 ملین بتائی جاتی ہے۔اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد بھارت کی سب سے بڑی طلبہ کی تنظیم ہونے کی دعوے دار ہے۔

سرگرمیاںترميم

  • 5 جنوری 2020: جوہرلعل نہرو یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے مطابق اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد کے نقاب پوش اراکین نے جے این یو کےطلباء پر حملہ کیا۔انہوں نے کاریں توڑ اور پتھر مارے۔اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد نے اس واقعے کے لیے بائیں بازو کی جماعت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس واقعے میں طلبہ اور اساتذہ سمیت 28 افراد زخمی ہوئے۔

حوالہ جاتترميم

  1. "Enrolled 10 lakh new members in last one year: ABVP". دی انڈین ایکسپریس (بزبان انگریزی). 3 جون 2015. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2019. 

بیرونی روابطترميم