تہران

ایران کی دارالحکومت

تہران جمہوریہ ایران کا دار الحکومت ہے۔ تہران کی سرکاری زبان فارسی ہے۔ اور سرکاری مذہب شیعہ اسلام ہے۔ تہران میں جمہوریہ اسلامی کی دفترِ حکومت میں رہتا ہے۔ آج کل کے ایرانی صدر، حسن روحانی ہیں۔ تہران کے شمال میں پہاڑ ہیں۔ بے ہنگم اور بے تحاشا ٹريفک كو تہران كا ايک مسئلہ خيال كيا جا رہا ہے بعض علاقوں میں گاڑى لانے کے لیے خصوصى پرمٹ دركار ہے كچه منطقوں کے لیے صرف ايک جفت نمبر والى گاڑیاں آگے آ سكتى ہیں اور دوسرے دن طاق نمبر والى – اس سب كے باوجود ہاہا کار مچی رہتى ہے انقلابى حكومت نے زير زمين ريل گاڑی کا منصوبہ بنايا تها جو چھ سات برس قبل مكمل ہو گیا ليكن مسئلہ صرف جزوى طور پر حل بوا- شہر میں نہايت عمده بسيں بهى چل رہى ہیں جن کے اسٹاپ ديكهنے سے تعلق ركهتے ہیں

تہران
تهران
ام البلاد
تہران، دارالحکومت جمہوریہ ایران
تہران، دارالحکومت جمہوریہ ایران
ملکFlag of Iran.svg ایران
صوبہ تہران
شہرستانشہرستان تہران
شہرستان رے
Shemiranat County
حکومت
 • ناظممحمد باقر قالیباف
رقبہ
 • ام البلاد686 کلومیٹر2 (265 میل مربع)
 • میٹرو18,814 کلومیٹر2 (7,264 میل مربع)
بلندی1,200 میل (3,900 area_cod +2,198 فٹ)
آبادی (2006)
 • کثافت10,327.6/کلومیٹر2 (26,748.3/میل مربع)
 • شہری7,088,287
 • میٹرو13,413,348
 • ایران میں درجہ بلحاظ آبادیپہلا
 Population Data from 2006 Census and Tehran Municipality.[1][2] Metro area figure refers to صوبہ تہران.
منطقۂ وقتIRST (UTC+3:30)
 • گرما (گرمائی وقت)IRDT (UTC+4:30)
ویب سائٹwww.tehran.ir

تہران ایک بدسورت اور بڑے گاؤں کے طور پر جانا جاتا ہے [3]

اگر آپ تہران میں ہیں اور غیر مقامی لہجے کے ساتھ فارسی زبان بولتے ہیں تو تہران والے آپ کی توہین کریں گے اور آپ کا احترام نہیں کریں گے.[4]

تمام آلودگی کی وجہ سے تہران اکثر سموگ میں ڈوبا رہتا ہے۔ تہران میں روزانہ تقریبا 2270 افراد خراب ہوا سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں.[5]

استنبول کے مقابلے میں ، تہران کی عمارتیں اور انفراسٹرکچر بہت پسماندہ ہے ، جبکہ استنبول خود خلیجی ممالک کے شہروں کے مقابلے میں بہت پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ ہے۔

حوالہ جاتترميم

  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔