چوتھی صدی کے اواخر (375ء — 400ء) میں بدھ مت چین سے کوریا جا پہنچا اور چینی تمدن کے دیگر پہلوؤں کے شانہ بشانہ کوریا کی ترقی پسند حلقوں میں دن بدن مقبولیت حاصل کرنے لگا۔ کوریا اس زمانے میں تین حصوں میں منقسم ہونے کی وجہ سے کئی سماجی اور تاریخی تغیرات کا شکار تھا اور چینی تمدن کی برتری نے کوریا کے مقتدر طبقات کو مثاثر رکھا تھا چنانچہ وسیع پیمانے پر علوم و فنون اور سماجی و سیاسی سانچے چین سے مستعار لے کر اختیار کرنے کا رجحان فروغ پا رہا تھا۔ کوریا میں بدھ مت کی اشاعت بھی اسی تمدنی تغیر کا نتیجہ تھی۔ آہستہ آہستہ ”کوریائی بدھ مت“ ایک عوامی مذہب بننے میں کامیاب ہو گیا۔ کوریا کا بدھ مت کی نشو و نما میں کوئی منفرد یا غیر معمولی کردار نظر نہیں آتا۔ بدھ مت کی تاریخ میں کوریا کی اہمیت صرف اس درمیانی واسطے کی حیثیت ہے جس کے باعث بدھ مت چین سے جاپان کو منتقل ہوا۔[1]

کوریا کے ”تانگ دوسا“ مندر میں موجود گوتم بدھ کی تصویر

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. کرشن کمار، خالد ارمان (2007ء)، گوتم بدھ راج محل سے جنگل تک، آصف جاوید برائے نگارشات پبلشرز 24-مزنگ روڈ، لاہور