مرکزی مینیو کھولیں
شعبہ بن حجاج
شعبہ بن حجاج

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 702  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
واسط  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 777 (74–75 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بصرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت و جماعت
عملی زندگی
استاذ قتادہ بن دعامہ،  ایوب سختیانی،  حمید بن ہلال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص ابن اسحاق،  سفیان ثوری،  عبد اللہ ابن مبارک،  علی بن حمزہ کسائی کوفی،  سفیان بن عیینہ،  ابو یوسف،  اصمعی،  ہارون الرشید  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ادیب،  شاعر،  محدث،  مفسر قرآن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل علم حدیث،  تفسیر قرآن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

امام شعبہ بن حجاج کا شمار تبع تابعین میں ہوتا ہے مگر وہ اپنے علم و فضل، دیانت و تقویٰ اور بعض دوسری خصوصیات کی وجہ سے تابعین کے زمرہ میں شمار کیے جانے کے مستحق ہیں، انہوں نے دو صحابی انس بن مالک اور عمرو بن سلمہ کو دیکھا تھا۔ اگر ان کے تابعی ہونے کی کوئی دوسری وجہ نہ بھی ہوتی تو تنہا روایت صحابہ کا فضل ہی ان کی تابعیت کے لیے کافی تھا مگر اربابِ تذکرہ ان کا ذکر تابعین کے ساتھ کرتے ہیں۔ غالباً ان کے نزدیک صرف روایت صحابہ تابعیت کے لیے کافی نہیں اس لیے ان کو اس فہرست میں لے لیا گیا ہے۔

فہرست

نام و نسب اور ولادتترميم

شعبہ نام اور ابو بسطام کنیت ہے۔ والد کا نام حجاج تھا، ان کے والد قصبہ واسط کے قریب ایک دیہات تہیمان کے رہنے والے تھے۔ 83ھ میں یہیں ان کی ولادت ہوئی۔ عام تذکرہ نگار ان کی جائے پیدائش واسط کو بتاتے ہیں مگر سمعانی نے لکھا ہے کہ واسط نہیں بلکہ اس کے ایک قریہ میں ان کی ولادت ہوئی۔

تعلیم و تربیتترميم

ان کی ولادت تو ایک گاؤں میں ہوئی مگر ان کے والد غالباً ترک سکونت کر کے شہر واسط چلے آئے۔ واسط کوفہ و بصرہ کے درمیان ایک مرکزی مقام ہے جہاں علم و ادب کا کافی چرچا تھا۔ امام شعبہ کا نشو و نما یہیں کے علم پرور ماحول میں ہوا۔ ان کی علمی زندگی شعر و ادب سے شروع ہوئی مگر بہت زیادہ دن نہیں گزرنے پائے تھے کہ وہ علم حدیث کی طرف متوجہ ہوئے اور اس میں وہ کمال حاصل کیا کہ امام المحدثین بن گئے۔ خود انہوں نے یہ واقعہ اپنی زبانی بیان کیا ہے۔ وہ کہتے کہ ”میں زیادہ تر مشہور شاعر طرماح کے پاس رہتا تھا اور اس سے شعر و شاعری کے بارے میں سوال کرتا تھا مگر ایک دن کوفہ کے مشہور محدث حکم بن عتیبہ کی مجلس درس سے گزرا تو وہ محدثانہ انداز سے ارشادات رسول ﷺ کی روایت کر رہے تھے۔ حدیث نبوی کی آواز جب میرے کانوں میں پہنچی تو وہ دل تک اُتر گئی۔ میں اسی وقت سوچا کہ شعر و شاعری جس کی طلب اب تک میں نے کی ہے اس کے مقابلہ میں حدیث نبوی کی طلب بدرجہا بہتر ہے۔ چنانچہ اس دن سے میں علم حدیث کے حصول میں لگ گیا۔“ افسوس[1] کے ساتھ فرماتے تھے کہ میں اگر شعر و ادب میں نہ لگ گیا ہوتا تو امام شعبی کی حدیث سے استفادہ کیا ہوتا۔[2]

شیوخ حدیثترميم

امام شعبہ نے اس وقت کے تمام ممتاز محدثین سے سماع حدیث کیا تھا۔ عام اربابِ تذکرہ لکھتے ہیں کہ ان کے شیوخ حدیث میں تقریباً چار سو تابعین شامل ہیں۔ ابن حجر عسقلانی نے ان کے شیوخ کی جو فہرست دی ہے اس میں تین سو سے اوپر نام ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ کوفہ کے تین سو شیوخ حدیث سے روایت کی ہے۔ یہ شیوخ کسی ایک دو مقام پر نہیں بلکہ ممالکِ اِسلامیہ کے لاکھوں مربع میل علاقہ میں پھیلے ہوئے تھے۔ گدھے، اونٹ یا کسی خوش قسمت کو گھوڑے میسر ہو جاتے تھے ان کے ذریعہ یہ لاکھوں میل کا فاصلہ طے کرنا کتنا دشوار کام تھا پھر ایسا بھی ہوتا تھا کہ بسا اوقات ایک ایک حدیث کے لیے ہزاروں میل کا سفر طے کرنا پڑتا تھا اور پھر امام شعبہ کے والد کا انتقال بچپن ہی میں ہو چکا تھا۔ انہوں نے انتہائی عسرت کی حالت میں میں تعلیم حاصل کی، خود فرماتے تھے کہ عسرت کی وجہ سے میں نے سات دینار میں اپنی والدہ کا طشت فروخت کر ڈالا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان کو یہ تمام سفر پیدل ہی طے کرنے پڑے ہوں گے۔[3]

قوت حافظہترميم

ان کا حافظہ بھی غیر معمولی تھا، وہ حدیث نبوی بہت کم لکھتے تھے، مگر لمبی لمبی حدیثیں نوک زبان رہتی تھیں، ایک بار علی بن المدینی نے یحییٰ القطان سے پوچھا کہ سفیان ثوری اور شعبہ بن حجاج میں کون لمبی لمبی حدیثوں کو زیادہ اچھی طرح یاد رکھتا تھا، بولے شعبہ اس میں بہت آگے تھے۔[4] غیر معمولی قوت حافظہ اور اس کد و کاوش کا نتیجہ یہ ہوا کہ جلدی حدیث نبوی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ان کے سینے میں محفوظ ہو گیا اور اب وہ مرجع خلائق بن گئے، اِسلامی مملکت کے گوشہ گوشہ سے حدیث نبوی کے پروانے آکر اس شمع علم کے گرد جمع ہونے لگے۔

قیام حلقہ درسترميم

تحصیل عِلم کے بعد انہوں نے واسط کی بجائے بصرہ میں جو اس وقت علم و فن کا گہوارہ تھا، قیام کیا اور وہیں اپنا حلقہ درس قائم کیا، بصرہ کی سرزمین ان کو ایسی پسند آئی کہ ساری عمر وہیں ختم کردی، خلیفہ مہدی نے ان کو بصرہ میں کچھ زمین بھی عطا کر دی تھی مگر انہوں نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں کی۔[5]

تلامذہترميم

اس سرچشمہ علم سے جن تشنگان علم نے فائدہ اٹھایا ان کی صحیح تعداد تو نہیں بتائی جاسکتی، ابن حجر عسقلانی نے ان کے 42 مُمتاز تلامذہ کا ذکر کیا ہے، اسی طرح دوسرے اہل تذکرہ نے بھی کچھ نام گنائے ہیں، یحییٰ بن شرف نووی چند ائمہ کے نام لکھنے کے بعد فرماتے ہیں: ”ان کے ممتاز تلامذہ کا بھی شمار نہیں کیا جاسکتا۔“[6] چند ائمہ کے نام یہ ہیں: سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، عبد الرحمن بن مہدی، وکیع بن جراح، ایوب سختیانی، سلیمان بن مہران اعمش، محمد بن اسحاق، ابو داؤد، عبد اللہ بن مبارک، اسماعیل بن علیہ وغیرہ۔

علم و فضلترميم

ان کی تعلیم شعر و ادب سے شروع ہوئی تھی اور مشہور شاعر طرماح کے شاگرد تھے، خود اصمعی ان کے ادبی ذوق کا معترف تھا، اس کے بعد دینی علوم کی طرف توجہ کی تو اس میں بھی انہوں نے ممتاز حیثیت حاصل کی، خصوصیت سے حدیث میں ان کی امامت اور جلالت تو ضرب المثل بن گئی ہے، حدیث کی کوئی قابل ذکر کتاب ایسی نہیں ہے، جس میں ان کی مرویات کثرت سے موجود نہ ہوں، محمد بن اسماعیل بخاری فرماتے ہیں کہ علی بن مدینی کے واسطہ سے ان کی دو ہزار حدیثیں ہم تک پہنچی ہیں، ابو داؤد کہتے تھے کہ میں نے ان سے سات ہزار حدیثیں سُنی ہیں جن میں سے ایک ہزار حدیثوں پر میں نے ان سے رد و قدح کیا اور ایک ہزار حدیثوں کے دلائل براہین سے خود انہوں نے واقف کیا۔[7]

اس وقت کے تمام علما و محدثین کو ان کے علم و فضل کا اعتراف تھا، احمد بن حنبل فرماتے تھے کہ علم حدیث میں امام شعبہ اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم تھے، محمد بن ادریس شافعی فرماتے تھے کہ اگر امام شعبہ نہ ہوتے تو عراق میں علم حدیث اتنا زیادہ معروف نہ ہوتا، سفیان ثوری فرماتے تھے کہ شعبہ امیر المومنین فی الحدیث ہیں۔ احمد بن حنبل فرمایا کرتے تھے کہ حدیث کی بصیرت، حفظ و اتقان اور رجال کی تنقید میں وہ تنہا ایک امت کے برابر تھے۔ حماد بن زید فرماتے تھے کہ اگر کسی حدیث کی روایت میں امام شعبہ میری موافقت کرتے ہیں تو میں کسی کی پروا نہیں کرتا۔

یحییٰ بن شرف نووی نے لکھا ہے کہ ان کی امامت و جلالت پر سب کا اتفاق ہے، حاکم نیشاپوری نے لکھا ہے کہ یہ معرفت حدیث میں امام الائمہ تھے، شمس الدین ذہبی اور ابن حجر عسقلانی وغیرہ نے بھی قریب قریب یہی الفاظ لکھے ہیں۔

تصنیفترميم

انہوں نے علم قرآن کی ترویج کے لیے ایک تفسیر لکھی، صاحب کشف الظنون نے تفسیر شعبہ کے نام سے اس کتاب کا ذکر کیا ہے، صاحب مفتاح السعادہ نے بھی اس کا ذکر کیا ہے، اس وقت اس کے موجود ہونے کا کوئی علم نہیں، مگر اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دوسری صدی ہجری کے ابتدائی زمانہ ہی سے علم تفسیر کی بھی تدوین شروع ہو گئی تھی اور غالباً علم تفسیر پر پہلی کتاب تھی۔

وفاتترميم

160ھ میں 77 برس کی عمر میں بصرہ میں وفات پائی، ان کی وفات کی خبر سفیان ثوری کو پہنچی تو بولے کہ ”مات الحدیث“ حدیث کا علم آج ختم ہو گیا۔

حوالہ جاتترميم

  1. تاریخ بغداد از خطیب بغدادی، ج 9، ص 257
  2. تاریخ بغداد از خطیب بغدادی، ج 9، ص 264
  3. تذکرۃ الحفاظ از شمس الدین ذہبی، ج 1، ص 174
  4. تاریخ بغداد از خطیب بغدادی، ج 9، ص 264
  5. تاریخ بغداد از خطیب بغدادی، ج 9، ص 356
  6. تہذیب الاسماء واللغات از یحییٰ بن شرف نووی، ص 445
  7. تذکرۃ الحفاظ از شمس الدین ذہبی، ج 1، ص 170