بہرام سوم

ایرانی شہنشاہ

بہرام سوم ساسانی سلطنت کا چھٹا شہنشاہ تھا۔ وہ ایک کمزور بادشاہ تھا کیونکہ اسے تخت نشین ہویے ابھی صرف چار ماہ ہی ہوئے تھے کہ شاہپور اول کے بیٹے نرسی نے بغاوت کر کے بہرام سوم سے حکومت چھین لی اور خود شہنشاہ بن گیا۔

بہرام سوم
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 3ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 293ء (-8–-7 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت ساسانی سلطنت   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد بہرام دوم   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان خاندان ساسان   ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
ساسانی سلطنت کا بادشاہ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
293  – 293 
بہرام دوم  
نرسی  
عملی زندگی
پیشہ شاہی حکمران   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ولی عہد

ترمیم

شہنشاہ بہرام دوم کے عہد حکومت میں پہلا ولی عہد اس کا بھائی ہرمز بن بہرام اول تھا۔ 283ء میں روم اور ایران کی جنگ ہو رہی تھی اس دوران ہرمز بن بہرام اول نے بغاوت کر دی اور خراسان میں اپنی الگ سلطنت قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساکا، کوشان اور گیسل قبائل کی طاقت شامل تھی۔ ان حالات میں شہنشاہ بہرام دوم نے روم سے صلح کر لی۔ اس کے بعد اس نے اپنی تمام طاقت اکھٹی کر کے باغی بھائی ہرمز بن بہرام کے خلاف استعمال کی۔ اس کے نتیجے میں شہنشاہ بہرام دوم کو فتح حاصل ہوئی۔ اس کے بعد شہنشاہ نے اپنے شہزادے بہرام بن بہرام دوم (شہنشاہ بہرام سوم) کو ہرمز کی جگہ ولی عہد مقرر کیا۔ شہنشاہ بہرام دوم نے اپنے بیٹے کو سگانشاہ کا گورنر مقرر کیا کیونکہ ساسانی رواج کے بعد کسی اہم صوبے یا اس صوبے کا گورنر ولی عہد کو بنایا جاتا تھا جو سب سے آخر میں فتح ہو۔

تخت نشینی

ترمیم

شہنشاہ بہرام دوم کی وفات 293ء میں ہوئی۔ شہنشاہ کو اپنے اہل و عیال سے بہت پیار تھا اس وجہ سے اس نے اپنی یادگاریں بھی مع اہل و عیال کے چھوڑی ہیں۔ شہنشاہ نے اپنے بیٹے بہرام کو 283ء میں ولی عہد مقرر کیا تھا اس لیے بہرام بن شہنشاہ بہرام دوم اپنے والد کے جانشین کے طور اور ایران کے چھٹے ساسانی شہنشاہ کے طور پر 293ء میں تخت نشین ہوا۔ بہرام نے شہنشاہ بہرام سوم کے نام سے شہرت پائی۔

بغاوت

ترمیم

شہنشاہ بہرام سوم کا عہد حکومت صرف چار ماہ پر مشتمل تھا۔ شہنشاہ بہرام سوم کو تخت نشین ہوئے ابھی چار ماہ ہی ہوئے تھے کہ نرسی نے نے بغاوت کر دی۔ نرسی شہنشاہ بہرام سوم کے دادا بہرام اول کا بھائی اور شہنشاہ شاہپور اول کا بیٹا تھا۔ نرسی کو اس بغاوت میں کامیابی ملی اور اس کی تخت نشینی اسی سال شہنشاہ نرسی کے طور پر کر دی گئی۔ اس طرح شہنشاہ بہرام سوم کی حکومت نرسی بن شاہپور اول نے اس سے چھین لی اور اس کا اقتدار ختم کر دیا۔ [1]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تاریخ ایران قدیم (زمانہ قدیم تا زوال بغداد) مولف شیخ محمد حیات صفحہ 40 ، 41