صنفی عدم مساوات (انگریزی: Gender inequality) کا تصور اس احساس سے ابھرتا ہے کہ خواتین بھی مردوں کی طرح انسان ہوتی ہیں اور ان کا ہمیشہ اسی طرح احترام کیا جانا چاہیے جیسے مردوں کا کیا جاتا ہے۔ سماج میں جنسی نابرابری کو ختم کرنے کے لیے سال میں ایک دن یوم خواتین کی شکل میں تحریک چلائی جاتی ہے[1] مگر اس کے پس پردہ خقوق نسواں کے کیے کوشاں فعالیت پسندوں کی یہ ہے کہ برابری کی جو خلاء ہے وہ ختم ہو اور عورتوں کو خاندان میں، رشتوں میں، سماج اور سیاست میں اور نیز کام کی جگہ پر برابری ملے۔ ایک ثانوی درجے میں یہ کوششیں ایل جی بی ٹی اقلیتوں کے لیے بھی کی جاتی ہے۔

معاملے کی سنگینی

ترمیم

بین الاقوامی اقتصادی فورم کی جانب سے صنفی عدم مساوات سے متعلق ایک 2019ء کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاست، صحت، تعلیم اور کام کے مقامات پر عدم مساوات جیسے شعبوں میں صنفی برابری کے ہدف تک پہنچنے میں ابھی کئی صدیاں درکار ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے مطابق ان اہم سماجی شعبوں میں صنفی فرق کا خاتمہ سن 2276ء تک ممکن ہو پائے گا، یعنی ابھی اس غیر مساوی رویے کے خاتمے میں دو سو ستاون برس درکار ہیں۔[2]

انسانی سماج کبھی یکسانی کا شکار نہیں ہو سکتا۔ اس میں تضاد اور امتیاز ہمیشہ موجود رہے گا۔ بلکہ سچ پوچھیں تو یہی تضاد ہی انسانی معاشرے کا حقیقی حسن ہے۔ رنگا رنگی اور متنوع مزاجی زندگی کی علامات ہیں۔ لیکن ہر معاشرے میں کچھ تضادات فطری ہوتے ہیں اور کچھ غیر فطری۔ مثال کے طور پر مرد اور عورت میں پایا جانے والا تنوع فطری ہے[3]۔ مگر گھریلو تشدد، مساوی تعلیم کے مواقع کا نہ ہونا، پیشے چننے کی چھوٹ نہ ہوتا یا پھر کام کی جگہ جنسی ہراسانی، جنسی امتیاز اور شادی اور تعلقات میں رکاوٹیں، یہ غیر فطری تضاد ہے، جسے روکنے کی عالمی سظح پر کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم