تجارت دراصل اجناس (goods) اور خدمات (services) کے رضاکارانہ تبادلے کو کہا جاتا ہے۔

ایک پاکستانی کپڑے کی منڈی

تجارت کی اصل شکل تبادلۂ اجناس تھی، جس میں اجناس اور خدمات کا براہِ راست یا بلاواسطہ تبادلہ کیا جاتا تھا۔ جدید تاجر عموماً تبادلۂ اجناس کی بجائے تجارت کا ایک وسیلہ اِستعمال کرتے ہیں، مثلاً پیسہ. نتیجتاً، خریداری کو فروخت یا منافع سے تفریق کیا جا سکتا ہے۔ پیسے کی ایجاد نے تجارت کو سادہ اور غیر پیچیدہ بنادیا ہے اور اِس کو اور ترقی سے نوازا ہے۔

دو تاجروں کے درمیان تجارت کو دو طرفی تجارت جبکہ دو سے زیادہ تاجروں کے درمیان تجارت کو کثیر فرقی تجارت کہتے ہیں۔
تجارت، اُس عمل کو بھی کہا جاتا ہے جو تاجرین اور مالیاتی منڈیوں کے کماش یا کارندے انجام دیتے ہیں۔

بین الاقوامی یا عالمی تجارت

ترمیم

ملکی و قومی سرحدات کے آر پار تجارت کو بین الاقوامی یا عالمی تجارت کہاجاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں یہ کل قومی پیداوار (GDP) کا ایک اہم حصہ ظاہر کرتا ہے۔ گوکہ، بین الاقوامی تجارت کی تاریخ بہت پُرانی ہے، تاہم، اِس کی اِقتصادی، معاشرتی و سماجی اور سیاسی اہمیت حالیہ صدیوں میں بڑھی ہے، خصوصاً صنعت کاری و کارخانہ داری، اعلی نقل و حمل و باربرداری، عالمگیریت، کثیر ملکی ادارے اور بیرونی ماخذیت کی بدولت حقیقتاً یہ شاید عالمی تجارت کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ ہے جسے عموماً عالمگیریت کہاجاتا ہے۔

مزید دیکھیے

ترمیم