اک ڈاکٹر کی موت (انگریزی: Ek Doctor Ki Maut) بالی وڈ کی 1990ء کی فلم ہے۔ یہ فلم ڈاکٹرسبھاش مکھپادھیائے کی زندگی پر بنائی گئی ہے۔

اک ڈاکٹر کی موت
Ek Doctor Ki Maut.jpg
تھیٹر کے لیے پوسٹر
ہدایت کارتپن سنہا
پروڈیوسرNational Film Development Corporation of India
تحریرRamapada Chowdhury
(story, Abhimanyu)
تپن سنہا
(screenplay)
ماخوذ ازAbhimanyu
از Ramapada Chowdhury
ستارےPankaj Kapur
شبانہ اعظمی
Anil Chatterjee
عرفان خان
دیپا ساہی
موسیقیVanraj Bhatia
سنیماگرافیSoumendu Roy
ایڈیٹرSubodh Roy
تاریخ نمائش
  • 1990ء (1990ء)
دورانیہ
122 منٹس
ملکبھارت
زبانہندی

کہانیترميم

فلم میں ڈاکٹر دِپانکر جذام کےعلاج کے لیے ویکسین بنانا چاہتا ہے۔اپنے گھر کی چھوٹی سی لیب میں مسلسل اور انتھک تجربات کرنے کے بعد اسے ایک ایسی ویکسین کی تخلیق میں کامیابی ملتی ہے کہ جسے حاملہ خاتون کو لگانے سے پیدا ہونے والا بچہ 'جذام' سے محفوظ ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر دِپانکر کی ایجاد کی خبر میڈیا میں آجانے سے علم و سائنس کی دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی دِپانکر کے خلاف محاذ کھول دیتے ہیں۔ اپنی 'اجارہ داری کو چیلنج محسوس ہوتے ہی خوشنما لبادوں میں چھپے انسانوں کا حقیقی کردار عیاں ہوجاتا ہے پھر چاہے وہ انسان مذہب کی دنیا کا ہو یا سائنس کی دنیا کا۔ دِپانکر کا شہر سے گاؤں میں تبادلہ کر دیا جاتا ہے جہاں اسے اپنے ریسرچ کو پورا کرنے میں انتہائی دقتوں کا سامنا ہے.۔ لندن سائنٹفک فاؤنڈیشن سے آئے ہوئے ایک اہم خط کو فائلوں میں دبا دیا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر دِپانکر کے خلاف انکوائری کمیٹی بٹھادی جاتی ہے ۔ ان تمام حالات سے دل برداشتہ ہوکر ڈاکٹر دِپانکر احتجاجاً اس بات کا اعلان کردیتے ہیں کہ 'انہوں نے کوئی ویکسین' بنائی ہی نہیں۔اسی اثناء میں دپانکر کا دوست ایک مشہور سائنس جنرل سے ایک خبر پڑھ کر سناتا ہے کہ 'میساچوٹس یونیورسٹی کے کسی پروفیسر نے 'جذام' کے علاج کے لیے ایک کامیاب ویکسین ایجاد کی ہے۔ اس خبر کو سن کر چند لمحوں کے لیے دپانکر پر اپنے پیچھے رہ جانے سے مایوسی اور غم کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں پھر وہ ان جذبات پر قابو پا لیتے ہیں کہ ' آخر کار اس مہلک مرض سے لڑنے کے لیے انسان نے ایک ویکسین تیار کر ہی لی بھلے ہی بھارت میں نا سہی کسی اور ملک میں ہی .... اسی وقت ڈاکٹر دپانکر کو لندن سے آیا ہوا ایک خط ملتا ہے جس میں وہاں کی سائنس فاؤنڈیشن نے انہیں دوسرے سائنٹسٹس کے ساتھ مل کر دوسرے بہت سے امراض پر ریسرچ کرنے کے لیے مدعو کیا ہوتا ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم