براق:وہ سواری جس پر رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شبِ معراج میں سواری کی۔

معنی

ترمیم

براق عربی سے ماخوذ لفظ ہے جو برق سے بنا ہے جس کا مطلب تیزی ہے۔ براق وہ سواری جس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شبِ معراج میں سواری کی تھی۔ اور جنت میں بھی مومنین کو یہ سواری عطا کی جائے گی

قرآن و حدیث

ترمیم

قرآن میں اس سواری کا کہیں ذکر نہیں۔ البتہ مفسرین کا کہنا ہے کہ اس جانور کا منہ انسان کا اور جسم گھوڑے کا تھا اور اس کے دو پر بھی تھے۔ رنگ بالکل سفید تھا۔ یہ قد کے اعتبار سے گوش دراز سے اونچی اور خچر سے نیچی تھی۔ اس کا رنگ چمکدار اور سفید تھا۔ اس کا نام ’’براق‘‘ تھا۔ روایتوں میں آتا ہے کہ:

حضرت مالک بن صعصعہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں حجر۔۔۔ دوسری روایت میں حطیم کا ذکر ہے۔۔۔ میں نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا جب میرے پاس آنے والا (فرشتہ) آیا۔ اس نے (میرا سینہ) یہاں سے یہاں تک چیرا۔ پھر میرے دل کو نکال کر غسل دیا۔ پھر دوبارہ اندر رکھ دیا۔ پھر ایک سواری لائی گئی جو خچر سے چھوٹی اور گوش دراز سے بڑی تھی۔ اس کا رنگ سفید تھا۔ اسے ’’براق‘‘ کہا جاتا ہے پس مجھے اس پر سوار کرایا گیا۔[1]

جب تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو براق پر سوار کیا گیا تو وہ فخر و اِنبساط سے ناچنے لگی کہ آج اسے سیاحِ لامکاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری ہونے کا لازوال اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ براق اس سعادتِ عظمیٰ پر وجد میں آ گیا۔ اس پر حضرت جبرئیلِ امین علیہ السلام نے اس سواری سے فرمایا :

’’رک جا! اللہ کی عزت کی قسم تجھ پر جو سوار بیٹھا ہے آج تک تجھ پر ایسا سوار نہیں بیٹھا‘‘۔

حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو براق پر سوار کرا کے انھیں بیت المقدس کی طرف لے جایا گیا۔ براق کی رفتار کا یہ عالم تھا کہ جہاں سوار کی نظر پڑتی تھی وہاں اس کا قدم پڑتا تھا۔

قرون وسطی میں براق مسلمان فنکاروں، شاعروں اور مصوروں کا محبوب موضوع رہا ہے۔ یروشلم میں مسجد صغری میں ایک پتھر رکھا ہوا ہے جسے براق کی زین بتایا جاتا ہے۔ اسی براق کے نام پر ہی ترکی، بوسنیا اور پولینڈ میں بچوں کے نام براق رکھنے کا رواج ہے۔ لیبیا کی ہوائی جہاز کی کمپنی کا نام بھی اسی پر براق ائیر ہے۔ انڈونیشیا کی ہوائی کمپنی کا نام بھی براق تھا مگر وہ کمپنی 2006 میں بند ہو گئی ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. روح المعانی، 15 : 5