فیصل آباد

صوبہ پنجاب میں واقع پاکستان کا تیسرا بڑا شہر

فیصل آباد، پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک صنعتی شہر ہے، جو ٹیکسٹائل کا ہب ہے، یہ کراچی اور لاہور کے بعد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔اس کا پس منظر قدیم ترین تہذیب تمدن ٹیکسلا اور گندھارا میں لکھی گئی رگ وید جو پانچ دریاؤں کی سر زمین پنجاب کا ذکر کرتی ہے، جس نے پوری دنیا کے فاتحین کو اپنی طرف کھینچا،  سائرس سے لے کر اسکندر اعظم تک ترتیب وار دیگر حملہ آوروں کے بعد مغلوں نے اپنی سلطنت کا قیام کیا پھر ایسٹ انڈیا کمپنی نے راولپنڈی اور سرحدی علاقوں کے بعد محبت کی دیوی ہیر کے دریا چناب جس پر  پنجاب میں اپنی داغ بیل ڈالی برصغیر کے تاریخی نسلوں بھٹی راجپوت اور سیال اور سکھوں کے تاریخی پس منظر کے باعث اٹھارہ سو ساٹھ عیسوی چناب کے ڈیلٹا سے بنے سرسبزوشاداب پنجاب کے شیشم کے گھنے جنگلات کو بڑی بے دردی سے صفایا کرکے انگلستان کے حاکم وقت نے لائل‌پور کی بنیاد بدست کیپٹن پوپہم ینگ نے اپنی نگرانی  میں شہر کا نقشہ برطانیہ کے جھنڈے یونین فلیگ کی طرز پر رکھوایا۔اور یہاں کی شب کی لکڑی لندن اور برطانیہ کی تعزین و آرائش کے لیے یورپ بھیج دیں گی۔ اب دیکھنے میں یہ شہر ایک مکعب کی صورت میں ڈیزائن ہو گیا اس کے آٹھ بازاروں کا اپنا انفادی طرز ہے۔ بازاروں کے عین وسط میں گھنٹہ گھر یہاں کی پہچان کلاک ٹاور ہے۔ اس ڈیزائن میں لائل‌پور کا رقبہ ایک سوئے دس ایکڑ تھا لیکن آبادی کے اضافے کے ساتھ آٹھ بازاروں کے باہر بھی رہائشی علاقوں کے لیے جگہ کا تعین کیا گیا۔پورے پنجاب سے یہاں نہی آبادکاری شروع ہوئی دو اہم رہائشی علاقے  ڈگلس پورہ اور گرو نانک پورہ۔ لائل‌پور جن میں سکھوں اور ہندوؤں کی اکثریت  تھی اور آبادی کا تناسب تقریباً 15 فیصد مسلمان اور 85 فیصد ہندو اور سکھ قیام پاکستان تک باہمی طور پر رہائش پزیر تھے۔قیام پاکستان سے انیس سو اکہتر تک لائل‌پور کی شہرت ایشیا کے ایک بڑے گاؤں جیسی تھی صدر پاکستان ایوب خان نے اوروزیراعظم ذو الفقار علی بھٹو نے اس شہر کو ٹیکسٹائل کے صنعتی انقلاب سے نوازا۔


لائل پور
Lyallpur
میٹروپولس
Skyline of فیصل آباد Faisalabad
Faisalabad is located in پاکستان
Faisalabad
Faisalabad
فیصل آباد کا پنجاب، پاکستان میں مقام
متناسقات: 31°25′45″N 73°4′44″E / 31.42917°N 73.07889°E / 31.42917; 73.07889
ملکپاکستان
صوبہپنجاب
ضلعضلع فیصل آباد
سابق ناملائل پور
دفتری زباناردو
علاقائی زبانپنجابی زبان
قیام اول1892
قائم ازسر جیمز براڈووڈ لائل
حکومت
 • قسممیونسپل کارپوریشن
 • فیصل آباد کا میئررزاق ملک
 • فیصل آباد کا نائب میئر3 زونل میئرز
رقبہ
 • میٹروپولس1,300 کلومیٹر2 (490 میل مربع)
 • زمینی840 کلومیٹر2 (325 میل مربع)
 • آبی430 کلومیٹر2 (165 میل مربع)
 • میٹرو5,860 کلومیٹر2 (2,261 میل مربع)
بلندی184 میل (605 فٹ)
آبادی (2016)[1]
 • میٹروپولس4,075,000
 • درجہتیسرا
 • کثافت3,200/کلومیٹر2 (8,300/میل مربع)
نام آبادیفیصل آبادی
منطقۂ وقتپاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
 • گرما (گرمائی وقت)پاکستان کا معیاری وقت (UTC+4)
زپ کوڈ38000
ٹیلی فون کوڈ041
گاڑی کی نمبر پلیٹتین حرفی جو ایف(F) سے شُروع ہو اور چار مختلف اعداد(مثلاً:FDA 1234)
زبانیں (1981)98.2% پنجابی زبان
1.8% دیگر[2]
ویب سائٹwww.faisalabad.gov.pk

اِس کا سابق نام لائل پور تھا۔ 1979ء میں سعودی عرب کے سابق بادشاہ شاہ فیصل کے نام پر اِس کا نام فیصل‌آباد رکھ دیا گیا۔شہرۂ‌آفاق قوال و موسیقار نصرت فتح علی خان کا تعلق اسی شہر سے تھا۔

بنیاد

قدیم ترین تہذیب تمدن ٹیکسلا اور گندہارا میں لکھی گئی رگ وید جو پانچ دریاؤں کی سر زمین پنجاب کا ذکر کرتی ہے جس نے پوری دنیا کے فاتحین کو اپنی طرف کھینچا عظیم سارس سے لے کر سکندرا عظم تک ترتیب وار دیگر حملہ آوروں کے بعد مغلوں نے اپنی سلطنت کا قیام کیا پھر ایسٹ انڈیا کمپنی نے راولپنڈی اور سرحدی علاقوں کے بعد محبت کی دیوی ہیر کے دریا چناب جس پر  پنجاب میں اپنی داغ بیل ڈالی برصغیر کے تاریخی نسلوں بھٹی راجپوت اور سیال اور سکھوں کے تاریخی پس منظر کے باعث اٹھارہ سو ساٹھ عیسوی چناب کے ڈیلٹا سے بنے سرسبزوشاداب پنجاب کے شیشم کے گھنے جنگلات کو بڑی بے دردی سے صفایا کرکے انگلستان کے حاکم وقت نے لائلپور کی بنیاد بدست کیپٹن پوپہم ینگ نے اپنی نگرانی  میں شہر کا نقشہ برطانیہ کے جھنڈے یونین فلیگ کی طرز پر رکھوایا۔ اب دیکھنے میں یہ شہر ایک مکعب کی صورت میں ڈیزائن ہو گیا اس کے آٹھ بازاروں کا اپنا انفادی طرز ہے۔ بازاروں کے عین وسط میں گھنٹہ گھر یہاں کی پہچان کلاک ٹاور ہے۔ اس ڈیزائن میں لائلپور کا رقبہ ایک سوئے دس ایکڑ تھا لیکن آبادی کے اضافے کے ساتھ آٹھ بازاروں کے باہر بھی رہائشی علاقوں کے لیے جگہ کا تعین کیا گیا۔پورے پنجاب سے یہاں نہی آبادکاری شروع ہوئی دو اہم رہائشی علاقے  ڈگلس پورہ اور گرو نانک پورہ۔ لائلپور جن مین سکھوں اور ہندوؤں کی اکثریت  تھی اور آبادی کا تناسب تقریباً 15 فیصد مسلمان اور 85 فیصد ہندو اور سکھ قیام پاکستان تک باہمی طور پر رہائش پزیر تھے۔

1892ء میں اسے جھنگ اور گوگیرہ برانچ نامی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا۔ 1895ء میں یہاں پہلا رہائشی علاقہ تعمیر ہوا، جس کا بنیادی مقصد یہاں ایک منڈی قائم کرنا تھا۔ ان دنوں شاہدرہ سے شورکوٹ اور سانگلہ ہل سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مابین واقع اس علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان میں واقع دوآبہ رچنا کا اہم حصہ ہے۔[3] لائلپور شہر کے قیام سے پہلے یہاں پکا ماڑی نامی قدیم رہائشی علاقہ موجود تھا، جسے آج کل پکی ماڑی کہا جاتا ہے اور وہ موجودہ طارق آباد کے نواح میں واقع ہے۔ یہ علاقہ لوئر چناب کالونی کا مرکز قرار پایا اور بعد ازاں اسے بلدیہ کا درجہ دے دیا گیا۔

موجودہ ضلع فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ کرتے۔ اس زمانے کے انگریز سیاح اسے ایک شہر بنانا چاہتے تھے۔ اوائل دور میں اسے چناب کینال کالونی کہا جاتا تھا، جسے بعد میں پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل سر جیمز بی لائل کے نام پر لائلپور کہا جانے لگا۔

عہد بہ عہد

 
قائد اعظم، دھوبی گھاٹ گراؤنڈ، لائل پور
  • 1896ء میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال سے کچھ علاقہ الگ کر کے اس پر مشتمل لائلپور تحصیل قائم ہوئی جسے انتظام و انصرام کے لیے ضلع جھنگ میں شامل کر دیا گیا۔
  • 1902ء میں اس کی آبادی 4 ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔
  • 1903ء میں گھنٹہ گھر کی تعمیر کا آغاز ہوا اور وہ 1905ء میں مکمل ہوا۔
  • 1904ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا، اس سے قبل یہ ضلع جھنگ کی ایک تحصیل تھا۔
  • 1906ء میں لائلپور کے ضلعی ہیڈکوارٹر نے باقاعدہ کام شروع کیا۔ یہی وہ دور تھا جب اس کی آبادی سرکلر روڈ سے باہر نکلنے لگی۔
  • 1908ء میں یہاں پنجاب زرعی کالج اور خالصہ اسکول کا آغاز ہوا، جو بعد ازاں بالترتیب جامعہ زرعیہ فیصل آباد جو زرعی یونیورسٹی کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اور خالصہ کالج کی صورت میں ترقی کر گئے۔ خالصہ کالج آج بھی جڑانوالہ روڈ پر میونسپل ڈگری کالج کے نام سے موجود ہے۔
  • 1909ء میں ٹاؤن کمیٹی کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا اور ڈپٹی کمشنر کو پہلا چیئرمین قرار دیا گیا۔
  • 1910ء میں پنجاب کے نہری نظام کی قدیم ترین اور مشہورنہر لوئر چناب تعمیر ہوئی۔
  • 1920ء میں سرکلر روڈ سے باہر پہلا باقاعدہ رہائشی علاقہ ڈگلس پورہ قائم ہوا۔
  • 1930ء میں یہاں صنعتی ترقی کا آغاز ہوا۔
  • 1934ء میں مشہورِ زمانہ لائلپور کاٹن ملز قائم ہوئی۔
  • 1942ء قائد اعظم محمد علی جناح فیصل آباد تشریف لائے اور انھوں نے دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں عظیم الشان اجتماع سے خطاب کیا۔
  • 3 مارچ 1947ء کو قیام پاکستان کا اصولی فیصلہ اور لائلپور کی پاکستان میں شمولیت بارے خبر ملنے پر لائلپور کے مسلمانوں نے شکرانے کے نوافل ادا کیے اور مٹھایاں بانٹیں۔
  • 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کے باعث شہر کا رقبہ بھی وسعت اختیار کر گیا۔ قیامِ پاکستان کے وقت شہر کا رقبہ صرف 3 مربع میل تھا، جو اب 10 مربع میل سے زیادہ ہو چکا ہے۔ بہت سے نئے رہائشی علاقے بھی قائم ہوئے، جن میں پیپلزکالونی اور غلام محمدآباد جیسے بڑے علاقے بھی شامل ہیں۔
  • 1977ء میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر لائلپور کو میونسپلٹی سے ترقی دے کر میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا گیا۔
  • 1982ء میں اسے ضلع فیصل آباد، ضلع جھنگ اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ پر مشتمل ڈویژنل صدر مقام قرار دیا گیا۔ اسی موقع پر اس کا نام لائلپور سے تبدیل کرتے ہوئے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل شہید کے نام پر فیصل آباد رکھ دیا گیا۔[4]
  • 2005ء میں یہاں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام لاگو کیا گیا۔

وجہ تسمیہ

 
فیصل بن عبدالعزیز آل سعود

1 ستمبر 1977ء کو لائل پور کا نام تبدیل کر کے فیصل آباد رکھا گیا تھا۔

تبدیلی نام کی مہم

1975ء میں پہلی بار کچہری بازار کے فوٹو گرافر عزیز احمد کی جانب سے لائل پور کا نام تبدیل کر کے فیصل آباد رکھنے کی مہم شروع کی گئی تھی، جسے پزیرائی ملی اور بعد میں شہر کی دیگر سیاسی، سماجی و مذہبی شخصیات بھی اس تحریک کا حصہ بن گئیں۔ 16 اپریل 1976ء کو لائل پور کی معروف سماجی شخصیات ثاقب یحیٰی اور ہارون احمد خان نے حکومت کے مختلف عہدے داروں اور اراکین اسمبلی کو خطوط لکھے کہ لائل پور کا نام تبدیل کر کے حضرت بلال حبشی کے نام پر بلال پور رکھا جائے۔

لائل پور کا نام تبدیل کرنے کی مہم کے جواب میں معروف صحافی اور مصنف احمد ندیم قاسمی نے روزنامہ امروز میں اس حوالے سے ایک طویل مضمون لکھ کر متعدد اعتراضات پیش کیے۔

اس مہم کے دوران لائل پور کا نام تبدیل کر کے بلال پور رکھنے کی مہم چلانے والوں کی جانب سے یہ دلیل بھی دی جاتی رہی کہ خانہ کعبہ اور لائل پور کے آٹھ بازاروں کے نقشے میں بہت حد تک مماثلت ہے لہذا اس کا کوئی اسلامی نام رکھا جانا بے حد ضروری ہے۔

01 ستمبر 1977ء کو وفاقی حکومت نے لائل پور کا نام تبدیل کر کے سعودی عرب کے متوفی فرمانروا شاہ فیصل کے نام پر فیصل آباد رکھ دیا۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب ریاض مجید کے مطابق 1977 میں محکمہ مال کی جانب سے جاری ہونے والے ابتدائی گزٹ نوٹیفکیشن میں لائل پور کا نام شاہ فیصل آباد لکھا گیا تھا، جسے تین دن بعد دوبارہ نئے نوٹیفکیشن کے ذریعے تبدیل کر کے فیصل آباد کر دیا گیاـ

موجودہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ مال، لائلپور ٹاؤن، لائلپور ہیریٹیج فاؤنڈیشن اور لائلپور میوزیم کی انتظامیہ کے مطابق ان کے پاس شہر کا نام تبدیل کیے جانے کا کوئی دستاویزی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔[حوالہ درکار]

گھنٹا گھر

 
گھنٹہ گھر فیصل آباد کا تازہ منظر

فیصل آباد کی اہم خصوصیت شہر کا مرکز ہے، جو ایک ایسے مستطیل رقبے پر مشتمل ہے، جس کے اندر جمع اور ضرب کی اوپر تلے شکلوں نے اسے 8 حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اس کے درمیان میں مشہورِ زمانہ گھنٹہ گھر کھڑا ہے، جہاں آ کر آٹھوں سڑکیں آپس میں ملتی ہیں۔ گھنٹہ گھر کے مقام پر ملنے والی آٹھوں سڑکیں شہر کے 8 اہم بازار ہیں، جن کی وجہ سے اسے آٹھ بازاروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ گھنٹہ گھر سے شروع ہو کر بیرونی طرف پھیلتے ہوئے بازار اس جگہ کو برطانوی پرچم کی شکل دیتے ہیں، جو سر جیمزلائل نے اپنے ملک کی یادگار کے طور پر یہاں چھوڑا ہے۔

گھنٹہ گھر کی تعمیر کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر جھنگ کیپٹن بیک (Capt Beke) نے کیا اور اس کا سنگ بنیاد 14 نومبر 1903ء کو سر جیمز لائل نے رکھا۔ جس جگہ کو گھنٹہ گھر کی تعمیر کے لیے منتخب کیا گیا وہاں لائلپور شہر کی تعمیر کے وقت سے ایک کنواں موجود تھا۔ اس کنوئیں کو سرگودھا روڈ پر واقع چک رام دیوالی سے لائی گئی مٹی سے اچھی طرح بھر دیا گیا۔ یونہی گھنٹہ گھر کی تعمیر میں استعمال ہونے والا پتھر 50 کلومیٹر کی دوری پر واقع سانگلہ ہل نامی پہاڑی سے لایا گیا۔

1906ء کے اوائل میں گھنٹہ گھر کی تعمیر کا کام گلاب خان کی زیرنگرانی مکمل ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ گلاب خان کا تعلق اسی خاندان سے تھا، جس نے بھارت میں آگرہ کے مقام پر تاج محل تعمیر کیا تھا۔ گھنٹہ گھر 40 ہزار روپے کی لاگت سے 2 سال کے عرصے میں تعمیر ہوا۔ اس کی تکمیل پر ایک تقریب کا انعقاد ہوا، جس کے مہمانِ خصوصی اس وقت کے مالیاتی کمشنر پنجاب مسٹر لوئیس تھے۔

گھنٹہ گھر میں نصب کرنے کے لیے گھڑی بمبئی سے لائی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ لائل پور کا گھنٹہ گھر ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں تعمیر کیا گیا، جو 80 سال قبل فوت ہو چکی تھیں۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر سے پہلے شہر کے آٹھوں بازار مکمل ہو چکے تھے۔

برطانوی پرچم یونین جیک پر مبنی فیصل آباد شہر کا نقشہ اس دور کے ماہر تعمیرات ڈیسمونڈ ینگ (Desmond Yong) نے ڈیزائن کیا، جو درحقیقت سرگنگا رام کی تخلیق تھا، جو اس دور کے مشہور آبادیاتی منصوبہ ساز (town planner) تھے۔

آٹھ بازاروں پر مبنی شہر کا کل رقبہ 110 مربع ایکڑ تھا۔ گھنٹہ گھر کے مقام پر باہم جڑنے کے علاوہ یہ آٹھوں بازار گول بازار نامی دائرہ شکل کے حامل بازار کی مدد سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ یونین جیک کی بیرونی مستطیل آٹھوں بازاروں کے آخری سروں کو بھی سرکلر روڈ کی شکل میں آپس میں ملاتی ہے۔

گھنٹہ گھر کی تعمیر کے وقت اس کے گرد 4 فوارے بنائے گئے تھے، جو کچہری بازار، امیں پور بازار، جھنگ بازار اور کارخانہ بازار کی سمت موجود تھے اور انھیں آٹھوں بازاروں میں سے دیکھا جا سکتا تھا، مگر مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ ان میں سے 2 فوارے غائب ہو چکے ہیں۔ اب صرف کچہری بازار اور جھنگ بازار کی سمت والے فوارے قائم ہیں۔

ویسے تو اپنی اولین تعمیر 1895ء کے وقت سے اب تک ایک سو پچیس سال سال گزرنے کے باوجود گھنٹہ گھر کی بیرونی حالت درست ہے، تاہم اس کی اندرونی حالت شکست و ریخت کا شکار ہے۔ اگر اس کی مرمت پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو اہل فیصل آباد زلزلے کے کسی چھوٹے جھٹکے سے ایک اہم تاریخی ورثے سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

گھنٹہ گھر کی اندرونی سیڑھیوں اور ستونوں کا پلستر ٹوٹنا شروع ہو چکا ہے۔ سیاح اس کی اڑی ہوئی رنگت اور ہر طرف اڑتی ہوئی دھول سے پریشان ہوتے ہیں۔

آٹھ بازار

 
گھنٹہ گھر اور بازار

گھنٹہ گھر کے گرد قائم 8 بازاروں کے نام اس سمت واقع کسی اہم علاقے کی غمازی کرتے ہیں۔[10][11]

  1. ریل بازار - سمت بجانب مشرق - اس کی بیرونی سمت ریلوے روڈ واقع ہے، جو ریلوے اسٹیشن کو جا نکلتا ہے۔
  2. کچہری بازار - سمت بجانب شمال مشرق - اس کی بیرونی طرف عدالتیں قائم ہیں۔
  3. چنیوٹ بازار - سمت بجانب شمال - اس طرف ضلع چنیوٹ واقع ہے۔
  4. امیں پور بازار - سمت بجانب شمال مغرب - یہاں سے ایک سڑک امیں پور بنگلہ کی طرف جاتی ہے۔
  5. بھوانہ بازار - سمت بجانب مغرب - اس سمت میں بھوانہ واقع ہے۔
  6. جھنگ بازار - سمت بجانب جنوب مغرب - اس بازار کا رخ جھنگ کی طرف ہے۔
  7. منٹگمری بازار - سمت بجانب جنوب - اس بازار کا نام ساہیوال کے پرانے نام منٹگمری کی وجہ سے رکھا گیا، جو اسی سمت واقع ہے۔
  8. کارخانہ بازار - سمت بجانب جنوب مشرق - اس جانب قدیم دور میں کارخانے قائم تھے، جن میں سے چند ایک اب بھی باقی ہیں۔
  • گول بازار - یہ بازار مذکورہ بالا آٹھوں بازاروں کو دوحصوں میں تقسیم کرتے ہوئے گزرتا ہے اور اس گول دائرہ نما بازار کے ذریعے وہ سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

آٹھ بازاروں کی کہاوت

قیام پاکستان کے موقع پر انگریزوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ لائلپور کے آٹھ بازاروں کی صورت میں اپنی شناخت، برطانوی پرچم (یونین جیک) ہمیشہ کے لیے اس خطے میں امر کر کے جا رہے ہیں، جبکہ رد عمل میں یہاں کے باسیوں کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ برطانیہ کے پرچم کو صبح و شام اپنے قدموں تلے روندھتے رہیں گے۔

جغرافیہ

 
پاکستان کے نقشے میں فیصل آباد کا مقام

فیصل آباد صوبہ پنجاب (پاکستان) کے شمال مشرقی حصے میں لاہور سے 120 کلومیٹر دور مغرب کی سمت واقع ہے۔ پاکستان کا دار الحکومت اسلام آباد اس سے 321 کلومیٹر دور شمال کی سمت واقع ہے۔ کراچی فیصل آباد سے تقریباً 1113 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ضلع فیصل آباد 30.35 سے 31.47 شمالی عرض بلد اور 72.73 سے 73.40 مشرقی طول بلد کے درمیان میں سطح سمندر سے 605 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ فیصل آباد کی نواحی اضلاع کے ساتھ کوئی قدرتی حدود موجود نہیں ہیں اور یہ بالعموم میدانی خطے پر مشتمل ہے۔

حدودِ اربعہ

آبی ذخائر

  • دریائے چناب شہر کی شمال مغربی سمت میں 30 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔
  • دریائے راوی شہر کی جنوب مشرقی سمت میں 40 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔
  • نہر لوئر چناب آب رسانی کا واحد ذریعہ ہے، جو قابل کاشت رقبے کے 80 فیصد حصے کو سیراب کرتی ہے۔

رقبہ

  • فیصل آباد کا کل رقبہ 5،856 مربع کلومیٹر ہے، جس میں سے 830 مربع کلومیٹر پر فیصل آباد شہر قائم ہے۔

آب و ہوا

ضلع فیصل آباد کی آب و ہوا دو انتہاؤں کو چھوتی ہے۔ گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 50 سینٹی گریڈ (122 فارن ہائیٹ) تک جا پہنچتا ہے اور سردیوں میں کبھی کبھار درجہ حرارت صفر تک گر جاتا ہے۔ تاہم یومیہ اوسط درجہ حرارت گرمیوں میں 39 سے 27 سینٹی گریڈ اور سردیوں میں 21 سے 6 سینٹی گریڈ کے درمیان میں رہتا ہے۔[12][13][14][15]

آب ہوا معلومات برائے فیصل آباد
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
اوسط بلند °س (°ف) 19.4
(66.9)
22.4
(72.3)
27.3
(81.1)
33.8
(92.8)
38.9
(102)
40.7
(105.3)
37.3
(99.1)
36.3
(97.3)
36
(97)
33.6
(92.5)
27.5
(81.5)
21.8
(71.2)
31.25
(88.25)
یومیہ اوسط °س (°ف) 11.9
(53.4)
14.9
(58.8)
19.9
(67.8)
25.9
(78.6)
31.1
(88)
34
(93)
32.3
(90.1)
31.6
(88.9)
30.1
(86.2)
25.6
(78.1)
18.9
(66)
13.7
(56.7)
24.16
(75.47)
اوسط کم °س (°ف) 4.4
(39.9)
7.4
(45.3)
12.6
(54.7)
18.1
(64.6)
23.3
(73.9)
27.4
(81.3)
27.4
(81.3)
26.9
(80.4)
24.2
(75.6)
17.6
(63.7)
10.4
(50.7)
5.7
(42.3)
17.12
(62.81)
اوسط عمل ترسیب مم (انچ) 14
(0.55)
15
(0.59)
21
(0.83)
14
(0.55)
13
(0.51)
26
(1.02)
102
(4.02)
91
(3.58)
33
(1.3)
6
(0.24)
3
(0.12)
8
(0.31)
346
(13.62)
ماخذ: Climate-Data.org، بلندی: 188 میٹر

موسم گرما

موسم گرما اپریل سے شروع ہو کر اکتوبر تک ختم ہوتا ہے۔ مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں گرم ترین موسم ہوتا ہے۔

موسم سرما

موسم سرما کا آغاز ماہ نومبر میں ہوتا ہے، جو مارچ تک جاری رہتا ہے۔ دسمبر اور جنوری سرد ترین مہینے ہوتے ہیں۔یہ شہرصحرائے تھل سے زیادہ دُور نہیں ہے اور صرف 100 کلومیٹر کی دُوری پر ہے اور صحرائے تھل کا شُمار دُنیا کے گرم ترین صحراؤں میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے فیصل آباد میں موسم گرما میں شدید گرم ہوجاتا ہے لیکن 11 دسمبر 1996 کے دن فیصل آباد میں درجہ حرارت منفی 1 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جو اس شہر کا آج تک سب سے کم درجہ حرارت ہے۔

آبادی

سانچہ:پاکستانCensusPop آبادی کے لحاظ سے فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ صنعتی شہر ہونے کی وجہ سے اس کی آبادی دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ بے شمار لوگوں نے زندگی کی بہتر سہولیات کی تلاش میں دیہات چھوڑ کر شہر کی طرف ہجرت کی اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس وقت شہر کی آبادی 35,42,000 ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 46 فیصد آبادی 15 سال سے کم عمر، 52 فیصد 15 سے 64 سال کی عمر میں اور باقی 2 فیصد 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔ آبادی کا تناسب فی مربع کلومیٹر 9،594 ہے۔[16][17]

1961ء میں فیصل آباد کی آبادی 4،30،000 تھی، جو 1972ء تک بڑھ کر 8،30،000 کو جا پہنچی اور 1981ء میں یہاں کل 11،00،000 سے زیادہ نفوس آباد تھے۔ 2006ء میں فیصل آباد کی آبادی 45،82،175 نفوس پر مشتمل تھی۔ 47 سالوں میں فیصل آباد کی آبادی میں ایک ہزار گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس کی سالانہ شرح 21.3 فیصد ہے۔ آبادی کے اسی تیزی سے بڑھتے ہوئے تناسب نے اسے جلد ہی کراچی اور لاہور کے بعد پاکستان کا سب سے بڑا شہر بنا دیا۔[18]

سیاست

 
مجلس شوریٰ پاکستان

قومی اسمبلی پاکستان کی پارلیمان کا ایوان زیریں ہے۔ جس کی صدارت اسپیکر کرتا ہے جو صدر اور ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین کی عدم موجودگی میں ملک کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا سربراہ عموماً وزیر اعظم منتخب ہوتا ہے جو قائد ایوان بھی ہوتا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی 342 نشستوں پر مشتمل ہے۔ فیصل آباد سے قومی اسمبلی کی 10 نشستیں ہیں جس کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔[19]

پنجاب صوبائی اسمبلی

 
پنجاب صوبائی اسمبلی

پنجاب صوبائی اسمبلی پاکستان میں پنجاب کا قانون ساز ایوان ہے کو کہ لاہور میں واقع ہے۔ یہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 106 کے تحت قائم کی گئی۔ اس ایوان کی 371 نشستیں ہیں جن میں سے 305 پر براہ راست انتخابات منعقد ہوتے ہیں جبکہ 66 نشستیں خواتین اور غیر مسلم اقلیتوں کے لیے مخصوص ہیں۔ فیصل آباد سے پنجاب صوبائی اسمبلی کے لیے 20 حلقے ہیں جن کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔[20]

انتظامی تقسیم

فیصل آباد ڈویژن

 
فیصل آباد ڈویژن

فیصل آباد ڈویژن پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ایک انتظامی تقسیم تھی۔ 2000 کی حکومتی اصلاحات کے نتیجے میں اس تیسرے درجے کی تقسیم کو ختم کر دیا گیا۔ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد پنجاب نے اس کے آٹھ ڈویژنوں کو بحال کر دیا۔[21]

انتظامیہ

فیصل آباد ڈویژن کے چار اضلاع مندرجہ ذیل ہیں۔

2005ء میں ملک کے دوسرے بڑے شہروں کی طرح فیصل آباد میں بھی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام لاگو کیا گیا، جس کے مطابق اسے 8 مختلف ٹاؤن میں تقسیم کر دیا گیا۔ ماضی کی تحصیلیں بھی اس نئے نظام کے تحت ٹاؤن کا درجہ پا گئیں۔[22]

 

یونین کونسلیں

قصبہ جات

علم و سائنس

مشہورِ زمانہ زرعی یونیورسٹی اور ایوب زرعی تحقیقی ادارہ کی وجہ سے یہ شہر پاکستان بھر میں نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ زرعی یونیورسٹی کا قیام 1908ء میں پنجاب زرعی کالج کے نام سے عمل میں آیا تھا۔ فیصل آباد کو ایک وقت میں سائنسدانوں کا شہر بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ یہاں پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر سے زیادہ تعداد میں پی ایچ ڈی سائنس دان موجود ہیں۔ صرف زرعی یونیورسٹی میں 200 سے زیادہ پی ایچ ڈی سائنس دان ہیں۔ اسی طرح ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف زرعی بائیوٹیکنالوجی اور نیوکلیئرحیاتیاتی وجینیاتی انجینئری انسٹی ٹیوٹ میں بھی سیکڑوں سائنس دان اپنی پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔اردو کے مشہور محقق ،ادیب نقاد پروفیسر ڈاکٹر سہیل عباس خان بلوچ (صدر شعبہ اردو جامعہ غازی ڈیرہ غازی خان) کا تعلق بھی فیصل آباد سے ہے۔جو اردو ادب میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

اہم تعلیمی ادارے

 
جی سی یونیورسٹی فیصل آباد

فیصل آباد میں اعلیٰ و ثانوی تعلیم کے لیے بہت سے تعلیمی ادارے قائم ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

جامعات

دانشگاہیں (کالجز)

دیگر ادارے

صحت

فیصل آباد میں صحت کی صورت حال پاکستان کے دوسرے شہروں سے کچھ خاص بہتر نہیں، تاہم پچھلے چند سالوں سے سرکاری ہسپتالوں کی صورت حال ماضی کی نسبت کافی بہتر ہوئی ہے۔

سرکاری ہسپتال

ٹرسٹ ہسپتال

نجی ہسپتال

 
الرازی ہسپتال، بٹالہ کالونی

شہر میں بے شمار چھوٹے بڑے نجی ہسپتال موجود ہیں، جو مریضوں کو نسبتاً مہنگے علاج کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر گلی محلے میں ایک آدھ نجی کلینک ضرور موجود ہوتا ہے۔

  • نیشنل ہسپتال، جناح کالونی
  • فیصل ہسپتال، پیپلز کالونی
  • مکی ہسپتال، پیپلز کالونی
  • ساحل ہسپتال، سرگودھا روڈ
  • غفور بشیر چلڈرن ہسپتال
  • واپڈا ہسپتال
  • مدینہ ٹیچنگ ہسپتال
  • ہلال احمر میٹرنٹی ہسپتال
  • النور ہسپتال
  • الرازی ہسپتال، بٹالہ کالونی

پینے کا پانی

زیرزمین شوریدہ پانی نے پچھلے چند سالوں سے مقامی آبادی کو کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ صاف پانی کے حصول کے لیے لوگوں کو ایسے نجی اداروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو واٹرفلٹرنگ پلانٹ کی مدد سے پانی صاف کر کے بیچتے ہیں۔

علاوہ ازیں شہر کے وسط سے گزرنے والی نہر یہاں کے باسیوں کو صاف پانی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نہر کے دونوں اطراف ہر ایک دو کلومیٹر کے فاصلے پر زمین سے پانی نکالنے والی موٹریں نصب ہیں، جن سے لوگ صبح و شام مفت پانی بھرتے ہیں۔ نہر کا تازہ پانی زمین چوس لیتی ہے اور اس قدرتی فلٹرنگ نظام کے بعد اس پانی کو موٹروں کی مدد سے نکال لیا جاتا ہے۔ صاف پانی کے حصول کے سلسلے میں یہ فیصل آباد میں ایک منفرد تجربہ ہے جو مخیر حضرات نے فی سبیل اللہ مہیا کر رکھا ہے۔

صنعت / معیشت

 
فیصل آباد ٹیکسٹائل کا شہر

آزادی کے بعد فیصل آباد پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر بن کر ابھرا ہے۔ اس کی معیشت کا بڑا انحصار کپڑے کی صنعت ہے۔ شہر اور اس کے گرد و نواح میں بسے دیہات میں ہر طرف ٹیکسٹائل ملز اور پاورلومز کا جال بچھا ہوا ہے۔ صنعتی نیٹ ورک اور پارچہ بافی مصنوعات کی بدولت اسے پاکستان کا مانچسٹر بھی کہا جاتا ہے۔[24][25][25] یہ پاکستان میں قائم پارچہ بافی صنعت کا مرکز ہے۔ قیام پاکستان کے وقت فیصل آباد میں صرف 5 صنعتی یونٹ تھے، جو محض ایک سال بعد 1948ء میں 43 کو جا پہنچے۔ اب یہاں ہزاروں کی تعداد میں صنعتی یونٹ قائم ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں 512 بڑے صنعتی یونٹ، 92 انجینئری یونٹ اور 90 کیمیکل یونٹ قائم ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں 12،000 کے قریب گھریلو صنعتیں بھی قائم ہیں، جن میں 60،000 پاور لومز بھی نصب ہیں۔[26]

کپڑے کے علاوہ یہاں آٹا، چینی، گھی، مکھن، سبزیاتی تیل، ادویات، ریشم، صابن، کیمیائی کھادیں، فائبر، کینن مصنوعات، زیورات، گھریلو فرنیچر، رنگائی، کپڑے کی مشینری، ریلوے مرمت، بائیسکل، ہوزری، قالین بافی، نواڑیں، طباعت، اشاعت، زرعی آلات اور لکڑی کی مصنوعات بھی پائی جاتی ہیں۔[27]

پاکستان کا 25 فیصد زر مبادلہ فیصل آباد پیدا کرتا ہے، یوں یہ زر مبادلہ پیدا کرنے والے شہروں میں پاکستان بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔[28][29][30] پاکستان کی سب سے قدیم اور ایشیا کی سب سے بڑی اور اکلوتی زرعی یونیورسٹی کی بدولت یہ شہر ایک بڑی زرعی مارکیٹ بن چکا ہے۔ فیصل آباد کی بڑی فصلیں کپاس، گندم، گنا، سبزیاں اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں کپڑے اور غلہ کی ہول سیل مارکیٹیں/تھوک منڈیاں قائم ہیں۔ یہاں ٹیکسٹائل یونیورسٹی بھی قائم ہے جو اپنی نوعیت میں پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے اور فیصل آباد کی صنعتی ترقی میں اس یونیورسٹی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔

گھنٹہ گھر کے گرداگرد قائم آٹھوں بازار مختلف قسم کی مارکیٹیوں پر مشتمل ہیں، جو شہر کی صنعتی و تجارتی افزائش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت سے شہر کی ترقی میں بہتری عمل میں آئی ہے۔ صنعتی ترقی میں درمیانے طبقے کی شمولیت انتہائی اہم ہے۔

خشک گودی (ڈرائی پورٹ)

فیصل آباد میں خشک گودی بھی قائم ہے، جس کا حجم 60 میٹرک ٹن کارگو یومیہ ہے۔ اس گودی کے لیے مخصوص سڑکوں اور ریلوے اسٹیشن کا انتظام بھی ہے، جس کے ذریعے وہ لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کراچی کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہتی ہے۔ فیصل آباد کا برآمدی کارگو ہر سال پہلے سے بڑھ رہا ہے۔ فیصل آباد موٹروے کی بدولت انتہائی تیزی سے ترقی کر ر ہا ہے۔ جسے پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے تعمیر کرکے فیصل آباد کو تعداد بلحاظ صنعت دنیا کا سب بڑا شہر ہونے کا اعزاز دلوادیا۔ جبکہ اس سے پہلے یہ اعزاز مانچسٹر کو حاصل تھا۔

ذرائع آمدورفت

شہر میں سفر کی مناسب سہولتیں میسر ہیں اور شہر کے بڑے حصوں کو ملانے والی سڑکوں کی حالت بہترین ہے۔

شاہراہیں

پاکستان کے مروجہ نظام شاہراہیں کے تحت قائم بین الاضلاعی شاہراہوں کے ذریعے یہ شہر سرگودھا، چنیوٹ، جھنگ، سمندری، اوکاڑہ، جڑانوالہ اور شیخوپورہ کے ساتھ متصل ہے۔ فیصل آباد کو شیخوپورہ کے راستے لاہور سے ملانے کے لیے ایکسپریس ہائی وے موجود ہے۔[31]

موٹروے

 
ایم 2 موٹروے

فیصل آباد کے سرگودھا روڈ سے نکلنے والی ایم 3 موٹروے پنڈی بھٹیاں کے مقام پر اسے لاہور اور اسلام آباد کو ملانے والی ایم 2 موٹروے سے ملاتی ہے۔ فیصل آباد کو ملتان سے ملانے کے لیے ایم 4 موٹروے ابھی زیرتعمیر ہے، جس کا (گوجرہ تک) پہلا حصہ 16 مارچ، 2015ء کو کھول دیا گیا۔[31][32][33]

ریلوے اسٹیشن

 
فیصل آباد ریلوے اسٹیشن

فیصل آباد کا مرکزی ریلوے اسٹیشن 19 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ آج کل وہاں سے پاکستان کے اکثر بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور اور ملتان کے لیے ریل گاڑیاں جاتی ہیں۔[34][35][36] اس کے علاوہ چک جھمرہ میں چک جھمرا جنکشن ریلوے اسٹیشن بھی موجود ہے۔

 
فیصل آباد ہوائی اڈا

ہوائی اڈا

شہر سے 15 کلومیٹر کی مسافت پر جھنگ روڈ پر بین الاقوامی فیصل آباد ہوائی اڈا موجود ہے، جہاں پاکستان کی قومی ہوا باز کمپنی (شرکت)پی آئی اے کے علاوہ نجی کمپنیوں کے جہاز بھی مسافروں کو اپنی خدمات دیتے ہیں۔[37][38][39]

قابلِ دید مقامات

فیصل آباد میں عوامی دلچسپی کے بہت سے مقامات ہیں، جن میں اہم تعمیرات، اسٹیڈیم، عوامی باغات اور تفریحی مقامات شامل ہیں۔

لائلپور میوزیم۔ فیصل آ باد

لائلپور میوزیم پاکستان کا علاقائی عجائب گھر ہے۔ جو ساندل بار کے علاقے کی ترجمانی کرتا ہے۔ ساندل بار، دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان میں ایک علاقہ ہے۔ اس خطے سے وابستہ صدیوں پرانی ثقافت کولائلپور میوزیم کے توسط سے اُجاگر کیا گیا ہے۔

لائلپور عجائب گھر، دس مختلف گیلریوں پر مشتمل ہے۔ گراؤنڈ فلور پر پانچ گیلریاں ہیں جن میں پتھر کے دور سے لے کر چناب کالونی تک کے مختلف ادوار کو  ایک ترتیب سے دکھایا گیا ہے۔ جن میں تعین سمت سوچ گیلری، ساندل بار گیلری، قدیم ورثہ گیلری، مسلم تا انگریز گیلری اور چناب کالونی گیلری شامل ہے۔ فرسٹ فلور بھی پانچ گیلریوں پر مشتمل ہے جن میں لائلپور گیلری، سوچ و عمل گیلری، معاشرتی خوبصورتی گیلری، پارچہ بافی گیلری اور تحریک و تاریخ کی گیلری ہے۔

گھنٹہ گھر

شہر کے مرکز میں واقع گھنٹہ گھر فیصل آباد کی سب سے اہم تاریخی عمارت ہے۔

گمٹی + قیصری دروازہ

 
گمٹی

ریل بازار کی بیرونی سمت واقع قیصری دروازہ اور اس کے باہر چوک میں واقع بارہ دری جیسی مختصر عمارت گمٹی کہلاتی ہے، جس کے گرد ٹریفک کا گول چکر موجود ہے۔ یہاں سے ایک سڑک چناب کلب کو نکل جاتی ہے۔ قیصری دروازے کی تعمیر 1897ء کو مکمل ہوئی۔ سن تعمیر دروازے پر نمایاں طور لکھا ہے۔

چناب کلب

 
چناب کلب، فیصل آباد

چناب کلب فیصل آباد کا ایک اہم تاریخی کمیونٹی سنٹر ہے۔[40]

تفریحی مقامات

اہم رہائشی علاقے

تجارتی مراکز

 
ڈی گراؤنڈ، فیصل آباد
  • آٹھ بازار
  • امین پوربازار
  • سبزی منڈی، سدھار، غلام محمد آباد
  • میٹرو کیش اینڈ کیری
  • اسٹیٹ لائف بلڈنگ (شہر کی بلند ترین عمارت)
  • دو برج شاپنگ مال
  • پیراڈائز ان شاپنگ مال
  • سٹی شاپنگ مال
  • دوبئی شاپنگ مال
  • ٹائم سکوائر شاپنگ مال
  • ستارہ مال
  • رسول پلازہ
  • جھال خانوآنہ، ستیانہ روڈ
  • ریکس سٹی (کمپیوٹر مارکیٹ)، ستیانہ روڈ
  • رحمن سٹی، ستیانہ روڈ
  • رپل پلازہ، ڈی گراؤنڈ
  • خان پلازہ، ہریانوالہ چوک
  • چن ون، پیپلز کالونی
  • کوہ نور ون شاپنگ مال، جڑانوالہ روڈ
  • میڈیا کوم شاپنگ مال
  • میڈیا کوم ٹریڈ سٹی
  • سنٹر پوائنٹ

مَساجِد

 
جامع مسجد سنی رضوی مع مزار مولانا سردار احمد، جھنگ بازار فیصل آباد
  • جامع مسجد سنی رضوی (جھنگ بازار)
  • جامع مسجد تحصیل والی (کچہری بازار)
  • جامع مسجد گول (غلام محمد آباد)
  • جامع مسجد عمر (گلبہار کالونی)
  • جامع مسجد جامعۃالنور (گارڈن کالونی)
  • جامع مسجد خضراء، پیپلز کالونی
  • جامع مسجد بوستان زہراء، پیپلز کالونی
  • جامع مسجد آل عمران، سدھوپورہ
  • جامع مسجد فیضان مدینہ، سوساں روڈ، مدینہ ٹاؤن
  • جامع مسجد مدنی، سمن آباد
  • جامع مسجد مدنی، بٹالہ کالونی
  • جامع مسجد گلزار مدینہ (کوتوالی روڈ)
  • جامع مسجد اجمیری سرسید ٹاؤن

مزارات

دينی مدارس

  • الجامعہ السلفیہ فیصل آباد
  • جامعہ اسلامیہ امداديہ، ستیانہ روڈ : رمضان 1403ھ بمطابق 1983ءشیخ الحدیث مولانا نذیر احمد(رح) نے اپنے شیخ و مرشد عارف باللہ حضرت ڈاکٹرعبدالحی عارفی کی سرپرستی میں قائم فرمایا۔
  • جامعہ دارالقرآن: آفيسرکالونی عقب کريسنٹ ٹیکسٹائل ملز سرگودھا روڈ یہ مدرسہ حضرت قاری رحیم بخش پانی پتی (رح)کے شگرد خاص قاری یٰسن صاحب کی زیر سر پرستی چل رہا ہے
  • جامعہ ضیاء القرآن (باغ والی مسجد) نزد جناح کالونی: یہ مدرسہ حضرت قاری رحیم بخش پانی پتی (رح) کے شگرد خاص قاری یٰسن صاحب کی زیرسرپرستی چل رہا ہے
  • جامعۃ الحسنین (فیصل آباد) یہ ادارہ معروف عالمی مبلغ حضرت مولانا طارق جمیل صاحب کی زیر نگرانی چل رہا ہے
  • جامعہ دار العلوم: فوارہ چوک (پيپلز کالونی) یہ ادارہ معروف عالمی مبلغ استاذ العلماء حضرت مفتی زین العابدین (رح) نے قائم فرمایا تھا
  • جامعہ مدینۃ العلم (بکرمنڈی) یہ ادارہ استاذ العلما ء حضرت قاری محمد الیاس صاحب کی زیرسرپرستی چل رہا ہے
  • جامعہ عبید یہ (ڈی ٹائپ کالونی): یہ ادارہ پیرطریقت حضرت مولانا جاوید حسین شاہ صاحب کی زیرنگرانی چل رہا ہے
  • جامعہ فاروق اعظم (جھنگ روڈ)
  • جامعۃ النور (معروف ادارۃ النور): پیپلز کالونی نزد بابر چوک پر واقع ہے یہ ادارہ (استاذ العلماء استاذ الحدیث حضرت مولانا محمد خاں صاحب کی زیرنگرانی چل رہا ہے
  • جامعہ عبد اللہ بن عباس (شیخوپورہ روڈ) پر واقع ہے
  • دارالعلوم نوریہ رضویہ، فیصل آباد : علامہ سید ہدایت رسول شاہ قادری کی زیرسرپرستی، فیصل آباد گلبرگ اے میں واقع عظیم درسگاہ
  • جامعۃ و مدرسۃ الدینہ مدینہ ٹاؤن سردار آباد
  • جامع مسجد سنی رضوی مع مزار مولانا سردار احمد، جھنگ بازار فیصل آباد
  • جامعہ علوم اسلامی ملت ٹاؤن
  • جامعہ المعصومین فیص آباد 1965ء
  • فیضان مدینہ: سوسان روڈ مدینہ ٹاؤن دعوت اسلامی کامدنی مرکزہے یہاں پر ہر جمعرات کوبعد نماز مغرب ہفتہ وارسنتوں بھرے اجتماع کاانعقادہوتاہے جس میں شہربھرسے کثیرعاشقانِ رسول شرکت کرتے ہیں۔ اجتماع کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوتا ہے پھر نعت رسولِ مقبول (سلی اللی تعالی علیہ وآلہ وسلم)سے عاشقانِ‌رسول کے قلوب کو گرمایا جاتا ہے پھر سنتوں بھرا اصلاحی بیان ہوتا ہے جس کو سن کر معاشرے کے کئی بگڑے ہوئے افراد گناہوں سے توبہ کر کے اپنے کردار وگفتار کی اصلاح کر کے معاشرے میں عزت کا مقام پاتے اور آخرت کی بھرپور تیاری کرتے ہیں۔
  • جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ: سوساں روڈ مدینہ ٹاؤن۔۔۔یہ دعوت اسلامی کے زیر انتظام قرآن وحدیث، تفسیر وفقہ اور علوم اسلامیہ کے فیضان کو عام کرنے اور عالم کورس کروانے والا عظیم الشان دینی ادارہ ہے یہاں پر درس نظامی کی تعلیم کے ساتھ عربی، انگریزی، کمپوٹر اورعصری علوم کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ یہاں سے عالم کورس مکمل کرنے والے عالم دین کو "مدنی" کہا جاتا ہے

جامعہ قاسمیہ، 14اے بلاک، غلام محمدآباد، فیصل آباد1960ء:بانی امام الخطباء مولانا ضیاء القاسمی (رح)یہ ادارہ صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی کی زیر نگرانی چل رہا ہے

جامعہ عمر فاروق اسلامیہ، سمندری، ضلع فیصل آباد:جس کی بنیاد علامہ ضیاءالرحمن فاروقیشہید (رح) نے شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد(رح) اور شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی (رح)کی سرپرستی میں 1988ءمیں رکھی

شرب و طعام

 
مکڈونلڈز، فیصل آباد

رَیستُوران

  • فیصل آباد سرینا ہوٹل، کلب روڈ
  • دی ڈینسٹی ہوٹل، جڑانوالہ روڈ
  • ہوٹل لارڈز ان، پیپلز کالونی
  • ہوٹل ون، پیپلز کالونی نمبر 1، ہریانوالہ چوک
  • رپل ہوٹل، رپل پلازہ، ڈی گراؤنڈ
  • ڈی پرل کانٹیننٹل، ڈی گراؤنڈ
  • ہالی ڈے ان، ڈی گراؤنڈ
  • خیام گارڈن، ستیانہ روڈ
  • ریکس ہوٹل، ستیانہ روڈ
  • ساندل بار ہوٹل، ستیانہ روڈ
  • معراج ہوٹل، بٹالہ کالونی، ستیانہ روڈ
  • پرل کانٹیننٹل ہوٹل، کشمیر پل، مشرقی کینال روڈ
  • لائلپور جمخانہ، مغربی کینال روڈ
  • البراق ہوٹل، ریلوے روڈ
  • پرائم ہوٹل، کوتوالی روڈ
  • ریز ہوٹل، کوتوالی روڈ
  • گریس ہوٹل، سرکلر روڈ، چنیوٹ بازار
  • سٹی ہوٹل، امیں پور بازار
  • سبینا ہوٹل، پریس مارکیٹ
  • ہوٹل ایسٹ ان، شیخوپورہ روڈ
  • نیشنل ہوٹل، سرگودھا روڈ
  • فرزند ہوٹل، غلام محمد آباد

کھیل

 
اقبال اسٹیڈیم، فیصل آباد

سینما

  • منروا سینما
  • بابر سینما
  • نگینہ سینما
  • سبینا سینما
  • نشاط سینما
  • ریگل سینما
  • ناولٹی سینما

ذرائع ابلاغ

پریس کلب

فیصل آباد کا پریس کلب صحافت اور ادبی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے فیصل آباد پریس کلب کے بانی صدر ڈاکٹر حیدر چوہدری تھے اور ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ مسلسل دو بار فیصل آباد پریس کلب کے صدر بنے

اخبارات

ریڈیو

  • فیصل آباد ریڈیو (سرکاری)
  • ایف ایم ریڈیو پاکستان فیصل آباد 93 (سرکاری)
  • ایف ایم ریڈیو 101 (سرکاری)
  • ایف ایم ریڈیو 103 (نجی)
  • ایف ایم ریڈیو 89(نجی)
  • ایف ایم ریڈیو 90 (نجی)
  • ایف ایم ریڈیو 94.6 (نجی)

فلم / ڈراما

  • عزیزی اسٹوڈیو - انگریزی فلموں کو مزاحیہ پنجابی ترجمہ کے ساتھ پیش کرنے والا پاکستان کا سب سے منفرد اسٹوڈیو

نگارخانہ

جڑواں شہر

شہر علاقہ ملک سال
مانچسٹر   انگلستان   مملکت متحدہ 1997
کوبے   ہیوگو پریفیکچر   جاپان 2000
لاس اینجلس   کیلیفورنیا   ریاستہائے متحدہ 2009
ووہان   ہوبئی   چین 1986
سینٹ پیٹرز برگ   سینٹ پیٹرز برگ1   روس 1962
قرطبہ   اندلوسیا   ہسپانیہ 1986
کانپور   اتر پردیش   بھارت 1970

قابل ذکر شخصیات

 
نصرت فتح علی خان
 
رانا ثناءاللہ

پروفیسر ڈاکٹر سہیل عباس خان بلوچ

رہائشی یونٹس

  • واپڈا سٹی
  • وکلا ولاز
  • عثمان ٹاؤن
  • ماڈل ٹاؤن

مزید دیکھیے

اندرونی روابط

بیرونی روابط

دستاویزی فلم

شہر نتائج

درجہ شہر آبادی (1998 مردم شماری) آبادی (2017 مردم شماری) اضافہ صوبہ
1 کراچی 9,856,318 16,051,521 [42] 62.86% سندھ
2 لاہور 5,143,495 11,126,285  116.32% پنجاب، پاکستان
3 فیصل آباد 2,008,861 3,203,846 59.49% پنجاب، پاکستان
4 راولپنڈی 1,409,768 2,098,231 48.84% پنجاب، پاکستان
5 گوجرانوالہ 1,132,509 2,027,001 78.98% پنجاب، پاکستان
6 پشاور 982,816 1,970,042 100.45% خیبر پختونخوا
7 ملتان 1,197,384 1,871,843  56.33% پنجاب، پاکستان
8 حیدرآباد، سندھ 1,166,894 1,732,693 48.49% سندھ
9 اسلام آباد 529,180 1,014,825 91.77% اسلام آباد وفاقی دارالحکومت علاقہ
10 کوئٹہ 565,137 1,001,205 77.16% بلوچستان

حوالہ جات

  1. Major Agglomerations of the World – Population Statistics and Maps
  2. Stephen P. Cohen (2004)۔ The Idea of پاکستان۔ Brookings Institution Press۔ صفحہ: 202۔ ISBN 0-8157-9761-3 
  3. "City of Faisalabad"۔ The University of Faisalabad۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 دسمبر 2015 
  4. Shahid Javed Burki (2015)۔ Historical Dictionary of پاکستان۔ Rowman & Littlefield۔ صفحہ: 196۔ ISBN 978-1-4422-4148-0 
  5. "History of Faisalabad"۔ Punjab Portal۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 جون 2016 
  6. Integrated Slums Development Programme (ISDP) (مارچ 2001)۔ "Faisalabad CITY PROFILE and SELECTION OF WARDS"۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 جولائی 2015  "آرکائیو کاپی"۔ 23 ستمبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2017 
  7. His surname Lyall was joined with "pur" which in old سنسکرت language means city.
  8. "Spoken Sanskrit Dictionary"۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جون 2016 
  9. "A History of Faisalabad City"۔ The Faisalabad Chamber of Commerce & Industry۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 جولائی 2015 
  10. "The Best Planned Localities of پاکستان: 8 bazaars of Faisalabad:"۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2017 
  11. "Clock Tower of Faisalabad, پاکستان"۔ The Lovely Planet۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2017 
  12. "پاکستان Weather"۔ پاکستان Meteorological Department۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2016 
  13. "Weather Advisory for Farmers"۔ پاکستان Meteorological Department۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2016 
  14. "Regional Agrometeorological Center Faisalabad"۔ پاکستان Meteorological Department۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جون 2016 
  15. "Climate: Faisalabad – Climate graph, Temperature graph, Climate table"۔ Climate-Data.org۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 ستمبر 2013 
  16. بھارت Unbound: from Independence to the Global Information age by Gurcharan Das
  17. "Chapter 6: Faisalabad, پاکستان"۔ The 2004 Baseline Survey on Millennium Development Goals in AACs۔ Asian Urban Information Center of Kobe۔ 2004۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 دسمبر 2015 
  18. "Major cities – population"۔ پاکستان Demographics Profile 2014۔ IndexMundi۔ 2014۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 دسمبر 2015 
  19. National Assembly of پاکستان
  20. "Welcome to Provincial Assembly of Punjab"۔ 07 اپریل 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2017 
  21. "Office of Div Commissioner restored"۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2017 
  22. فیصل آباد سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ٹاؤنز آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ faisalabad.gov.pk (Error: unknown archive URL) از ویب گاہ حکومت فیصل آباد
  23. http://www.tuf.edu.pk
  24. International Conference on Soil Sustainability and Food Security. University of Agriculture, Faisalabad. 2005. Archived from the original on 2018-12-26. https://web.archive.org/web/20181226015428/http://uaf.edu.pk/error.html?aspxerrorpath=%2Fdownloads%2F2nd_path%2FBrochure_SSFS_2015.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 جون 2016. 
  25. ^ ا ب Christophe Jaffrelot (2002)۔ پاکستان: Nationalism Without A Nation۔ Zed Books۔ صفحہ: 57۔ ISBN 978-1-84277-117-4 
  26. "Cluster Profile Light Engineering, Faisalabad"۔ Small & Medium Enterprise Development Authority Ministry of Industries۔ 6 ستمبر 2012۔ صفحہ: Introduction–3۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2017 
  27. Amina Batool، Salma Shaheen، Samina Majeed، Rao Shehzad Akhtar Alli Kahn، Muhammad Hayat Kahn، Abid Hussain Gulshan۔ "Faisalabad Industrial Cluster" (PDF)۔ Scope and Development of Industrial Clusters in پاکستان۔ Directorate of Training and Research, Lahore۔ صفحہ: 10۔ 22 اگست 2016 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 جون 2016 
  28. Sharif, Farhan (26 اپریل 2012)۔ "پاکستان's Textile Industry Is Dangerously Fragile"۔ Bloomberg۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 جون 2016 
  29. Shamsul Islam (17 مارچ 2013)۔ "Romanian honorary consulate in Faisalabad"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جولائی 2016 
  30. "Foreign Consulates in Faisalabad"۔ Embassy Pages۔ 18 جنوری 2016۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جولائی 2016 
  31. ^ ا ب "National Highway Authority"۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جون 2016 
  32. Mahboob Elahi (12 جون 2007). Performance Benchmarking in WASA Faisalabad. Anjuman Samaji Behbood. Archived from the original on 2018-12-26. https://web.archive.org/web/20181226015348/http://www.asb.org.pk/WASA%20faisalabad.pdf%20۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 جون 2016. 
  33. "Japan gifts WASA Faisalabad with Equipment to improve Sewerage and Drainage system"۔ www.jica.go.jp۔ Japan International Cooperation Agency۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جون 2016 
  34. "Ministry of ریلویز"۔ Government of پاکستان۔ Ministry of ریلویز Government of پاکستان۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 جون 2016 
  35. Zaheer Mahmood Siddiqui (7 دسمبر 2014)۔ "Karachi-Faisalabad route: ریلویز to resume cargo express"۔ Dawn۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جون 2016 
  36. "ریلویز to earn Rs 12b from freight trains"۔ The Nation۔ 8 فروری 2016۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جون 2016 
  37. "پاکستان Civil Aviation Authority"۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جون 2016 
  38. "Qatar Airways becomes Faisalabad's second international service"۔ anna.aero۔ PPS Publications۔ 17 جولائی 2015۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جون 2016 
  39. "Gulf Air adds Faisalabad and Multan to پاکستان network"۔ www.gulfair.com۔ Gulf Air۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جون 2016 
  40. "THE CHENAB CLUB – History"۔ 6 فروری 2004 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  41. Andrew McGlashan۔ "Iqbal Stadium"۔ ESPN Sports Media Ltd.۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2015 
  42. "آرکائیو کاپی" (PDF)۔ 16 جون 2020 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 جنوری 2022