نستعلیق میں حرف ب کے ترسیمے؛ ب (حرف) اور ترسیمہ میں فرق کے لیے مضمون دیکھیے۔

ترسیمہ یا وصلی (انگریزی: ligature) کسی بھی تحریر (دستی یا مشینی) میں ان لکیروں یا خطوط کو کہا جاتا ہے جو کسی لفظ میں ملنے والے دو حروف کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ اسی بات کو ٹائپوگرافی یا کمپیوٹر تحریر کے اعتبار سے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان مشینی تحریروں میں ایک اصطلاح فانٹ کی اکائی (grapheme) استعمال ہوتی ہے جس سے مراد اپنا ایک الگ تشخص رکھنے والی کوئی لکیر ہوتی ہے؛ مثال کے طور پر 'آ' اور 'ان' کے الفاظ میں سے دونوں میں دو عدد اکائیاں موجود ہیں اور جب ان اکائیوں کو آپس میں ملانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس ملانے والی لکیر کو ترسیمہ کہتے ہیں۔ گویا اگر غ اور م کی اکائیوں کو آپس میں جوڑ کر لفظ غم بنایا جائے تو غ کی شکل جس مقام پر تبدیل ہو کر م سے جڑے گی وہ جگہ ترسیمہ کہلائے گی؛ لیکن عموما اس غ (یعنی اس کی تبدیل شدہ مکمل شکل) کو بھی ترسیمہ کہہ دیا جاتا ہے جبکہ بعض کتب و جرائد میں غ اور م کی کو ملانے والی شکل ترسیمہ کہی جاتی ہے۔

کہاں سے کہاں تک؟ترميم

کسی تحریر یا (خطاطی) میں جوڑے جانے والے حروف میں ایک ترسیمہ کہاں شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم ہوتا ہے؟ اس بات کا تعلق خطاطی کے انداز پر ہوتا ہے۔ متعدد زبانوں (جیسے رومن ابجد سے لکھی جانے والی) میں اس بات کا فیصلہ نسبتاً آسان ہے کہ کہاں سے کہاں تک اور کس شکل کا ترسیمہ استعمال ہوا؛ لیکن خمدار اندازِ تحریر (چینی، عربی، جاپانی وغیرہ) اور حروف کو جوڑ کر لکھی جانے والی (فارسی، اردو، عربی وغیرہ) زبانوں میں ترسیمہ کی شکل و صورت اپنے سے آگے یا پیچھے جڑنے والے حرف یا انداز خطاطی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔

حرف، اکائی اور ترسیمہترميم

کمپیوٹر سائنس میں حرف سے مراد ایک ایسی معنائی اکائی (semantic unit) کی ہوتی ہے جو اس متعلقہ زبان کے ایک بنیادی اور آزاد ابجد کے طور پر کمپیوٹر کی میموری میں رکھی جاسکتی ہو۔ فانٹ کی اکائی وہ خط یا لکیر (سیدھی یا خمدار یا پیچدار) ہوا کرتی ہے جو یا تو ایک حرف پر بھی مشتمل ہو سکتی ہے یا ایک سے زیادہ حروف پر بھی۔ یعنی اگر سادہ انداز میں کہا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک حرف ہمیشہ ایک اکائی بھی ہوتا ہے جبکہ ایک اکائی ہمیشہ ایک حرف نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک یا ایک سے زیادہ حرف کو جوڑ کر کھینچی گئی ایک لکیر ہوتی ہے۔ اور ترسیمہ ان الفاظ کی جڑنے والی سیاقی حساس (context sensitive) شکل کو کہا جاتا ہے۔ پھر حروف اور ترسیموں سے مل کر بننے والی اکائیوں کے ایک جیسے انداز کے مجموعہ کو فونٹ کہا جاتا ہے۔