لیتھوانیا کے باغی غیر مسلح لال فوج کے عسکریوں کو 1941ء میں اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے۔

بغاوت (انگریزی: Rebellion) یا سر کشی کسی طرح کی اطاعت یا حکم کی پابجائی سے انکار ہے۔ یہ کسی تسلیم شدہ ارباب ثقہ یا کسی حکم راں حیثیٹ کے حامل افراد کے احکام کی کھلی مزاحمت ہے۔[1] اس لفظ کے اپنے محدود زاویے میں معنے کسی طالب علم کے اپنے استاد یا اسکول کے صدر مدرس کی بات کو نہ ماننے، اس کے خلاف جانے یا اپنی من مانی چلانے پر بھی اطلاق کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ لفظ عام طور سے ایک بلند پایہ حد میں حکم عدولی یا احکام نہ ماننے یا پھر کسی کی ما تحتی یا عہدہ برداری ہی کے نہ تسلیم کرنے پر استعمال ہوتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے کئی بادشاہوں کے اپنے رشتے دار اور کئی بار فوجی عہدیداروں نے پرچم بغاوت بلند کر کے یا تو اپنی الگ حکومت قائم کی یا پھر اصل فرماں روا کو بے دخل کیا۔ موجودہ دور میں کئی بار ملکوں میں فوج نے بغاوت کرتے ہوئے جمہوری طور پر منتخب حکومتوں کو بے دخل کیا ہے، جیسا کہ پاکستان کی تاریخ میں بے شمار مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح فوجی بغاوت اور تختہ پلٹ بنگلہ دیش، میانمار اور کئی اور ملکوں میں دیکھی گئی ہے۔ یہ غور طلب ہے کہ بغاوت صرف فوج کی جانب سے نہیں ہوتی ہے، یہ کبھی کسی بھی شخص یا گروہ کی جانب سے ہو سکتے ہے۔ یہ کئی بار پر تشدد بھی ہو سکتی ہے، اور کئی بار پر امن بھی ہو سکتی ہے، جیسے کہ تحریک عدم تعاون کے اغراض و مقاصد میں دیکھا گیا ہے۔


مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Lalor، John Joseph (1884). Cyclopedia of Political Science, Political Economy, and of the Political ... Rand, McNally. صفحہ 632.