حاجی صاحب ترنگزئی

حاجی صاحب ترنگزئی جن کا اصلی نام سید فضل واحد تھا، ایک پشتون مجاھد اور آزادی کے لیے جنگ لڑنے والے جنگجو اور ایک سماجی کارکن تھے۔ وہ ایک شریف سیّد گھرانے میں 1846 ء میں ترنگزئی کے مقام پر پیدا ہوئے جو پاکستان کے خیبر پختونخوا صوبے کے ضلع چارسدہ میں ایک مشہور گاوں ہے۔

تعلیمترميم

ان کے والد محترم کا نام فضل احد تھا۔ اپنی بنیادی تعلیم اپنے گھر سے حاصل کرنے کے بعد حاجی صاحب ترنگزئی مزید تعلیم کے لیے دار العلوم دیوبند چلے گئے۔ وہاں پر انہوں نے شیخ الھند مولانا محمود الحسن صاحب سے تعلق جوڑ لیا اور 1890 ء میں ان کے ساتھ حج بیت اللہ شریف پر چلے گئے۔

برطانیہ کے خلاف معرکہترميم

واپسی پر انہوں نے برطانیہ کے خلاف 1897 ء میں سرحدی جھاد میں حصہ لیا جو برطانوی سرکار کے خلاف صوبہ سرحد کے قبائل کا جھاد تھا۔ یہ جھاد آخر کار ناکام رہا اور حاجی صاحب ایک بار پھر حج کے لیے چلے گئے۔ واپسی پر وہ زیادہ تر سماجی خدمت اور خاص طور پر تعلیم و تعلم میں مصروف رہے۔ اسی دوران حاجی صاحب اورپیر مولانا دوست محمد بارکزئی صوابی حاض انہوں نے خان عبدالغفار خان کے ساتھ گاوں گاوں پھرنا شروع کیا۔ یہ تحریک کارگر ثابت ہوئی اور پانچ سال میں تقریباً 120 درسگاہیں قائم ہوئیں۔

گرفتاری اور معرکےترميم

اس پر حکومت برطانیہ نے منفی رد عمل ظاہر کیا اور حاجی صاحب اور عبد الغفار خان پر برطانویوں کے مساوی ایک اور حکومت چلانے کا الزام لگایا۔ برطانویوں نے انہیں گرفتار کیا اور ان پر مقدمہ چلایا۔ ان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا مگر ان کے پیروکاروں کو تین تین سال تک قید کی سزا سنائی گئی۔

1913 ء میں سر صاحبزادہ عبد القیوم خان نے حاجی صاحب کو دار العلوم اسلامیہ پشاور(اسلامیہ کالج) کے سنگ بنیاد رکھنے کے لیے چنا۔ جون 1915 ء میں برطانیہ سرکار نے انکو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ آدھی رات کو گرفتاری سے بچ کر انہوں نے پشاور چھوڑا اور اپنے بیٹوں اور بھروسا مند ساتھیوں کے ساتھ مھمند کے علاقے روانہ ہو گئے۔ مھمند پہنچنے کے چند دنوں کے بعد ہی انہوں نے سمرقند سے آئے کچھ مجاہدین کے ساتھ مل کر قریبی علاقوں میں موجود برطانوی فوج پر حملے شروع کر دئے۔

سمرقند کے مجاھدین امیر نعمت اللہ خان پیر مولانا دوست محمد بارکزئی صوابی حاض کی قیادت میں تھے۔ اگست 1915 ء میں انہوں نے مردان کے علاقے رستم میں برطانوی فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کر دیا۔

1923 ء میں برطانویوں نے مھمند کے علاقے میں اس مقابلے کو ختم کرنے کے لیے سپاہی بھیجے۔ مگر اس بار کسی خون خرابے کے بغیر انہوں نے ایک معاہدہ کیا جس کے بعد برطانویوں نے اپنے سپاہی واپس کر لیے۔ یہ ایک عظیم فتح تھی جس کے بعد وہ مھمند میں ہی قیام پزیر ہو گئے اور ایک مسجد بنانے میں مصروف ہو گئے۔

وفاتترميم

1936 ء میں حاجی صاحب بہت زیادہ بیمار ہو گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ بیماری بڑھتی گئی اور آخر کار 14 دسمبر 1937 ء کو 81 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔

انکا مقبرہ مقامی لوگوں کے لیے ایک مقدس زیارت بن گیا ہے۔ ان کے بچوں نے اپنے والد کی قبر کے ساتھ 1979 ء میں ایک مسجد بنانی شروع کی جو 1990 ء میں مکمل ہوئی۔ یہ مسجد ترنگزئی بابا جی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔