بلعم بن باعوراء بنی اسرائیل کا ایک عالم تھا۔ جس کو اللہ تعالیٰ کی کسی کتاب کا علم ملا۔ (پھر وہ ان سے بالکل ہی نکل گیا) وہ ان آیات سے اس طرح نکل گیا کہ اس نے انکا انکار کر دیا۔ اور ان آیات کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا۔ فَاَ تْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ (پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا) شیطان اس کو پیچھے سے ملا اور اس کو آلیا اور اس کا ساتھی بن گیا۔ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ (پس وہ گمراہ لوگوں میں سے ہو گیا) وہ گمراہ کفار میں سے ہو گیا۔ روایت میں ہے کہ اس کی قوم نے اس سے مطالبہ کیا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے خلاف بددعا کرے۔ مگر اس نے انکار کر دیالیکن وہ اس کو چمٹے رہے۔ یہاں تک کہ اس نے بددعا کردی اس کے پاس اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم تھا۔ وہ دنیا کی طرف مائل ہوا اور اس میں خوب رغبت ظاہر کی۔ اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا) دنیا اور اس کی لذات کو آخرت اور اس کی نعمتوں کے مقابلہ میں ترجیح دینے میں۔ اس کی حالت کتے کی سی ہو گئی اگر تو اس پر حملہ کرے) ڈانٹے اور دھتکارے یَلْھَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ (تب بھی ہانپے یا اس کو چھوڑ دے) بغیر دھتکارے یَلْھَثْ (تب بھی ہانپے) مطلب یہ ہے کہ یہ اپنی خست اور کمینگی میں کتے کی طرح ہے جو اپنی انتہائی قبیح حالت و صورت میں ہو۔ اور وہ حالت اس کا ہمیشہ ھانپنا ہے اس پر حملہ آور ہوں اور بھڑکا کر اس کو دھتکاریں یا بلا تعرض اس کو چھوڑ دیں اور یہ اس طرح ہے تمام حیوانات اس وقت ہانپتے ہیں جب وہ حرکت کریں مگر کتا سب سے مختلف ہے کہ دونوں حالتوں میں ہانپتا ہے کلام کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا : لٰکنہ اخلد الی الارض فحططناہ ووضعناہ منزلتہ لیکن وہ زمین کی طرف مائل رہا پس ہم نے ان کو گرا دیا اور اس کے مرتبے کو گرا دیا اللہ تعالیٰ نے اس کی بجائے یہ تمثیل رکھ دی۔ کتے کی طرح ہمیشہ ذلیل اور دونوں حالتوں میں ہانپنے والا ہے۔ کہا گیا ہے کہ جب بلعم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کے لیے بددعا کی تو اس کی زبان نکل آئی اور اس کے سینے پر لٹکنے لگی اور وہ اسی طرح ہانپنے لگا جس طرح کتا ہانپتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہے اس کو نصیحت کرو یا چھوڑ دو فائدہ ندارد۔ عطاء کہتے ہیں جس نے علم سیکھا اور اس پر عمل نہ کیا وہ کتے کی طرح ہے اس کو دھتکارویا چھوڑو بھونکتا ہے۔[1]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تفسیر مدارک التنزیل،ابو البرکات عبد اللہ النسفی،الاعراف 175،176