مرکزی مینیو کھولیں
امریکی اپاشی جنگی بالگرد فضا سے ایک پیدل عراقی شہری کو قتل کر رہا ہے۔

9/11 کو جواز بنا کر افغانستان پر امریکا اور اس کے حواریوں نے 2002ء میں جنگ مسلط کر دی۔ افغانستان کے خلاف اس جنگ میں تقریباً تمام مغربی ممالک امریکا کے حواری بن کر شامل ہو گئے۔ ان ممالک میں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیٹو تنظیم کے بیشتر ممالک شامل ہیں۔ اس کارروائی میں نیٹو فوجوں نے ہوائی طاقت کا بے شمار استعمال کرتے ہوئے فرضی دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ہوئے انگنت بم افغانستان کے علاقہ پر گرائے۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج انوکھے انداز سے جنگ لڑ رہی ہے۔ اگر امریکی فوجی فائرنگ کی زد میں آ جائیں تو فوراً بمبار لڑاکا ہوائی جہازوں کی مدد مانگ لیتے ہیں۔ لڑاکا جہاز سارے علاقے پر اندھا دھند بمباری کر کے سینکڑوں رہائشیوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔[1] ویڈٰیو گیم کی طرح لوگوں کو فضا سے نشانہ بنا کر قتل کیا جا رہا ہے۔[2] نئے امریکی صدر بارک اوبامہ نے 2009 میں جنوبی افغانستان کے پشتونوں کے خلاف جنگ تیز کرنے کے لیے میرین برگیڈ روانہ کیا۔[3]بارک اوبامہ کی طرف سے 2010ء میں جنگ تیز کرنے کے نتیجے میں افغان ہسپتالوں میں لائے جانے والے زخمیوں کی تعداد میں 163% کا اضافہ ہوا۔[4]

جون 2010ء میں امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے افغانستان میں کثیر معدنی خزانوں کا پتہ چلایا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ خزانے مغربی دنیا کے کاروباریوں کے حوالے کر دیے جائینگے۔[5]

یہ "جنگ" جو 2011ء تک جاری ہے امریکا کی طویل ترین جنگ ہے۔

امریکا مخالف طالبان نے جنگ میں پہلی بڑی کامیابی اگست 2011ء میں حاصل کی جب انھوں نے امریکی فوجی بالگرد مار گرایا۔[6] اس واقعہ کے بعد امریکی فوج نے بڑے پیمانے پر فضائی قتل و غارت اور زمینی ہراساں کی مہم شروع کی۔[7]

انفرادی قتل و غارتترميم

امریکی فوجی اپنی مرضی سے بھی نہتے افغان شہریوں کو قتل کرتے رہے۔ کچھ امریکی فوجی مرے افراد کے ساتھ اپنی تصویریں بنا کر خوش ہوتے۔[8][9] امریکی درندگی کے کئی واقعات منظر عام پر آئے۔[10]

حملہ آور ممالکترميم

افغانستان پر فوج کش حملہ آور ممالک میں درج ذیل شامل ہیں:

ملک فوج نفری لڑاکا ہوائی جہاز
امریکا 90000
برطانیہ 10000
کینیڈا 3000
فرانس 4000
ناروے 500
ڈنمارک 700
جرمنی 5000
اٹلی 4000
  1. WSWS 14 اگست 2007ء، "Afghanistan: mounting attacks on US/NATO troops "
  2. youtube "130 degree AC"
  3. wsws, "The “left” and the US military offensive in Afghanistan"
  4. عالمی اشتراکی موقع، 30 دسمبر 2010ء، "Huge rise in wounded Afghan civilians"
  5. wsws, 15 جون 2010ء، "Washington “discovers” Afghanistan’s mineral wealth"
  6. "22 US special forces die after Taliban shoot down helicopter"۔ دی انڈپنڈنت۔ 7 اگست 2011ء۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 اگست 2011۔
  7. "US retaliation in Afghanistan in wake of helicopter downing"۔ عالمی اشتراکی موقع۔ 11 اگست 2011ء۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اگست 2011۔
  8. "Photos show US soldiers in Afghanistan posing with dead civilians"۔ دی گارجین۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 مارچ 2011۔
  9. آن لائن%5d%5d "'Death Squad': Full horror emerges of how rogue U.S. brigade murdered and mutilated innocent Afghan civilians - and kept their body parts as trophies" Check |url= value (معاونت)۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 مارچ 2011۔
  10. "Photos of U.S. soldiers posing with Afghan corpses prompt condemnation"۔ لاس اینجلز ٹائمز۔ 18 اپریل 2012ء۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔