تاریخ بخارا یا اخبار بخارا ابتدائی دور سے حملہ چنگیز خان تک بخارا کی نہایت مستند تاریخ ہے جو ہر قسم کے تملق اور فضولیات سے بالکل پاک ہے۔
ابو بکر محمد نوشحی نے 332ھ / 944ء میں اس کتاب کو نوح اول سامانی کے لیے بزبان عربی مدون کیا۔

تراجم و تلخیصترميم

قباوی نامی ایک شخص نے 522ھ / 1128ء میں اس کا ترجمہ فارسی میں کیا۔ جو مطالب اسے نامناسب نظر آئے انہیں حذف کر دیا اور بعض اہم ممطالب اہنی طرف سے جا بجا بڑھا دیے۔ محمد بن زفر بن عمر نے اس فارسی ترجمے کی تلخیص کی اور کتاب کو صدرجہاں ب رہان الدین عبد العزیز صدر الصدور بخارا کے نام سے مزین کر دیا۔ آخر میں کسی اور نے چنگیز خان کی آمد تک کے واقعات کا مزید اضافہ کر دیا۔
یورپ میں بھی اس کے تراجم ہو چکے ہیں۔

طباعت و اشاعتترميم

یہ کتاب بخارا اور تہران میں چھپ چکی ہے۔