Pix.gif
Pix.gif
Pix.gif
Pix.gif
White-Basmala.png
Hadith Books.jpg

باب حدیث نبوی

اردو ویکیپیڈیا میں 21 مضامین حدیث کے موضوع پر موجود ہیں


Arbcom ru editing.svg تعارف
freamless

حدیث حدیث کا لفظ تحدیث سے اسم ہے، تحدیث کے معنی ہیں:خبر یا بات چیت، اسلامی اصطلاح میں اس سے مراد وہ روایت جس میں جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی قول یا عمل بیان ہوا ہو ۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت سے قبل عرب حدیث بمعنی اخبار (خبردینے) کے معنی میں استعمال کرتے تھے، مثلاً وہ اپنے مشہور ایام کو احادیث سے تعبیر کرتے تھے، اسی لیے مشہور نحوی الفراء کا کہنا ہے کہ حدیث کی جمع احدوثہ اور احدوثہ کی جمع احادیث ہے، لفظ حدیث کے مادہ کو جیسے بھی تبدیل کریں اس میں خبر دینے کا مفہوم ضرور موجود ہو گا، اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے وجعلناہم احادیث، فجعلناہم احادیث، اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابھا، فلیاتو حدیث مثلہ،بعض علما کے نزدیک لفظ حدیث میں جدت کامفہوم پایا جاتاہے، اس طرح حدیث قدیم کی ضد ہے، حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں:- المراد بالحدیث فی عرف الشرع مایضاف الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،وکانہ ارید بہ مقابلۃ القرآن لانہ قدیم شرعی اصطلاح میں حدیث سے وہ اقوال واعمال مراد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب ہوں، گویا حدیث کا لفظ قرآن کے مقابلہ میں بولاجاتاہے،اس لیے کہ قرآن قدیم ہے اور حدیث اس کے مقابلہ میں جدید ہے، اصطلاح میں حدیث سے مراد وہ اقوال واعمال اور تقریر(تصویب) مراد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب ہوں المراد بالحدیث فی عرف الشارع مایضاف الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم الحدیث النبوی ھو عند الاطلاق ینصرف الی ما حدث بہ عنہ بعد النبوۃ من قولہ وفعلہ واقرارہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے اقوال کو حدیث کا نام دیا ہے،آپ ہی نے یہ اصطلاح مقرر فرمائی، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ابوہریرہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کی شفاعت کی سعادت کس کو نصیب ہوگی آپ نے جوابًا فرمایا ابو ہریرہ سے پہلے کو ئی شخص مجھ سے اس حدیث کے بارے میں سوال نہیں کرے گا کیونکہ وہ طلب حدیث کے بہت حریص ہیں۔ حديث

Arbcom ru editing.svg Writing star.svgمنتخب مضمون


صحیفہ ہمام ابن منبہ جس کا اصل نام الصحیفۃ الصحییحہ ہے۔ یہ ہمام بن منبہ، ابوہریرہ کے شاگرد ہیں۔ جنہوں نے یہ صحیفہ (جس میں 138 حدیثیں درج ہیں) لکھ کر اپنے استاد ابوہریرہ (وفات:58ھ) پر پیش کر کے اس کی تصحیح و تصویب کرائی تھی۔ گویا یہ صحیفہ سن 58 ہجری سے بہرحال پہلے ہی ضبط تحریر میں لایا گیا تھا۔ اس کا ایک قلمی نسخہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے سن 1933ء میں برلن کی کسی لائیبریری سے ڈھونڈ نکالا۔ اور دوسرا مخطوطہ دمشق کی کسی لائیبریری سے۔ پھر ان دونوں نسخوں کا تقابل کر کے 1955ء میں حیدرآباد دکن سے شائع کیا۔اس صحیفے میں کل 138 احادیث ہیں۔عبدالرحمٰن کیلانی لکھتے ہیں: صحیفہ ہمام بن منبہ ، جسے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے حال ہی میں شائع کیا ہے، ہمیں یہ دیکھ کر کمال حیرت ہوتی ہے کہ یہ صحیفہ پورے کا پورا مسند احمد بن حنبل میں مندرج ہے۔ اور بعینہ اسی طرح درج ہے جس طرح قلمی نسخوں میں ہے ماسوائے چند لفظی اختلافات کے، جن کا ذکر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں تک زبانی روایات کی وجہ سے معنوی تحریف کے امکان کا تعلق ہے، اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


Arbcom ru editing.svg Crystal Clear app lphoto.pngمنتخب تصویر
مجموعة من كتب الحديث: الصحيحان والسنن الأربعة، ويطلق عليهم الكتب الستة

مجموعہ کتب احادیث : صحیحین و سنن اربعہ (صحاح ستہ)

مزید منتخب تصاویر...
Arbcom ru editing.svg Mosque02.svgموضوعات
3


Arbcom ru editing.svg People icon.svgمنتخب محدث


ابو عبد الله سفیان بن سعید بن مسروق الثورى (97ھ - 161ھ / 716ء - 777ء) امام سفیان کے نام سے معروف ہیں، فقیہ و محدث جنہوں نے ضبط و روایت میں اس قدر شہرت پائی کہ شعبہ بن حجاج، سفیان بن عیینہ اور یحیی بن معین جیسے محدثین نے آپ کو امیر المومنین فی الحدیث کے لقب سے سرفراز کیا۔ ان کے زہد و ورع اور ثقاہت پر سب کا اتفاق ہے۔ امام سفیان ثوری کا تابعین کے ساتھ ساتھ ائمہ مجتہدین میں بھی شمار ہوتا ہے۔دوسری صدی کے بعد جب حدیث کا منتشر ذخیرہ بڑی حد تک جمع ہوگیا تومحدثین کے لیے لاکھوں کی تعداد میں روایات اور اُن کے سلسلہ اسناد کا یاد رکھنا آسان ہوگیا؛ لیکن جب یہ ذخیرہ منتشر تھا تو پھر دو چار ہزار حدیثوں کا بھی سینوں اور سفینوں میں محفوظ رکھنا مشکل تھا، اس لیے تبع تابعین کے عہد میں دس ہزار سے زیادہ کسی امام حدیث کوحدیثیں مشکل سے یاد تھیں؛ لیکن امام سفیان کواس حیثیت سے بھی امتیاز حاصل تھا کہ ان کی مرویات کی تعداد جو ان کے سینہ میں ہروقت محفوظ رہتی تھیں تیس ہزار تھی۔

Arbcom ru editing.svg Hadith1.pngمنتخب حدیث


میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں اور دو واپس چلی جاتی ہیں اور ایک چیز اس کے پاس رہ جاتی ہے۔ گھر کے لوگ اور مال اس کے ساتھ جاتے ہیں اور اس کو تنہا چھوڑ کر واپس آجاتے ہیں اور اس کا عمل اس کے ساتھ جاتا ہے ۔ اسی کے ساتھ رہتا ہے۔

حدیث نبوی، متفق علیہ

Arbcom ru editing.svg HS RTL Exclamation2.svgکیا آپ جانتے ہیں؟
Arbcom ru editing.svg HSDice.svgزمرہ جات
Arbcom ru editing.svg Curly Brackets.svgسانچے
علم مصطلح الحديث
متواتر متفق عليہ مشہور عزيز غريب حسن
متصل صحیح منکر
مسند ← من حيث السند علم الحديث من حيث المتن متروک
خبر آحاد ضعيف مدرج
منقطع مضطرب مدلس موقوف منقطع موضوع



Arbcom ru editing.svg Portal.svgمتعلقہ ابواب
Arbcom ru editing.svg Wikimedia logo family complete 2009.svgویکیمیڈیا منصوبہ جات میں
دیگر ابواب
Pix.gif
Pix.gif
Pix.gif
Pix.gif
Pix.gif
Pix.gif
Pix.gif
Pix.gif