گوٹ فارمنگ (Goat Farming) یا بکریاں پالنا سنت نبوی ﷺ اور منافع بخش کاروبار ہے۔

بکریاں قدیم زمانے سے پالی جا رہی ہے عام طور پر بکریوں کی فارمنگ کا مطلب ہے کہ انہیں دودھ، گوشت اور ریشہ کی کٹائی کے لیے پالیں

آج کل بکریوں کی کاشت ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے اور اس کی افادیت کے باوجود اس میں معمولی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے

بکریاں پالنے کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جبکہ چین بکریوں کی تعداد کے حوالے سے سب سے بڑا ملک ہے۔ مجموعی ملکی برآمدات میں لائیو سٹاک کے شعبہ کا حصہ 13 فیصد سے بڑھ چکا ہے۔

بکریوں کی فارمنگ دو اقسام کی ہوتی ہے

۱- دودھ دینے والی قسم

۲- گوشت کی پیداوار والی قسم

دونوں اقسام کا کام منافع بخش ہوتا ہے آپ کوئی سی بھی قسم پال سکتے ہیں[1]

بکریوں کا انتخاب کرناترميم

اپنے مخصوص علاقے کی بریڈ پالیں۔ بکری بنیادی طور پر ایک نازک جانور ہے۔ تھوڑا سا موسم کا مزاج بدلنے سے بکری بیمار ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ تمام تر حفاظتی تدابیر کے باوجود بہت سے فارم نقصان اٹھاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ دوسرے علاقے کی نسل کو اپنے علاقے میں لے کے آنا ہے۔

اور یہ اصول تمام نسلوں پے لاگو ہوتا ہے۔ مثلاً ایک دو فارمز والوں نے راجن پوری نسل کا اپر پنجاب اور وسطی پنجاب میں پالنے کا تجربہ کیا۔ ایک فارمر کے ڈیڑھ سو جانور تھے جو اس علاقے کے موسم سے مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ اسی طرح دوسرے فارمر نے 85 جانور ہلاک کروائے۔ ایک اور گوجرانولا کا فارمر تھا جس نے ہر چیز سائنسی طریقے سے سیٹ کی ہوئی تھی اور حتٰی کہ ویٹنری ڈاکٹر بھی باہر کا رکھا ہوا تھا۔ اس کے فارم میں 200 میں سے پچیس جانور بچے تھے۔[2]

اور

اسی طرح پندرا بیس اور بھی ہیں جو راجن پوری سفید بکریوں کا نقصان کر چکے ہیں۔ لہٰذا سینیئر ڈاکٹرز اور فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے ماہرین کی مشترکہ رائے یہی ہے کہ اس علاقے کی لوکل بریڈ کو زیادہ ترجیح دی جائے اگر نقصان سے بچنا ہے۔ 


پاکستان کی تمام نسلوں میں راجن پوری بیتل سفید زیادہ خوبصورت مانی جاتی ہے اور سب سے زیادہ نازک بھی یہی بریڈ ہے۔ یہ بریڈ صرف ڈی جی خان راجن پور اور مظفر گڑھ تک کامیاب ہے۔ اس سے آگے یا پیچھے یہ نسل جائے گی تو بکریوں فارمر کا نقصان کرے گی۔ اس نسل کی بیماری کے خلاف قوت مدافعت انتہائی کم ہے۔ اپنی پتلی چمڑی کی وجہ سے یہ نسل بہت جلد موسمی اثرات قبول کرتی ہے۔ اور اگر ملتان اور گھوٹکی تک اس نسل کو مصنوعی ماحول دیکر کچھ عرصہ برقرار بھی رکھتے ہیں تو جانور ویسا قد کاٹھ نہیں بنائے گا جس طرح وہ اپنے آبائی علاقے میں بناتے ہیں۔

عام طور بکریوں فارمنگ میں ٹیڈی بکری کا کراس بتیل بکرے سے کروا لیا جاتا ہے ۔ اور اس سے حاصل ہونے والا جانور ٹیڈی جانور سے قد میں تھوڑا بڑا لیکن بتیل سے کم ہوگا۔ اور ایسا جانور دوغلا کہلاتا ہے۔ یہ جانور مناسب قیمت پر فروخت ہوجاتا ہے۔ اور ایسے جانور کو پالنے پر زیادہ اخراجات بھی نہیں آتے

جگہ کا انتخابترميم

بکریوں کی فارمنگ ان لوگوں کے بہت منافع کا باعث ہے جو دیہات میں رہائش پذیر ہیں۔

جن کے پاس فارمنگ کے لیے تین سے پانچ ایکڑ زمین موجود ہے، یا ابتدائی طور ایک سے دو ایکڑ زمین مناسب سالانہ کرائے یا ٹھیکہ پر حاصل کرسکتے ہیں۔

ابتدائی طور پر دس سے پندرہ ٹیڈی بکریاں خرید سکتے ہیں۔ ایک سال تک ان کو چارہ اور بوقت ضرورت ونڈا کھلا سکتے ہیں۔ وقت ڈی ورمنگ اور حفاظتی ٹیکہ جات لگوا سکتے ہیں۔

جانوروں کی جگہ کو صآف اور خشک رکھ سکتے ہیں۔ دن میں دو سے تین گھنٹے کے لیے چرائی یا چہل قدمی کروا سکتے ہیں۔ دو سے تین کنال گوارہ اور جنتر لگا سکتے ہیں۔ ہر چھ ماہ کے بعد نر جانوروں کو مناسب قیمت پر لوکل سطح پر فروخت کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔یہ درست یہ کہ بکریوں فارمنگ دیہاتی پیشہ ہے۔ اور دیہات میں رہنے والے بکریوں پروڈکشن سے اپنے لیے مناسب آمدن حاصل کرسکتے ہیں۔ مگر شہروں میں رہنے والے حضرات بکریوں کی مارکیٹنگ سے اپنے لیے مناسب آمدن حاصل کرسکتے ہیںِ۔[3]

یعنی بکرے خرید کر انکو بیچا جا سکتا ہے


اگر آپ کے پاس اپنی ذاتی زمین ہے اور مناسب سرمایہ ہے اور وقت ہے تو پھر یہ کام شوق سے کریں۔ اگر زمین اور سرمایہ تو ہے لیکن خود کوئی نوکری یا کاروبار کرتے ہیں تو پھر ایسے ملازم کا انتخاب کریں جو کام چھوڑ کر نہ بھاگے۔ زمینداری کے کاموں میں ورکر کا ہر وقت موجود ہونا بہت ضروری ہے، ورکر آپ کے فارم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی وقت ورکر بھاگ جائے اور آپ خود فارم پر کام نہ کرسکیں تو پھر سمجھیں کام ختم ، سرمایہ خلاص

خوراک کا انتخابترميم

ٹیڈی بکری کے بچے ٹیڈی اور بتیل کی دوغلی نسل کے بکرے بہت تعاون کرنے والے ہوتے ہیںِ ۔ ان کو جو بھی ملے وہ کھا لیتے ہیں۔ اور ونڈے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ اگر گھر میں بچی ہوئی روٹیوں کو گیلی کرکے باریک توڑی میں مکس کرکے کھلا دی جائیں تو پھر بھی ونڈے کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ کہ جو دوست بکریوں فارمنگ کرنا چاہتے ہیں تو وہ ابتداء ٹیڈی بکریوں سے کریں۔


بکریوں کو سردی سے بچانے کیلئے روزانہ صبح کوئ بھی خشک چارہ کھلائیں, دن کے وقت سبز چارہ کھلائے جتنا مرضی سے کھا سکے, دوپہر 12 بجے سے لیکر 2 بجے کے درمیان تازہ پانی پلائیں,اسکے بعد پانی نہ پلائیں, رات کو خشک گندم کھلائیں بڑی بکری کیلئے آدھا کلو چھوٹی بکری کیلئے ایک پاو, رات کو باڑے میں ہوا اندر نہ جانے دیں, پیراشوٹ کے ترپال کا پردہ لگائیں, دن کو دھوپ میں نکال کر باڑے کو دھوپ یا پنکھا لگا کر خشک کرائیں, ایک دو دن بعد رات کو تھوڑا سا گڑ اور کھبی کھبی اس میں تھوڑا سا اجوائن مکس کرلے کھلائیں

ویکسینیشنترميم

کئی قسم کی وائرل بیماریاں جیسے پی پی آر ، بکری کی پوکس ، پاؤں اور منہ کی بیماریاں اور بیکٹیریل بیماریاں جیسے اینتھراکس ، بروسلوسیس وغیرہ بکریوں کے لیے بہت نقصان دہ ہیں۔ اس طرح ، اس قسم کی بیماریوں کو روکنے کے لیے مناسب ویکسینیشن ضروری ہے۔ پی پی آر ، گوٹری پوکس ، بروسیلوسس کی ویکسین جو پہلے نہیں لگائی گئی تھیں ، حمل کے پانچویں مہینے میں انہیں ویکسین کریں۔ آپ کو بچوں کی پی پی آر ویکسین لگانی چاہیے جب تک کہ وہ 5 ماہ کی عمر کو پہنچ جائیں۔

روٹین ورکترميم

بکریوں فارمنگ پارٹ ٹائم فارمنگ نہیں یہ فل ٹائم فارمنگ ہے۔ جو دوست بکریوں فارمنگ کی طرف آنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے بکریوں فارمنگ کی روٹین کو سمجھیں ، بکریوں فارمنگ کی ضروریات کو سمجھیں پھر اس پر خوب خوب سوچیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ جو بھی کام کیا جاتا ہے اس کی کامیابی نسلوں کو سنوار دیتی ہے۔ اگر آپ فارمنگ میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کوپندرہ سے بیس سالوں میں زیادہ سے زیادہ بڑھا لیتے ہیں۔ آج آپ نے دس سے بیس جانوروں سے آغاز کیا ، اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ، اور اس کاروبار میں اضافے کے ساتھ ہی آپ کو زیادہ ورکروں کی ضرورت ہوگی۔

تو اگر اچھے طریقے سے اس کو چلایا گیا ہوگا تو اسی فارم کو گورنمنٹ سے بطور سنگل پرسن کمپنی رجسٹرڈ کرویا جاسکتا ہے۔ اگر آپ پانچ سے دس سال کامیاب فارمنگ کرلیتے ہیں اور مناسب تجربہ ہوجاتا ہے ، مناسب بنک بیلنس کے مالک ہوجاتے ہیں تو آپ بطور وزیٹر کسی بھی ملک کا ویزہ باآسانی حاصل کرسکتے ہیں۔[4]

حوالہ جاتترميم

  1. "اقسام". 
  2. "فارمنگ غلطیاں". 
  3. "گوٹ فارمنگ". 
  4. "روٹین ورک".