اِیسٹر یا عید قیامت یا جی اٹھنے کا اتوار مسیحیوں کا سب سے بڑا تہوار جو یسوع مسیح کے زندہ ہونے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مدتوں اس کی تاریخ انعقاد میں اختلاف رہا۔ 325ء میں رومی بادشاہ، قسطنطین اول نے ایشائے کوچک (ترکی) کے مقام پر ازنک میں مسیحی علما کی ایک کونسل بلائی جسے نیقیا کی پہلی کونسل کہتے ہیں۔ لیکن یہ کونسل بھی، مشرقی اور مغربی کیلنڈروں میں اختلاف کے باعث کوئی متفقہ تاریخ مقرر نہ کر سکی۔ مشرقی راسخُ الاعتقاد کلیسیا ایسٹر کی تاریخ کا تعین جولین کیلنڈر سے کرتا ہے۔ اس کی تاریخ 22 مارچ اور 25 اپریل کے درمیان ہوتی ہے یعنی موسمِ بہار کے اُس دن کے بعد جب رات اور دن برابر ہوتے ہیں (21 مارچ)۔ اس کی تاریخ کو معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ 21 مارچ یا اس کے بعد جس تاریخ کو پُورا چاند ہو، اُس کے بعد پہلا اتوار ایسٹر ہوگا۔

ایسٹر
قیامت کا منظر، یسوع پاتال کو لات مار کر آدم و حوا کو قبروں سے نکالتے ہوئے۔ یسوع کے دائیں بائیں مقدسین (مسیحی اولیاء) ہیں اور نیچے شیطان ایک بوڑھے آدمی کی صورت میں ظاہر کیا گیا ہے، جو قید ہے اور زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔
قسممسیحی
اہمیتقیامت مسیح کی یاد
تقریباتگرجا گھروں کی رسمی عبادات، تہوار کے کھانے، ایسٹر کے انڈے کی سجاوٹ اور تحائف کا تبادلہ
رسوماتدعا، تمام رات جاگ کر عبادت کرنا، عباداتِ صبح
تاریخہر سال تعین کیا جاتا ہے۔
2023ء  تاریخ
2024ء  تاریخ
  • مارچ 31[1] (مغربی)
  • مئی 5 (مشرقی)
2025 تاریخ
  • اپریل 20 (مغربی)
  • اپریل 20 (مشرقی)
منسلکعید فسح

ایسٹر (Ēostre) موسم بہار کی اینگلو سیکسن دیوی تھی۔ اور یہ جشن دراصل بہار کا جشن ہے جو یسوع مسیح سے قبل بھی منایا جاتا تھا۔ ہندوستان میں یہ تہوار ہولی کے نام سے، انھیں دنوں اور اسی طریقے سے منایا جاتا ہے۔ ایران میں اسے نوروز کہتے ہیں اور وہاں یہ 21 مارچ کو منایا جاتا ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. Selected Christian Observances, 2024, U.S. Naval Observatory Astronomical Applications Department

بیرونی روابط

ترمیم