موجودہ بلوچستان کا صوبائی دار الحکومت اور مرکزی شہر کہلانے والا کوئٹہ اپنی ایک الگ تاریخی اور جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے۔ زمانہ قدیم سے کوئٹہ ہر دور میں ابھرتی طاقتوں اور قوتو ں کا مرکز نگاہ بنا رہااور اس شہر نے اب تک کئی عروج و زوال دیکھے ہیں تاہم زمانہ قدیم سے یہاں کے لوگ مذہبی عقائد کے حامل رہے ہیں یہاں کامل اولیاء و صوفیاءگزرے ہیں جن کا ذکر تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہے اور اب بھی ان کا نام نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ کوئٹہ کے مشہور پیر، بزرگ، اولیاء اور صوفیائے کرام کا جب بھی تذکرہ ہو تو ”قندھاری ملاصابؒ“ کا ذکر خیر ضرور ہوتا ہے۔ قندھاری ملاصابؒ کانام صاحبزادہ امین اللہ مگر آپ کے اصل نام جو آپ کے والد نے رکھا وہ عبدالقیوم تھاتاہم آپ کے عقیدت مندوں اور اہلیان کوئٹہ نے آپ کو ”قندھاری ملا صاحب“کا لقب دیا اور یہ اس قدر مشہور ہو گیا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد آپ کے اصل نام کی بجائے آپ کو قندھار ی ملاصاحب کے عقیدت بھرے نام سے آج تک پکارتے ہیں۔ آپ صاحب طریقت و کرامات تھے جن کے علم و زہد کا چرچا اس وقت دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ آپ کا تعلق صوفیائے کرام کے مشہور سلسلے طریقہ نقشبندی سے تھا اور قبائلی حوالے سے آپ کا تعلق نورزئی قبیلے کی اہم شاخ جمالزئی سے تھا۔

صاحبزادہ مولوی حاجی امین اللہ نقشبندی ؒ
دیگر نامپیر قندھاری ملا صاب
عبد القیوم
ذاتی
پیدائش
وفات1971ء
مذہبتصوف اسلام،
سلسلہ نقشبندیہ
والدین
  • صاحبزادہ عبید اللہ نقشبندی ؒ (والد)
دیگر نامپیر قندھاری ملا صاب
عبد القیوم
مرتبہ
مقامقندھاری مسجد جامعہ کاسی روڈ کوئٹہ
پیشروصاحبزادہ عبید اللہ نقشبندی ؒ
جانشینصاحبزادہ حاجی احمد سعید اخندازدہ، صاحبزادہ مولوی حاجی جانان نقشبندی
منصبپیر،علمدین ،مولوی

پیدائشترميم

روایات کے مطابق آپ کی پیدائش افغانستان کی ہے جہاں کے شمال مغربی صوبے فراہ میں ہوئی۔ فرا، جس کا پرانا نام فریدون تھا اور فرا صوبے کے ضلع پرچمن خار گاوٰں جو دوخار کے نام سے بھی مشہور ہے آپ وہاں ایک علمی دین صاحبزادہ عبید اللہ نقشبندی کے ہاں پیدا ہوئے آپ کے والد محترم بزرگ انسان اور صوفی تھے اور آپ کے والد بھی نقشبندی طریقت سے تھے.


تعلیم وتربیتترميم

آپ نے تعلیم وتربیت اپنے والد محترم سے حاصل کیے تھے۔

دینی اعلیٰ تعلیمترميم

آپ کو دینی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا بڑا شوق تھا کہ آپ نے 1920ءکے لگ بھگ افغانستان سے ہندوستان کی جانب ہجرت کی یہ وہ وقت تھا جب برصغیرپر انگریزوں کی حکمرانی تھی توآپ نے دارلعلوم دیوبندسے دینی علوم کے اعلیٰ درجہ پڑھے اور وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے تھے۔


شجرہ نسبترميم

صاحبزادمولوی حاجی امین اللہ نقشبندیؒ کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے کہ صاحبزادہ حاجی امین اللہ نقشبندی بن صاحبزادہ عبیداللہ نقشبندیؒ بن آغا عبدالرحیم بن بوستان آغابن خلیفہ ملا عبیداللہ اخند

طریقتترميم

آپ سلسلہ نقشبندیہ طریقت سے تھے۔


بیعتترميم

قندھاری ملاصابؒ نے حضرت مولانا سیدعبد الحق آغانقشبندیؒ کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی جو افغانستان کے فراہ دلارام سے ہیں۔


حج بیعت اللہ شریف اور زیارت مقدسترميم

حج بیت اللہ کی سعادت آپ نے متعدد بار حاصل کی کیے ہیں اور آپ دنیا کے مختلف مقدس زیارتوں پی گئے تھے۔


روحانی خدمات و کراماتترميم

آپ کے حوالے سے کافی روایات مشہور ہیں کہتے ہیں کہ ایک بار قندھاری ملاصاب اپنی سائیکل ایک دکان کے باہر کھڑی کرکے اندر گئے ابھی آپ سامان خرید رہے تھے کہ دکان دار نے انہیں متوجہ کیا کہ ملا صاحب ایک شخص آپ کی سائیکل لے جارہا ہے۔ کہتے ہیں کہ ملا صاحب نے وہیں کھڑے کھڑے کہا کہ وہ سائیکل چوری نہیں کرسکتے۔ دکان دار نے باہر آکر ایک عجیب منظر دیکھا کہ جیسے ہی چور سائیکل کے قریب جاتا اور اسے ہاتھ لگاتا ہے سائیکل اسے دور پھینک دیتی ہے۔

ایک بار ایک بوڑھی عورت جن کے سرمیں ہمیشہ درد رہتا تھا اس نے کافی علاج معالجہ کرایا لیکن مرض برقرار رہا۔مذکورہ خاتون کے والد بھی ایک مولوی تھے صحتیاب ہونے کے بعد بوڑھی عورت خود قصہ سناتی کہ میرے والد جب مجھے پر دم کرتے تو گھر میں آگ لگ جاتی یا کوئی عذاب آجاتا پھر کسی نے میرے والد کو قندھاری ملاصاحب کا بتایا جب ہم گھر سے نکلے تو میرے سر میں شدید قسم کا درد ہے اور ہم جار ہے ہیں پیر صاحب کے پاس جب پیر صاحب کی خانقاہ پر پہنچے اور ابھی پیر صاحب کے دربار میں حاضرہی ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سر اچانک ٹھیک ہوگیااور اس کا درد اس طرح غائب ہوا کہ پھر ساری زندگی مجھے سر میں تکلیف نہیں ہوئی۔

کہتے ہیں کہ ایک بار ایک شخص کو قتل کرنے کے ارادے سے آپ کے پاس آیا اس نے آپ پر بندوق نکال کر تھان لی اور ابھی فائرکرنے والا تھا کہ ملاصاحب نے نظریں اٹھا کر پہلے اسے پھر بندوق کو دیکھا۔ اچانک بندوق اس شخص کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ تھر تھر کانپنے لگا۔اس پر کپکپی طاری ہو گئی اور وہ شخص خود قندھاری ملا صاحب کے پاس آیا اس کے ہاتھ چومے اور معافی مانگی آپ نے اسے معاف کر دیا۔ یہ اللہ پاک کے حکم سے وہ کرامات ہیں جو اولیاءاللہ کی نسبت سے دیکھنے میں آتے ہیں۔

تصنیفاتترميم

  • آپ نے پندرہ سےزائدکتابیں قلمی لکھی ہے جس میں
  • جلا لین شریف
  • مشکات شریف
  • کنزی آئنیہ
  • ہدایہ گان (چار کتابیں)
  • شرحی جامع
  • دیگر اور تاریخ کے کتابیں و اسلامی


مرید/شاگردترميم

افغانستان، ایران، ہندوستان اور پاکستان کے چاروں صوبوں میں قندھاری ملا صاب کے شاگرد اور مرید بستے ہیں جو ہر سال دور دراز علاقوں سے آپ کے مزار پر آتے اور آپ کے صاحبزادوں سے دعا کراتے ہیں۔

وفاتترميم

1971 ءفریضہ حج کی ادائیگی کے بعد آپ اپنے وطن پاکستان پہنچے اور کوئٹہ آگئے اور اسی سال دنیا سے رحلت فرماگئے آپ کو قندھاری مسجد جامع کاسی روڈ میں سپردخاک کیا گیا۔

برادرانترميم

  1. صاحبزادہ عبد اللہ

دوسری ماں سے

  1. عبد الحق
  2. شمس الحق

اولادترميم

  1. صاحبزادحاجی احمد سعید اخندزادہ
  2. صاحبزادہ مولوی حاجی جانان نقشبندیؒ

دوسری ذوجہ سے

  1. صاحبزادہ عزیز اللہ

حوالہ جاتترميم

  1. سیوت میگزین صفحہ نمبر =30-31 [1]
  2. تحریر۔صاحبزادہ عتیق خان نورزئی Sahibzada.offical
  3. مضمون صاحبزادہ مولوی حاجی امین اللہ نقشبندی آپ کے حوالہ سے لکھے گئی مضمون
  4. مزار مبارک مقام قندھاری مسجد جامعہ کاسی روڈ کوئٹہ، بلوچستان