اصطلاح term
منڈی market

منڈی مختلف انواع کے نظامات، اداروں، طرائق، معاشرتی نسبتوں اور بنیادی ڈھانچہ کو کہتے ہیں بذریعہ جس کے افراد اپنی مرضی سے اشیاء کا تبادلہ کرتے ہیں۔
پچھلے تین چار سو سالوں سے گورے کی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ خرید و فروخت کی لگ بھگ ہر شئے کو کاغذی شکل بھی دے دی جائے۔ مثلاً روئی اپنی اصل شکل میں بھی منڈی میں دستیاب ہوتی ہے اور کاغذی شکل (اسٹاک، فیوچر، آپشن وغیرہ) کی شکل میں بھی۔ یہی صورتحال غلہ، دھاتوں، معدنی تیل وغیرہ کی بھی ہے۔ روئی کی پیداوار محدود ہو سکتی ہے لیکن روئی کے اسٹاک دنیا میں پیدا ہونے والی روئی کی مقدار سے زیادہ چھاپے جا سکتے ہیں۔ جب امیر ممالک ایسی چیزیں امپورٹ کرتے ہیں تو کاغذی منڈی میں اس چیز کی بھرمار کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے اصل مارکیٹ میں بھی ان چیزوں کی قیمت کم ہو جاتی ہے اور گوروں کو یہ چیز نہایت سستی دستیاب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب وہ کوئی چیز تیسری دنیا کو ایکسپورٹ کرتے ہیں تو کاغذی منڈی میں اس چیز کے اسٹاک کم کر کے ریٹ بڑھا دیتے ہیں۔ چاکلیٹ بنانے کے لیے cocoa bean ایکسپورٹ کرنے والے ممالک اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ چند سال پہلے ہم ایک ٹن cocoa bean ایکسپورٹ کر کے ایک جیپ خرید سکتے تھے مگر اب ایک وہی جیپ خریدنے کے لیے ہمیں 10 ٹن cocoa bean ایکسپورٹ کرنے پڑتے ہیں۔

Wet market in Singapore

اقسامترميم

بنیادی طور پر منڈی (مارکیٹ) دو قسم کی ہوتی ہیں۔

  1. اجناس کی منڈی
  2. مالیات کی منڈی

اجناس کی منڈیترميم

اس میں روزمرہ کے استعمال کی چیزوں کی لین دین ہوتی ہے۔ یہ منڈی اس وقت بھی موجود تھی جب انسان نے تاریخ لکھنا نہیں سیکھا تھا۔ اس کی مزید دو بڑی قسمیں ہوتی ہیں۔

  1. حقیقی منڈی جہاں خریدار اور بیچنے والا ایک دوسرے سے ربط بناتے ہیں جیسے بازار، شاپنگ مال وغیرہ۔ نیلام بھی حقیقی منڈی کی ایک قسم ہے۔
  2. آن لائن منڈی جہاں فون یا انٹرنیٹ کی مدد سے خریدار اور بیچنے والا ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں جیسے علی بابا یا ایمیزون۔ آن لائن منڈیاں انیسویں صدی کے وسط میں ٹیلی گرافی کی ایجاد کے بعد وجود میں آئیں۔

مالیات کی منڈیترميم

اس میں مالیاتی کاغذوں کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ یہ 1602ء میں اس وقت شروع ہوئی جب ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی نے دنیا میں پہلی دفعہ اپنے کاغذی شیئر چھاپ کر بیچنے شروع کیے۔ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد کاغذی اثاثے بتدریج ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل ہو گئے۔

مالیاتی منڈی کی مزید 4 اقسام ہوتی ہیں۔[1]

  1. اسٹاک مارکیٹ۔ اس میں کسی کمپنی کے کاغذی حصص کی لین دین ہوتی ہے۔
  2. بونڈ مارکیٹ۔ اس میں حکومت یا کسی بڑی کمپنی کے قرضوں کی کاغذی دستاویزات کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ ان قرضوں پر بونڈ کے خریدار کو سود ملتا ہے۔
  3. فورین ایکسچینج مارکیٹ۔ اس میں مختلف ممالک کی کاغذی یا ڈیجیٹل کرنسی کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ یہ آج دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے۔
  4. فیوچر مارکیٹ۔ اس میں کسی جنس (چیز) کی مستقبل کی قیمت کے اندازوں پر سٹے بازی ہوتی ہے۔
جنس عالمی کاروبار کا روزانہ حجم[2]
معدنی تیل (پیٹرولیئم) 7 ارب ڈالر
اسٹاک (شیئر) 270 ارب ڈالر
بونڈ (قرضے) 835 ارب ڈالر
کرنسی (فورین ایکسچینج) 6,600 ارب ڈالر[3]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم