مادہ جنین کشی پیدائش سے پہلے ہی لڑکیوں کے وجود کو ختم کرنے کا عمل ہے۔

ترقی پزیر ممالک میں میں خواتین کو مناسب تعلیم کے مواقع مفقود یا کم ہونے کا ایک خراب اثر سماج پر بھی پڑا ہے۔ لوگ خواتین کو اپنے ہم شانہ نہیں سمجھتے۔ مذہبی اور ساماجی رو سے مردوں کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی ہے۔ مزید یہ کہ عورتوں کو کو گھر کی چار دیواری تک ہی محدود کر دیا گیا۔ اس کی وجہ سے کچھ حلقوں میں لڑکیوں کے روپ میں نرسوں کا تصور کرنے کی غلط تصویر کشی سماج میں تیار ہوئی ہے۔ جوانی میں محبت اور جوان جوڑوں کے ملنے سے حمل کا ظاہر ہونا سماج میں سنگین گناہ مانا گیا ہے۔ جس خاندان کی لڑکی ایسا کرتی ہے، سماج میں اس کی ناک کٹتی ہے اور اس کے علاوہ جنسی تعلقات بنانے کے معاملے میں بھی خواتین کی ہی تنقید زیادہ کی جاتی ہے۔

ان باتوں کو کئی ممالک میں سماج نے اپنے وقار کا سوال بنا لیا ہے۔ انھی وجودہ سے لوگ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں اپنے وقار کو ٹھیس پہنچنے کے کسی اندیشے سے بچنے کے لیے وہ صرف اولاد نرینہ کو ہی جنم دینا چاہتے ہیں۔ عمومًا کوئی بھی خاتون اپنی حمل میں موجود اولاد کو مارنا نہیں چاہتی، بھلے ہی وہ مادہ بچہ ہی کیوں نہ ہو، لیکن رشتے دار مختلف وجوہ کی بنا پر سے اسے ایسا کرنے کے لیے مجبور کرتے ہیں یہ باوجود اس کے ہے کہ بھارتی خواتین تو اپنی لڑکیوں کو تا حیات مسائل کا ڈٹ کر سامنا کرنے کی سیکھ دیتی ہیں۔

مادہ جنین کشی کی ایک بڑی وجہ جہیز کی رسم بھی بھی ہے۔ لوگ لڑکیوں کو پرایا دھن سمجھتے ہیں، ان کی شادی کے لیے جہیز کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ جہیز جمع کرنے کے لیے کئی خاندانوں کو قرض بھی لینا پڑتا ہے، اس لیے مستقبل میں اس قسم کے مسائل سے بچنے کے لیے لوگ دوران حمل میں ہی جنس پتہ لگانے کا امتحان کرواکر مادہ جنین ہونے کی صورت حال میں اس کا قتل (اسقاط حمل) کروا دیتے ہیں۔[1]

حوالہ جات

ترمیم

بیرونی روابط

ترمیم