جاپان میں بدھ مت 550ء سے 575ء کے درمیان میں متعارف ہوا۔ یہاں بدھ مت کی ابتدائی شکل چینی تھی جو کوریا کی وساطت سے منتقل ہوئی لیکن بعد ازاں جاپانیوں نے اپنے طور پر قابل لحاظ فکری اور نظریاتی ترقی کی۔ نہوں نے اپنی قومیت پرستی کے باعث مکمل طور پر چینی ذرائع سے استفادہ کرنا عار خیال کیا اور تراجم کی مدد سے اپنی الگ تشریحات لکھنے کا آغاز کر دیا۔ جاپانی بدھ مت کی نمایاں خصوصیات مقامی مجموعہ عقائد شنتو مت کے ساتھ مفاہمانہ رویہ ہے۔ چنانچہ شنتو مت کے کئی دیوتا بدھ کے اوتاروں کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں اور یہی حال دوسری طرف ہے۔[1]

جاپان میں موجود ایک اسٹوپا۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. کرشن کمار، خالد ارمان (2007ء)، گوتم بدھ راج محل سے جنگل تک، آصف جاوید برائے نگارشات پبلشرز 24-مزنگ روڈ، لاہور