جنسیت ہمہ رخی نمونے میں چھُپی ہو سکتی ہے جس میں زندگی کے مختلف گوشے شامل ہو سکتے ہیں: حیاتیات، تولید، ثقافت، تفریح، تعلقات اور محبت۔[1]

گزشتہ کئی دہوں میں جنسیت میں دل چسپی کافی بڑھ چکی ہے اور اس بات کی زیادہ جستجو رہی ہے کہ “جنسیت کے حق” کو سماج اور اشخاص، دونوں زمروں میں مساوی طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس ارتقا کا ایک نتیجہ یہ رہا ہے کہ تکالیف اور اذیتوں کے شکار لوگوں کی جانب سے مداخلت کی مزید واضح درخواستیں دیکھی گئی ہیں۔ ان مُتلاشیوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان جنسی اور تعلقات میں نمایاں تبدیلیاں محسوس کی گئی ہیں۔

ہند و پاک کے عوام کے مسائلترميم

برصغیر میں عمومی الجھنوں یعنی کمپلیکسز کے علاوہ جنسی الجھنوں کی وجہ یہ ہے کہ سماج میں تمام دیواریں،”آپ کو جوان بنادوں” قسم کے اشتہاروں، سنیاسیوں، حکمائے حاذق اور طلائے مچھلی قسم کے اشتہاروں سے بھری پڑی ہیں۔ مختلف قسم کے مضر کشتہ جات کے استعمال سے گردوں کے خراب اور بالآخر ختم ہو جانے میں کہیں زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔[2] اس کے لیے بھی ماہرین مناسب پیشہ ورانہ تشخیص، صلاح و مشورہ اور نیز عند الضرورت مناسب ادویہ فراہمی کو ضروری قرار دیا ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Del Re G., Bazzo G., Programma di educazione sessuale e relazionale-affettiva. In Veglia F., (2004) Manuale di educazione sessuale, Vol. I, Erickson, Trento.
  2. کچھ علم جنسیات کے شعور بارے: ڈاکٹر مجاہد مرزا کا کالم

بیرونی روابطترميم