ابو عبد الله سفیان بن سعید بن مسروق الثورى (97ھ - 161ھ / 716ء - 777ء) امام سفیان کے نام سے معروف ہیں، فقیہ و محدث جنہوں نے ضبط و روایت میں اس قدر شہرت پائی کہ شعبہ بن حجاج، سفیان بن عیینہ اور یحیی بن معین جیسے محدثین نے آپ کو امیر المومنین فی الحدیث کے لقب سے سرفراز کیا۔ ان کے زہد و ورع اور ثقاہت پر سب کا اتفاق ہے۔ امام سفیان ثوری کا تابعین کے ساتھ ساتھ ائمہ مجتہدین میں بھی شمار ہوتا ہے۔دوسری صدی کے بعد جب حدیث کا منتشر ذخیرہ بڑی حد تک جمع ہوگیا تومحدثین کے لیے لاکھوں کی تعداد میں روایات اور اُن کے سلسلہ اسناد کا یاد رکھنا آسان ہوگیا؛ لیکن جب یہ ذخیرہ منتشر تھا تو پھر دو چار ہزار حدیثوں کا بھی سینوں اور سفینوں میں محفوظ رکھنا مشکل تھا، اس لیے تبع تابعین کے عہد میں دس ہزار سے زیادہ کسی امام حدیث کوحدیثیں مشکل سے یاد تھیں؛ لیکن امام سفیان کواس حیثیت سے بھی امتیاز حاصل تھا کہ ان کی مرویات کی تعداد جو ان کے سینہ میں ہروقت محفوظ رہتی تھیں تیس ہزار تھی۔