قندوز جنگ جو 24 اپریل 2015ء کو طالبان اور افغان حکومت کے درمیان شروع ہوئی اور تاحال جاری ہے۔ یہ لڑائی اس لیے شروع ہوئی کہ فریقین افغانستان کے شمال میں واقع قندوز شہر پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ اگرچہ یہ شہر افغان حکومت کے اقتدار میں تھا لیکن 28 ستمبر2015ء کو طالبان نے اس کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ 2001ء کے بعد یہ طالبان کی افغانستان میں سب سے بڑی فتح ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق افغان افواج اور طالبان میں لڑائی جاری ہے۔ عام طور پر تجزیہ نگاروں نے اسے عارضی فتح قرار دیا ہے۔

جنگ قندوز
بسلسلہ افغان جنگ
2015 Battle of Kunduz (City).svg
  وہ علاقے جو افغان حکومت نے کنٹرول کیے ہیں
  وہ علاقے جو طالبان نے کنٹرول کیے ہیں
تاریخ24 اپریل – 140 اکتوبر 2015
مقامقندوز، صوبہ کندوز، افغانستان
نتیجہ
  • طالبان فتح
  • طالبان نے 28 ستمبر کو قندوز شہر پر قبضہ کیا
محارب

Flag of افغانستان اسلامی جمہوریہ افغانستان

امداد:

آر ایس (نیٹو)'

تحریک اسلامی طالبان

کمانڈر اور رہنما

ملا اختر منصور
(سپریم کمانڈر)

سراج الدین حقانی[2] مولوی سلام [3]
طاقت
7,000

1,500[4]

(~500 قندوز پر ابتداءی قبضہ)
ہلاکتیں اور نقصانات
300 زخمی (قندوز شہر میں لڑائی کے دوران)[4]
100,000 بے گھر(سارے لڑائی کے دوران)

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "Taliban storm Kunduz city". The Long War Journal. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2015. 
  2. "Taliban emir seeks to reassure residents of Kunduz". The Long War Journal. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2015. 
  3. "Afghan Forces Make Little Progress in Retaking Kunduz". Bloomberg. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2015. 
  4. ^ ا ب "Taliban vow to march on Kabulafter winning fight for key city". The Times. 30 September 2015.