تابوت سکینہ:بنی اسرائیل کا وہ صندوق جس میں انبیا کے تبرکات تھے

تابوت سکینہ

معنی

ترمیم

تابوت بروزن فعلوت۔ توب سے مشتق ہے جس کے معنی رجوع کے ہیں۔ اور اسے تابوت اس لیے کہتے ہیں کہ جو چیز اس میں سے نکالی جاتی تھی وہ پھر واپس اسی میں چلی آتی تھی [1] اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ تابوت بمعنی لکڑی کا صندوق عموماً مستعمل ہے اس کی جمع توابیت ہے۔ سکینۃ یعنی اس میں ایسی چیزیں رکھی ہوئی ہیں جن سے تمھاری تسکین ہو جائے گی۔ یا تابوت کی واپسی کا امر ای فی اتیانہ سکون لکم وطمانیۃ۔ سکینۃ۔ تسکین۔ تسلی خاطر۔ اطمینان۔ سکون سے بروزن فعیلۃ مصدر ہے جو اسم کی جگہ استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہ عزیمۃ ہے۔
علامہ بغوی سید محمد مرتضے زبیدی لکھتے ہیں:۔ سکینہ وہ اطمینان۔ چین و قرار اور سکون ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے قلب میں اس وقت نازل فرماتا ہے جب کہ وہ ہولناکیوں کی شدت سے مضطرب ہو جاتا ہے پھر اس کے بعد جو کچھ بھی اس پر گذرے وہ اس سے گھبراتا نہیں ہے یہ اس کے لیے ایمان کی زیادتی۔ یقین میں قوت اور استقلال کو ضروری کر دیتا ہے۔[2]

تبرکات کا صندوق

ترمیم

اس تابوت میں موسیٰ اور ہارون کے تبرکات تھے، اس تابوت کو ان کے دشمن عمالقہ چھین کرلے گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر یہ تابوت فرشتوں کے ذریعہ حضرت طالوت کے دروازہ پر پہنچا دیا۔ جسے دیکھ کر بنی اسرائیل بہت خوش ہوئے اور من جانب اللہ طالوت کی بادشاہت کی نشانی بھی سمجھا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس تابوت کو ان کی فتح و شکست کا سبب قرار دیا۔[3] بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلا آتا تھا اس میں تبرکات تھے موسیٰ وغیرہ انبیائے بنی اسرائیل اس صندوق کو لڑائی میں آگے رکھتے اللہ اس کی برکت سے فتح دیتا جب جالوت غالب آیا ان پر تو یہ صندوق بھی وہ لے گیا تھا جب اللہ تعالیٰ کو صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ کہا کہ وہ کافر جہاں صندوق رکھتے وہیں وبا اور بلا آتی پانچ شہر ویران ہو گئے ناچار ہو کر دو بیلوں پر اس کو لاد کر ہانک دیا فرشتے بیلوں کو ہانک کر طالوت کے دروازے پر پہنچا گئے بنی اسرائیل اس نشانی کو دیکھ کر طالوت کی بادشاہت پر یقین لائے اور طالُوت (ساؤل) نے جالوت پر فوج کشی کی اور موسم نہایت گرم تھا۔[4]

یہود کے ہاں اس کی اہمیت

ترمیم

تابوت سکینہ مسلمانوں کے لیے صرف ایک صندوق جتنی اہمیت رکھتا ہے اور قرآن میں اس کے بارے میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کو اس وقت فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے مزید اس کے بارے میں قرآن اور حدیث میں مکمل خاموشی ہے- لیکن تابوت سکینہ یہودی مذہب میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور اسے انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے- مسیحیت میں بھی یہ اہمیت کا حامل ہے اور اس کا ذکر ان کی کتابوں میں بھی ملتا ہے-[5]

بنی اسرائیل اس صندوق کو بڑا متبرک اور اپنے لیے فتح و نصرت کا نشان سمجھتے تھے- جب یہ صندوق ان کے ہاتھ سے نکل گیا تو پوری قوم کی ہمت جواب دے گئی اور ہر ایک اسرائیلی یہ سوچنے لگا کہ خدا کی رحمت ہم سے دور ہو گئی اور اب ہمارے برے دن آگئے ۔ (بحوالہ سموئیل 1 - باب 6'201:7)

یہودیوں اور مسیحیوں کے نظریے کے مطابق تابوت سکینہ موسیٰ نے خدا کے کہنے پر بنایا تھا اور اس میں وہ پتھر کی لوحیں لاکر رکھی تھیں جو ان کو خدا نے کوہ سینا پر دی تھیں اور جن میں یہودی مذہب کی تعلیمات بیان کی گئی تھیں- مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں حضرت موسی کا عصا اور من وسلویٰ بھی رکھا گیا تھا جو بنی اسرائیل کے لوگوں کے لیے اللہ تعالٰی نے آسمان سے نازل کیا تھا- یہ بہت مقدس تابوت شمار کیا جاتا تھا اورہمیشہ مذہبی رہنما اس کو اٹھایا کرتے تھے اور اس کی حفاظت کے لیے فوج کا ایک دستہ بھی ہمیشہ ساتھ رہتا تھا نیز یہ بنی اسرائیل کے نزدیک فتح اور برکت کی علامت تھا- اس کو جنگوں کے دوران میں لشکر سے آگے رکھا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس تابوت کی برکت کی وجہ سے جیت ہمیشہ بنی اسرایئل کی ہی ہو گی۔

تابوت کا گم ہونا

ترمیم

جب بنی اسرائیل اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرنے لگے اور کھلم کھلا وہ کام کرنے لگے جن سے اللہ نے انھیں منع کیا تھا تو یہ تابوت ان سے ایک جنگ کے دوران میں کھو گیا اور انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا- یہ تابوت حضرت طالوت کے زمانے میں واپس مل گیا

اسی بارے میں قرآن میں بھی ارشاد ہے،"ان لوگوں سے ان کے نبی نے کہا کہ طالوت کے بادشاہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ تمھارے پاس وہ صندوق واپس آ جائے گا جس میں تمھارے رب کی طرف سے تسکین قلب کا سامان ہے اور وہ کچھ اشیاء بھی ہیں جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے اس کو فرشتے اٹھا کر لائیں گے اور بلاشبہ اس میں تمھارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو"248:2

یہ تابوت جب تک مشرکین کے پاس رہا تب تک اس کی وجہ سے ان پر مشکلات نازل ہوتی رہیں اور آخر کار تنگ آکر انھوں نے اسے ایک بیل گاڑی پر رکھ کر اپنے علاقے سے باہر نکال دیا اور فرشتوں نے اس بیل گاڑی کو ہنکا کر واپس بنی اسرائیل تک پہنچا دیا اور غالبا"اسی بات کی طرف قرآن پاک میں بھی اشارہ کیا گیا ہے- حضرت داؤد کے زمانے تک اس تابوت کو رکھنے کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں تھا اور اس کے لیے پڑاؤ کی جگہ پر ایک الگ خیمہ لگا دیا جاتا تھا- حضرت داؤد نے خدا کے حکم سے خدا کا گھر بنانا شروع کیا جو عین اس مقام پر ہے جہاں آج مسجد اقصیٰ موجود ہے-لیکن یہ عالی شان گھر آپ کے بیٹے حضرت سلیمان کے عہد میں مکمل ہوا اور اس کو ہیکل سلیمانی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس گھر کی تعمیر کے بعد تابوت سکینہ کو یہاں پورے احترام کے ساتھ رکھ دیا گیا۔ اور اس طرح یہ مقام یہودیوں کا مقدس ترین مقام بن گیا۔ بعد کے زمانے میں ہونے والی جنگوں نے اس ہیکل کو بہت نقصان پہنچایا لیکن بابل کے بادشاہ بخت نصر (نبو کد نضر) نے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اس کو آگ لگا دی، وہ یہاں سے مال غنیمت کے ساتھ ساتھ تابوت سکینہ بھی لے گیا تھا۔ اس تباہی کے نتیجے میں آج اصلی ہیکل کی کوئی چیز باقی نہیں ہے۔ ان تمام تباہیوں کے نتیجے میں تابوت سکینہ کہیں غائب ہو گیا اور اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔

اجزائے تابوت

ترمیم

اس صندوق میں کیا ہے؟ بائبل کے مطابق اس میں حضرت یوسف کا جسد مبارک اور بائبل ہی کی بعض روایات کی رو سے ہڈیاں اور کپڑے تھے اور اسے حضرت موسی مصر سے اپنے ساتھ لائے تھے۔

قصص الانبیاء میں ہے کہ اس متبرک صندوق میں تورات کا اصل نسخہ حضرت موسی و ہارون کے عصاء و پیرہن اور من کا مرتبان محفوظ تھے۔ فلسطینوں نے اسے اسرائیلیوں سے چھین کر اپنے مندر ’’بیت و جون میں رکھ دیا تھا۔

قرآن مجید میں اس کے بارے میں تصریح ہے کہ جب اسرائیلیوں کے ہاتھوں سے یہ صندوق نکل گیا تو فرشتے اس کی حفاظت پر مامور تھے۔اور اس میں آل موسی اور آل ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات تھے۔ جن میں پتھر کی وہ تختیاں جو طور سینا پر اللہ تعالی نے حضرت موسی کو دی تھیں۔ اس کے علاوه تورات کا وہ اصل نسخہ جسے حضرت موسی نے لکھوا کر بنی لاوی کی حفاظت میں دیا تھا۔ نیز ایک بوتل جس میں ”من“ بھر کر محفوظ کر دیا گیا تھا تاکہ آنے والی نسلیں اللہ تعالی کے اس احسان کو یاد کریں جو صحرا میں ان کے باپ دادوں پر کیا گیا تھا اور غالبا حضرت موسی کا عصا بھی اس صندوق کے اندر تھا۔

تابوت کی تلاش

ترمیم

آج بھی بہت سارے ماہر آثار قدیمہ اور خصوصاً یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے ماہر اس کی تلاش میں سرکرداں ہیں تاکہ اس کو ڈھونڈ کر وہ اپنی اسی روحانیت کو واپس پا سکیں جو کبھی ان کو عطا کی گئی تھی۔

تابوت سکینہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں مختلف لوگ قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں کچھ کے نزدیک اس کو افریقہ لے جایا گیا، ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ ران وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں موجود ہے اور کچھ لوگوں کے مطابق اس کو ڈھونڈنے کی کوشش انگلینڈ کے علاقے میں کرنی چاہیے- بہرحال کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال انھیں ناکامی کا سامنا ہے۔

ایک بزرگ کے بقول یہ تابوت قیصرانی قبیلے کے علاقے غربن میں موجود ہے۔ غربن پاکستان کے ضلع ڈیرہ غازیخان کی ایک تحصیل تونسہ شریف میں ہے۔[حوالہ درکار]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تفسیر مظہری قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی
  2. انوار البیان فی حل لغات القرآن جلد1 صفحہ204 ،علی محمد، سورہ البقرہ،آیت248،مکتبہ سید احمد شہید لاہور
  3. تفسیرجلالین، جلال الدین السیوطی، سورہ البقرہ، آیت248
  4. تفسیر عثمانی، شبیر احمد عثمانی۔ سورۃ البقرہ، آیت248
  5. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا- ص ٥٠٣، ج اول،از سید قاسم محمود، عطش درانی- مکتبہ شاہکار لاہور

بیرونی روابط

ترمیم