مظفرگڑھ (انگریزی: Muzaffargarh) (مطلب: مظفر کا قلعہ)پاکستان کے صوبہ پنجاب کا شہر ہے۔یہ دریائے چناب کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔یہ اپنے نام کے ہی ضلع، ضلع مظفرگڑھ کا صدر مقام ہے۔یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 39واں سب سے بڑا شہر ہے۔ ضلع کی پانچ تحصيليں ہيں جن ميں مظفرگڑھ، علی پور، جتوئی، چوک سرورشہید اور کوٹ ادو شامل ہيں۔ ضلع کی زرعی پیداوار میں آم،کپاس،گندم، چنا،چاول،جیوٹ اورکماد شامل ہیں۔ دو دریاءوں کے سنگم پر واقع اس ضلع کی زمين بہت ذرخيز ہے ضلع ميں تین شوگر ملز لگائی جا چکي ہیں دیگر صنعتوں میں ٹیکسٹايل اور جیوٹ انڈسٹری کو کافی فروغ حاصل ہے اس ضلع سے تعلق رکھنے والے بہت سے سیاست دانوں نے شہرت پائی، جن میں نوابزادہ نصر اللہ خان، غلام مصطفی کھر، حنا ربانی کھر حماد نواز خان ٹیپو، قدوس نواز خان محمد خان، سردار عبد القیوم خان، نصرللہ خان جتوئ، مخدوم سيد عبد للہ شاہ بخارى، مخدوم سيد ہارون سلطان بخارى اور جمشید احمد خان دستی شامل ہیں۔

مظفر گڑھ
مظفر گڑھ
انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دار الحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ ضلع مظفر گڑھ  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 30°12′00″N 71°25′00″E / 30.20000°N 71.41667°E / 30.20000; 71.41667
بلندی 122 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 163268 (2017)  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
فون کوڈ 066
قابل ذکر
جیو رمز 1169605  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حدود اربعہترميم

تاریخترميم

قدیم تاریخترميم

وادیٔ سندھ کی تہذیب کے دور میں مظفرگڑھ کا علاقہ زرعی اور جنگلاتی تھا۔اس کے بعد ویدک دور آیا۔ اس دور کی خاص بات پنجاب صوبہ میں ہند آریائی لوگوں کی آمد تھی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قدیم قصبے اور گردونواح کے اضلاع میں کئی دوسری تہذیبیں حکومت میں آئیں۔ان میں اہم کمبوجہ، داراداس، کیکایا، مدراس، پوراوا، یودھیا، ملاوا اور کرو مملکت شامل ہیں۔ 331 قبل مسیح میں ہخامنشی خاندان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سکندر اعظم نے 50 ہزارسپاہیوں کے ساتھ آج کے صوبہ پنجاب کا رخ کیا۔مختلف ادوار میں مظفرگڑھ موریا سلطنت، مملکت يونانی ہند، کوشان سلطنت، گپتا سلطنت، ہیپھتھال، کوشان ساسانی بادشاہت، ترک شاہی اوربرہمن شاہی حکومتوں کے حکمرانی میں رہا۔ 997ء میں محمود غزنوی نےسلطنت غزنویہ کا انتظام سنبھالا اور1005ء میں کابل شاہی کو فتح کیا، جس سے اسے پنجاب پر بھی رسوخ حاصل ہو گیا۔سلطنت دہلی اور مغلیہ سلطنت نے بھی مظفرگڑھ کے علاقے پر حکومت کی۔ان ادوار میں مظفرگڑھ کا موجودہ علاقہ مسلم اکثریتی علاقہ رہا۔ اس کی وجہ اس وقت بھی اس علاقے میں موجود مبلغین اور صوفیائے کرام تھے، جن کی درگاهیں آج بھی اس علاقے میں موجود ہیں۔ مغل سلطنت کے زوال کے بعد سکھوں نے ضلع مظفرگڑھ فتح کیا۔1848ء میں برطانوی راج نے یہاں کی حکومت سنبھالی۔

جدید تاریخترميم

مظفرگڑھ کا پرانا نام موسن دی ہٹی تھا۔ یہاں نئے شہر کی بنیاد اس وقت کے ملتان کے گورنر نواب مظفر خان نے 1794ء میں رکھی۔

ملتان سے دس میل دور مظفر آباد کا قصبہ آباد کیا مزید دس میل آگے دریائے چناب کے دائیں کنارے ایک دکان تھی جہاں سے مسافر خوردونوش کی اشیاء لیتے تھے خاص کر وہاں کی کھجور مشہور تھی اور رات کو وہاں قیام کرتے تھے مالک کا نام موسن تھا اسلئے دکان کا نام موسن دی ہٹی تھی۔ یہ ہٹی (دکان) چناب سے ڈیرہ غازیخان جاتے ہوئے راستہ میں تھی۔ نواب محمد مظفر خاں نے اس ہٹی سے نصف میل کے فاصلہ پر 1798ء میں قلعہ تعمیر کروایا پھر شہر آباد ہو گیا اس طرح قلعہ اور شہر مظفر گڑھ کی بنیاد رکھی گئی

[4]

مظفرگڑھ کا مطلب ”مظفر کا قلعہ“ ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ تاریخی شہر نواب مظفرخان نے قلعے کی چار دیواری میں تعمیر کیا تھا۔1864ء میں یہ ضلع مظفرگڑھ کا صدر مقام بن گیا۔ اس جگہ کو ”کالا پانی“ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ جگہ دو دریاؤں دریائے سندھ اور دریائے چناب کے درمیان واقع ہے۔برطانوی دور میں اسے پلوں کے ذریعے مضافاتی علاقوں سے ملایا گیا۔ پاکستان کی تحریک آزادی کے دوران اس علاقے کے مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کی حمایت کی۔1947ء میں جب پاکستان کو آزادی ملی تو اس علاقے کے ہندو اور سکھ بھارت ہجرت کر گئے جب بھارت سے آنے والے مسلمان مہاجرین مظفرگڑھ کے علاقے میں بھی رہائش پذیر ہوئے۔

خط زمانی (ٹائم لائن)ترميم

  • مجاہد اعظم نواب مظفر خان شہید حاکم ملتان نے 1794ء میں مظفرگڑھ کی بنیاد رکھی۔
  • 1796ء عیسوی میں اسے صدر مقام کی حثییت دی گئی ۔
  • شہر مظفر گڑھ 1818عیسوی تا 1848عیسوی تک سکھ عملداری میں رہا۔ اس دوران مظفرگڑھ کی بجائے خان گڑھ کو صدر مقام بنایا گیا۔
  • 1849ء عیسوی میں یہ شہر انگریزوں کے زیر تسلط آ گیا۔
  • 1869ء عیسوی میں مظفرگڑھ کو ٹائون کمیٹی کا درجہ دیا گیا۔

جغرافیہ اور آب و ہواترميم

مظفرگڑھ
آب و ہوا چارٹ (وضاحت)
جفمامججاساند
 
 
7.2
 
21
5
 
 
9.5
 
23
8
 
 
20
 
29
14
 
 
13
 
36
20
 
 
9.8
 
40
24
 
 
12
 
42
29
 
 
61
 
39
29
 
 
33
 
38
28
 
 
11
 
37
25
 
 
1.7
 
35
18
 
 
2.3
 
29
11
 
 
6.9
 
23
6
اوسط زیادہ سے زیادہ. اور کم سے کم درجہ حرارت °C
ترسیب کل، ملی میٹر میں
ماخذ: World Meteorological Organization

مظفرگڑھ کا رقبہ 8249 مربع کلومیٹر ہے۔یہ مشرق میں دریائے چناب اور مغرب میں دریائے سندھ کے درمیان ایک پٹی کی صورت میں واقع ہے۔مظفرگڑھ سطح سمندر سے 123 میٹر بلند ہے۔[5] مظفرگڑھ کا شہر 2010ء میں آنے والےسیلاب سے بھی بری طرح متاثر ہوا۔مظفرگڑھ کو دو اطراف یعنی سندھ اور چناب دونوں طرف سے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔[6] جغرافیائی طور پر مظفرگڑھ تقریباً پاکستان کے بالکل وسط میں واقع ہے۔اس کا قریب ترین بڑا شہرملتان ہے۔شہر میں ہموار دریائی میدان بھی ہیں جو آموں اور ترشاوہ درختوں کے باغات کےلیے مثالی ہے۔مظفرگڑھ میں صحرائی علاقے بھی ہیں۔ شہر میں نہروں کا جال بچھا ہوا ہے جو پورے ضلع میں پھیلی ہوئی ہیں۔مون سون کے موسم میں دریائے چناب کے قریبی علاقوں میں ہر سال سیلاب آ جانا معمول کی بات ہے۔ مظفرگڑھ کی صحرائی آب و ہوا ہے۔موسم گرما میں موسم شدید گرم اور سرما میں معتدل ہوتا ہے۔مظفرگڑھ پاکستان کے اُن چند شہروں میں سے ایک ہے جہاں موسم شدید ہوتا ہے۔مظفرگڑھ میں آج تک ریکارڈ کیا گیا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 54 سینٹی گریڈ (129 فارن ہائیٹ) اور کم سے کم -1 (منفی ایک) سینٹی گریڈ (30 فارن ہائیٹ) رہا ہے۔مظفرگڑھ میں بارش کا اوسط 127 ملی میٹر (5 انچ) ہے۔مظفرگڑھ میں طوفان گرد و باد کا چلنا عام بات ہے۔

تاریخی مقاماتترميم

مظفرگڑھ میں بہت سے تاریخی مقامات بھی ہیں، جن میں سے چند ایک یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل ہیں۔

ذرائع نقل و حملترميم

مظفرگڑھ درج ذیل ذرائع نقل و حمل سے دوسرے شہروں سے منسلک ہیں۔

سڑکیںترميم

مظفرگڑھ میں 983.69 کلومیٹر کی پختہ سڑکیں ہیں، جن سےیہ دوسرے اضلاع سے منسلک ہے۔کم فاصلہ ہونے کی وجہ سے مظفرگڑھ سے ملتان کے لیے بسیں ہر وقت دستیاب رہتی ہیں۔شہر سے دور دراز علاقوں کے لیے بسیں چلتی ہیں۔ قومی شاہراہ 70 بھی مظفرگڑھ سے گزرتی ہے۔اسی ہائی وے کی مدد سے مظفرگڑھ راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد، کراچی، لاہور اور بہاولپور سے منسلک ہے۔

ریلوےترميم

مظفرگڑھ ریلوے لائن کے ذریعے دوسرے شہروں راولپنڈی، ملتان، میانوالی اور اٹک سے مسلک ہے۔کراچی-پشاور ریلوے لائن قریبی شہر ملتان سے گزرتی ہے۔مظفرگڑھ میں سے کوٹری-اٹک ریلوے لائن اور شیر شاہ-کوٹ ادو برانچ لائن مظفرگڑھ سے گزرتی ہیں۔

ائیر پورٹترميم

مظفرگڑھ میں کوئی ائیر پورٹ نہیں۔ شہر کے لوگ قریبی شہر ملتان کے {[ملتان بین الاقوامی ہوائی اڈا]] کو استعمال کرتے ہیں۔

پاور پلانٹسترميم

مظفرگڑھ نیوکلیئر پاورکمپلیکسترميم

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابقپاکستان جوہری توانائی کمیشن (پی اے ای سی) مظفرگڑھ میں نیوکلیئر ری ایکٹر تعمیر کرے گا[7]۔مظفرگڑھ نیو کلیئر پاور کمپلیکس کی پیداواری گنجائش 1100 میگا واٹ ہوگی[8]۔

مظفرگڑھ تھرمل پاور پلانٹترميم

مظفرگڑھ میں بجلی پیدا کرنے والے تین بڑے یونٹ ہیں جو 1350 میگا واٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ پلانٹ تیل پر چلتے ہیں لیکن ایک روسی کمپنی نے ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے مطابق وہ ان یونٹس کو چلانے کے لیے درآمدی کوئلہ فراہم کرے گا۔ شروع میں تو ان پاور پلانٹس کی اپ گریڈیشن پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ تھی لیکن 2017ء میں حکومت چین نے وجوہات بتائے بغیر اس منصؤبے کو سی پیک سے الگ کر دیا۔اس کا مقام مرکزی مظفرگڑھ شہر سے 11 کلومیٹر دور ہے۔

قابل ذکر مقاماتترميم

فیاض پارکترميم

فیاض پارک شہر کا سب سے مقبول پارک ہے۔ یہ شہر کے تقریباً درمیان میں، کچہری چوک اور نیشنل بنک کی برانچ کے ساتھ واقع ہے۔اس پارک کا نام شہر کے سابق ڈپٹی کمشنر جناب فیاض بشیر کے نام پر رکھا گیا ہے۔اس سے پہلے اس پارک کی جگہ پر ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ ہوتی تھی [9] ۔ فیاض پارک کی دوبارہ تعمیر اور تزین کے بعد اسے اب شہریوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

قابل ذکر شخصیاتترميم

قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں بھی مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے بہت سے اہم افراد سامنے آئے ہیں۔ مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے چند اہم افراد کچھ اس طرح ہیں۔

حوالہ جاتترميم

  1.    "صفحہ مظفر گڑھ في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2022ء. 
  2. "آرکائیو کاپی". 14 اپریل 2006 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2012. 
  3. Area reference آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ 203.215.180.58 (Error: unknown archive URL)
    Density reference آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ statpak.gov.pk (Error: unknown archive URL)
  4. تاریخ ملتان صفحہ 207 ڈاکٹر عاشق محمد خان درانی
  5. "Punjab eGazetteer | Muzaffargarh". gazetteers.punjab.gov.pk. اخذ شدہ بتاریخ 29 اپریل 2022. 
  6. "Muzaffargarh, Pakistan: Caught between two rivers – Oxfam International Blogs". 
  7. Shah، Saeed (20 January 2014). "Pakistan in Talks to Acquire 3 Nuclear Plants From China" – Wall Street Journal سے. 
  8. "Asia News Network". 28 مارچ 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  9. "Fayyaz Park". 03 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 

بیرونی روابطترميم