حدود العالم (معنی: حدودِ دنیا، دنیا کی حدود) دسویں صدی عیسوی کی ایک جغرافیائی کتاب ہے جس کا مصنف ایک نامعلوم الاسم فارسی النسل ہے جس کا تعلق موجودہ افغانستان کے صوبہ جوزجان سے تھا۔ کتاب کا مکمل عنوان حدود العالم من المشرق الیٰ المغرب ہے جس کا معنی ہے دنیا کی حدود مشرق سے مغرب تک۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ایک روسی مترجم ولادی میر منورسکی نے 1937ء میں The Regions of the World کے نام سے کیا تھا۔ اِس انگریزی ترجمہ میں لفظ حدود کا انگریزی ترجمہ Boundriesکے متبادل لفظ سے کیا گیا ہے جو علاقائی جغرافیائی تقسیم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ولادی میر منورسکی نے حدود العالم کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ وہ علاقائی خطے جہاں تک انسانی رسائی ممکن ہے۔[1]

مواد

ترمیم

کتاب حدود العالم کا صفحہ اول چونکہ مخطوطہ کے ساتھ دستیاب نہیں ہوا اور یہ امتدادِ زمانہ کی نذر ہوا۔ کتاب کے اختتام پر مصنف کے قلمی بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب 372ھ/ 982ء میں مکمل ہو گئی تھی۔ اور اِس کتاب کا اِنتساب آل فریغون کے ایک حکمران ابو الحارث محمد متوفی 372ھ/ 982ء کے نام ہے۔ ولادی میر منورسکی کا خیال ہے کہ اِس کتاب کا مصنف شاید شعیاء بن فریغون ہے جو متعدد تحقیقی و علمی کتب کا مصنف تھا، مزید برآں اُس کی مشہور تصنیف جوامع العلوم ہے جو امیر چغانیاں کے نام منتسب تھی ۔[2] موجودہ دستیاب شدہ مخطوطہ کتابِ ہذا کا مواد چار حصوں میں تقسیم ہے:

  • جہاں نامہ کی ایک نقل جو دراصل محمد ابن نجیب بکران کی تصنیف ہے۔
  • موسیقی کے حوالے سے ایک مختصر سا پیرایہ۔
  • حدود العالم کا اصل مخطوطہ
  • امام فخر الدین رازی کی تصنیف جامع العلوم کی ایک نقل۔

حدود العالم میں دنیا کی معلومات جمع کی گئی ہیں۔ مصنف نے اِس میں لوگوں، زبانوں، ممالک، لباس، خوراک، مذاہب و ادیان، مقامی صنعتوں، شہروں، قریوں اور قصبوں، جھیلوں، دریاوں، صحراوں، سیاست، خاندان ہائے سلطنت اور تجارتی شاہراہوں کا ذکر کیا ہے۔ آباد دنیا میں ایشیا، یورپ اور لیبیا یعنی مغرب کے جغرافیائی احوال تحریر کیے ہیں۔ مصنف نے خط استوا کے شمال میں واقع 45 ممالک کا تذکرہ کیا ہے۔

کتاب کی تحریرسے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے اُن ممالک کا سفر نہیں کیا جن کا وہ تذکرہ کرتا ہے بلکہ یہ معلومات شنیدہ کا مجموعہ ہے جو مصنف نے ابتدائی کتب ہائے جغرافیہ اور ماہرین جغرافیہ کے ذریعہ حاصل کیں مگر حیران کن بات یہ ہے کہ مصنف کسی بھی کتابی ماخذ کا ذکر نہیں کرتا۔ اِس مسئلہ کو جدید ماہرین و محققین نے حل کر لیا ہے کہ حدود العالم میں اصطخری کی کتاب المسالک و الممالک سے کئی اِقتباسات نقل کیے ہیں، مزید یہ کہ جیحانی اور ابن خردادبہ کی کتب سے بھی اِقتباسات مصنف نے ہو بہو نقل کیے ہیں۔

دریافت اور ترجمہ

ترمیم

اِس کتاب کا قلمی مخطوطہ سب سے پہلے ایک روسی مستشرق الیگزینڈر تومنسکی نے 1892ء میں شہر بخارا سے دریافت کیا۔ یہ مخطوطہ دراصل ایک فارسی مورخ ابو الموید عبد القیوم ابن الحسین ابن علی الفارسی کی ایک تصنیف میں موجود تھا جو 656ھ/ 1258ء میں لکھی گئی تھی۔ اِس مخطوطے کا اشاریہ ویسلی بارٹلڈ نے مرتب کیا اور وہ 1930ء میں شائع ہوا تھا۔ روسی مستشرق ولادی میر منورسکی نے 1937ء میں اِسی مخطوطہ کو مدنظر رکھا اور اِس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا جبکہ اِس کتاب کا فارسی متن ایران سے 1961ء میں منوچہر ستودہ نے شائع کیا۔[3]

اہمیت

ترمیم

محققین و ماہرین جغرافیہ کے نزدیک یہ کتاب وسطی ایشیا کے قدیمی و تاریخی حالات جاننے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ علاوہ ازیں یہ اِن تمام علاقوں میں بولی جانے والی زبانوں کی نشان دہی بھی کرتی ہے۔

  • V. Minorsky (Hrsg.): Hudud امام عالم ہے۔ علاقوں کی دنیا: ایک فارسی جغرافیہ، 372 A. H. / 982 A. D., ترجمہ اور وضاحت کی طرف سے وی Minorsky ؛ دیباچے کی طرف سے V. V. Barthold، لندن 1937
  • C. E. Bosworth میں: انسائیکلو؟ نئے ایڈیشن، s.v. ḤUDŪD امام ʿĀLAM

نسخہ حدود العالم آن لائن پڑھیے

ترمیم

اِس ربط پر حدود العالم کا انگریزی ترجمہ پڑھا جا سکتا ہے [4]

حوالہ جات

ترمیم
  1. Fr. Taeschner in Encyclopaedia of Islam. New Edition, s.v. Djughrāfīya
  2. ḤODUD AL-ʿĀLAM – Encyclopaedia Iranica
  3. Maqbul Ahmad in: C. E. Bosworth and M. S. Asimov (Hrsg.): History of Civilizations of Central Asia. Vol. IV, Part II, Paris 1992, p. 221
  4. http://www.kroraina.com/hudud/index.html

بیرونی روابط

ترمیم