حاشیہ کسی متن میں موجود کسی لفظ یا الفاظ کے معنی، ترجمے، مختصر تشریح، وضاحت کو کہتے ہیں۔ کتابوں اور رسالوں میں حاشیہ کے معنی متن کے ہر سہ طرف چھوٹا ہوا سادہ صفحہ بھی ہوتا ہے اور اس حصے پر لکھی ہوئی تحریر بھی، جس کا تعلق متن کے معنی و توضیع اور ذیلی حواشی سے ہوتا ہے۔[1] کیوں کہ یہ کتاب کے حاشیے پر شائ‌ع پر ہوتا ہے، اسی لیے اس کا نام حاشیہ پڑ گیا ہے۔ حاشیہ ضروری نہیں کہ متن کی زبان میں ہو، کبھی کبھار اصل متن میں کسی دوسری زبان کے متن کے اقتباس کا ترجمہ کتاب کے حاشیے پر دیا جاتا ہے۔ متن میں کسی شخصیت، کتاب یا شہر یا اہم واقعات کا ذکر جب سرسری ہو یا فقط نام ہی آئے تو حاشیہ میں اس کا مختصر تعارف شامل کیا جاتا ہے۔ غرض ہر وہ تحریر جو اصل متن کے ساتھ حاشیوں پر شائع ہو، اسے حاشیہ کہا جا سکتا ہے۔

حدیث کی کتاب پر حاشیہ

حاشیہ نگاری کا عمل سنجیدہ اور فنی تحریروں، نیز ترتیب متن کا ایک اہم اور لازمی جز ہے جس کے ذریعے نہ صرف مآخذ کی نشان دہی کی جاتی ہے بلکہ بہت سے توضیح طلب نکات کی وضاحت بھی کر دی جاتی ہے۔ ایسے بہت سے امور حاشیہ میں لکھے جاتے ہیں جو متن کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اس کے علاوہ قدیم متن کی تدوین کے حوالے سے اختلافی قرآتوں کی نشان دہی کی جاتی ہے اور متن کے مقتضیات اور معروف حقائق کی روشنی میں توضیحی روایتوں اور تصدیقی دلائل کو حسب ضرورت شامل کیا جاتا ہے۔ تحقیقی اور تنقیدی حواشی نیز حوالہ جات کے بغیر تحقیقی کام درجہ استسناد سے محروم رہتے ہیں، اس لیے حاشیہ نگاری تصنیف و تالیف کا ایک لازمی جوور ہے جسے مکمل کیے بغیر علمی اور تحقیقی مواد بطریق احسن قاریئن ک وپیش نہیں کیا جا سکتا۔[1]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. ^ ا ب ڈاکٹر ایم ایس ناز (1991)۔ اردو میں فنی تدوین۔ اسلام آباد: ادارہ تحقیقات اسلامی۔ صفحہ: 204۔ ISBN 969-408-128-9۔ 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 فروری 2018