مرکزی مینیو کھولیں

تاریخترميم

برقناطیسی کے مظاہرہ کو پہلی بار 1820 میں دیکھی گئی جب ایک ڈانش سائنس دان نے یہ دیکھا کہ تار میں گزرتی ہوئی برقی رو کی وجہ سے قطب نما کی سوئی ہلتی ہے۔[1]

برقناطیسی قوّتترميم

طبیعیات میں، برقناطیسی قوت (electromagnetic force)، ایک قوت جو برقناطیسی میدان باردار زرّات پر ڈالتا ہے یا ایک قوت جو دو مختلف بار والے زرّات (یا مخالف مقناطیسی قطبین) کو کھینچتی اور ایک جیسے بار والے زرّات (یا یکساں مقناطیسی قطبین) کو دفع کرتی ہے۔ مزید سلیس تعریف اِس کی ‘‘باردار اجسام کے درمیان عمل کرنے والی قوّت’’ کے کی جاسکتی ہے۔

یہ برقناطیسی قوّت ہی ہے جو ایٹم میں برقیے اور اولیے کو یکجا رکھتی ہے اور جو جوہروں کو سالمہ بنانے کے لیے اکٹھا رکھتی ہے۔

برقناطیسیتترميم

علم طبیعیات میں برقناطیسیت یا برقی مقناطیسیت (electromagnetism) دراصل برقناطیسی میدان کے مطالعے کو کہا جاتا ہے۔ برقناطیسی میدان ایک ایسا میدان ہوتا ہے کہ جو اس تمام فضاء کا احاطہ کیے ہوئے ہوتا ہے جو کسی بھی ایسے ذرے کے گرد پائی جاتی ہے جو برقی طور پر بار دار کیفیت کا حامل ہو۔ جبکہ بذات خود یہ میدان اس باردار ذرے (charged particle) کے وجود اور حرکات سے متاثر ہوتا ہے۔

فیراڈے کا قانونترميم

برقی امالا فیراڈے کا قانون دراصل برقناطیسییت کا بنیادی قانون ہے جو اس بات کی پیشینگوءی کرتا ہے کہ کیسے ایک مقناطیسی میدان اک برقی سرکٹ سے تعامل کر کے کتنی برقحرکی قوت پیدا کرے گا اوز اس مظہر کو برقناطیسی امالا کہتے ہیں اور یہ امالا موٹر کا بنیادی قانون ہے فیراڈے کا قانون دراصل برقناطیسییت کا بنیادیقانون ہے چو اس بات کی پیشینگوئ کرتا ہے کہ کیسے اک مقناطیسی میدان اک برقی سرکٹ سے تعامل کر کے کتنی برقحرکی قوت پیدا کرے گا اوز اس مظہر کو برقناطیسی امالا کہتے ہیں اور یہ امالا موٹر کا بنیادی قانون ہے

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم

  1. "Electromagnetism"۔