اسلام

اسلام، وہ مذہب جس کے پیروکار مسلمان کہلاتے ہیں۔

اسلام ایک توحیدی (monotheistic) مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے آخری رسول و نبی ، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریئے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن)[1] اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد[2] اس کو پڑھتے ہیں؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریباً 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ ، غیر عرب یا عجمی[3] ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فردِ واحد (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت[1] ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔

فہرست

لغوی مطلب

لفظ اسلام لغوی اعتبار سے سلم سے ماخوذ ہے، جس کے معنی اطاعت اور امن ، دونوں کے ہوتے ہیں۔ ایسا در حقیقت عربی زبان میں اعراب کے نہایت حساس استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں کہ اردو و فارسی کے برعکس اعراب کے معمولی رد و بدل سے معنی میں نہایت فرق آجاتا ہے۔ اصل لفظ جس سے اسلام کا لفظ ماخوذ ہے، یعنی سلم، س پر زبر اور یا پھر زیر لگا کر دو انداز میں پڑھا جاتا ہے۔

  • سَلم (salm) جس کے معنی امن و سلامتی کے آتے ہیں۔
  • سِلم (silm) جس کے معنی اطاعت، داخل ہو جانے اور بندگی کے آتے ہیں۔

قرآنی حوالہ

  • اسلام کا ماخذ سلم (salm) اپنے امن و صلح کے معنوں میں قرآن کی سورت الانفال کی آیت 61 میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (ترجمہ: اور اگر جھکیں وہ صلح (امن) کی طرف تو تم بھی جھک جاؤ اس کی طرف اور بھروسا کرو اللہ پر۔ بے شک وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے)[4]۔
  • سلم (silm) کا لفظ اپنے اطاعت کے معنوں میں قرآن کی سورت البقرہ کی آیت 208 میں ان الفاظ میں آیا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (ترجمہ: اے ایمان والو! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے پورے اور نہ چلو شیطان کے نقشِ قدم پر بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے)۔ حوالے کے لیے دیکھیے حوالہ برائے امن و صلح۔

اسلام ہے کیا؟

یہاں وضاحت ، اسلام کیا ہے؟ کو دوبارہ درج کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ اس کا جواب مضمون کے ابتدائیہ میں آچکا ہے۔ جہاں تک رہی بات اس سوال کی کہ اسلام ہے کیا؟ یعنی وہ کیا اجزاء ہیں کہ جو اسلام کی تشکیل کرتے ہیں؟ تو اس وضاحت کی الگ سے ضرورت مختلف خود ساختہ فرقوں کے باعث پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک درکارِ لازم حیثیت رکھتی ہے۔ ماسوائے چند (جیسے اھل القرآن)[5] تمام فرقے قرآن اور سیرت النبی (سنت) ہی کو اسلامی تعلیمات کی بنیاد قرار دینے پر نا صرف اجتماع رکھتے ہیں بلکہ اپنے اپنے طور اس پر قائم ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں جیسے اھل سنت[6] اور اھل حدیث[7] وغیرہ۔ یہی دعویٰءِ اصلِ اسلام ، اھل تصوف سے متعلق کتب و دستاویزات میں بھی دیکھا جاتا ہے[8]۔ اھل تشیع فرقے والے سنت پر ایک خاص اور محتاط نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں اور سنیوں کے برعکس ان کے نزدیک جو سنت (حدیث) ، اھل بیت سے منحرف ہوتی ہو وہ مستند نہیں، مزید یہ کہ اس فرقے میں قرآن اور سنت کے بجائے قرآن اور اھل بیت کا تصور بھی ملتا ہے[9]۔

قرآن

مذکورہ بالا قطعے میں متعدد الانواع --- اھلوں --- کے تذکرے کے بعد یہ بات اپنی جگہ ہے کہ اسلام ایک کتابی مذہب ہے یعنی اس پر عمل کرنے والے اھل کتاب کہلائے جاتے ہیں۔ قرآن خود اپنی حیثیت کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ یہ انسانوں کے لیے ایک راہنما (النساء 174) ، ایک ہدایت (البقرہ 2) اور اچھے برے کی تمیز بتانے والی (البقرہ 185) کتاب ہے[10]۔ محمد  پر وحی (610ء) کی صورت میں نازل ہونے سے لیکر عثمان   کے زمانے میں کتاب کی شکل اختیار کرنے (653ء) سے قبل بھی قرآن اپنے لیے کتاب کا لفظ ہی استعمال کرتا ہے۔ قرآن کے ناقابلِ تحریف و فسخ ہونے اور اس کی ابتدائی زمانے میں کامل ترین طور پر حفاظت کیئے جانے کے تاریخی شواہد موجود ہیں؛ مسلمانوں کا یہ غیر متزلزل ایمان ہے کہ قرآن کے ایک نقطے میں نا تو آج تک تحریف ہوئی ہے اور نا ہو سکتی ہے[11]۔

سنت

سنت ، عربی کا لفظ ہے اور اس کے بنیادی معنی ، روش یا راہ کے ساتھ دیگر معنی بھی ہوتے ہیں لیکن اسلامی دستاویزات میں اس سے عام طور پر مراد حضرت محمد  کی اختیار کردہ روشِ حیات یا طریقۂ زندگی کی ہی لی جاتی ہے۔ 569ء سے 632ء تک جو عرصہ محمد  نے اس دنیا میں انسانوں کے سامنے کتاب کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے گزارہ وہ سنت کہلاتا ہے۔ خاتم الانبیا ہونے کی وجہ سے محمد  کی وفات نے آخری کتاب کے بعد ، اسلام کی تکمیل کرنے والے دوسرے منبع پر بھی اختتام کی مہر ثبت کردی۔ اس وقت سے لیکر آج تک مسلمان اسلام کے ان دو بنیادی ماخذ ، قرآن اور سنت ، کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اجزائے ایمان

اجزائے ایمان سے مراد ان عقائد کی ہوتی ہے کہ جن پر کامل اعتقاد اسلام میں ایمان (اللہ پر یقین) کی تکمیل کے لیے ضروری ہوتا ہے، عام طور ان میں چھ اجزا کا ذکر زیادہ ہوتا ہے[12] جن پر اھل سنی اور اھل تشیع اقرار رکھتے ہیں۔

  1. اللہ پرایمان
  2. فرشتوں پرایمان
  1. الہامی کتب پرایمان
  2. رسولوں پرایمان
  1. یوم آخرت پرایمان
  2. تقدیر پرایمان

بالائی جدول میں بیان کردہ ان اجزا کے لیے چھ کا عدد ناقابلِ تحریف نہیں ہے یعنی اجزائے ایمان میں وہ تمام اجزا شامل ہو سکتے ہیں جو کسی شخص کو دل اور زبان سے اللہ کا اقرار کرنے میں معاون ہوں[13]۔ مثال کے طور پر مشہور کلمہ ، ایمان مفصل (عکس 1) میں ان کی تعداد چھ کے بجائے سات ہو جاتی ہے۔

 
عکس 1۔ ایمان کے اجزا (بالائی سرخ لکیر) کو بیان کرنے والا ایک مشہور کلمہ جسے ایمان مفصل کہا جاتا ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کلمۂِ طیّب سمیت چھ بنیادی کلمات کی طرح ایمان مفصل اور ایمان مجمل[14] بھی ایسے کلمات ہیں کہ جو ایمان کے بنیادی اجزائے ترکیبی کو آسانی سے یاد رکھنے میں مدد دے سکیں اور یہ کسی ایک عبارت کی صورت میں قرآن یا حدیث میں نہیں ملتے۔

ارکانِ اسلام

ارکان اسلام کو اعتقاداتِ دین یا دیانہ (creed) سمجھا جاسکتا ہے، یعنی وہ اطوار کہ جو عملی زندگی میں ظاہر ہوں؛ بعض اوقات ان کو دین کے پانچ ستون بھی کہا جاتا ہے کیونکہ بشری شماریات (demography) کے اندازوں کے مطابق 85 فیصد[15] (اور بعض ذرائع کے مطابق اس سے بھی زیادہ)[16] مسلم افراد ، پانچ (5) ارکانِ اسلام پر ہی یقین رکھتے ہیں[17] جبکہ 15% (اور بعض ذرائع کے مطابق اس سے بھی کم) ایسے ہیں جو اس 5 کے عدد سے انحراف کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا سطور میں شماریاتی تناسب سے حوالۂ مقصود بالترتیب، سنی اور شیعہ تفرقوں کی جانب ہے۔

پانچ_ارکانِ_اسلام: تعارفی_کلمات
کلمۂ شہادت مسلمان کی جانب سے بنیادی اقرار؛ خالق اور رسول پر یقین کی گواہی دینا شہادت کہلاتا ہے۔
نماز معینہ اوقات پر دن میں پانچ بار عبادت (نماز) فرض ہے؛ جو انفرادی یا اجتماعی طور پر ادا کی جاسکتی ہے۔
روزہ ماہ رمضان میں طلوع تا غروبِ آفتاب ، خرد و نوش سے پرہیز رکھنا۔ بعض حالتوں میں غیرلازم یا ملتوی ہو جاتا ہے۔
زکات اپنی ضروریات پوری ہوجانے کے بعد مفلسوں کی امداد میں اپنے مال سے چالیسواں حصہ ادا کرنا۔
حج اگر استطاعت اور اہلِ خانہ کی کفالت کا سامان ہو تو زندگی میں ایک بار، مکہ (کعبہ) کی جانب سفر و عبادت کرنا۔

شیعہ فرقے والوں میں پھر ان ارکان کی مختلف تعداد اور تعریفیں ذیلی تفرقات الشعیہ میں ملتی ہیں۔ اثنا عشریہ والے، فروع دین، کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جن کی تعداد 5 ارکان سے کلمۂ شہادت نکال کر اور خمس، جہاد، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تولّى و تبَرّا شامل کرنے پر 10 ہوجاتی ہے۔ جبکہ ان لوگوں میں توحید، عدل، نبوت، امامت اور قیامت کو اصول الدین کی اصطلاح کے تحت بیان کیا جاتا ہے۔[18] اسماعیلی شیعاؤں میں ان کی تعداد 5 ارکان میں سے شہادت نکال کر اور ولایۃ (اماموں کی جانثاری و سرپرستی) اور طھارت جمع کر کہ 7 اپنا لی جاتی ہے۔[19] شیعوں ہی سے نکلنے والا ایک اور فرقے، دروز، والے اسماعیلیوں کی ولایۃ کو تسلیم کہتے ہیں جبکہ نماز کو صدق اللسان کہہ کر عام مسلمانوں کی طرح نماز اور روزے کو ترک عبادت الاثوان قرار دے کر عام مسلمانوں کی طرح روزہ ادا نہیں کرتے، ان لوگوں میں زکوت بھی مختلف اور انفرادی طور پر ہوتی ہے جبکہ حج نہیں ہوتا۔[20]

تاریخِ اسلام

610ء میں قرآن کی پہلی صدا کی بازگشت ایک صدی سے کم عرصے میں بحر اوقیانوس سے وسط ایشیا تک سنائی دینے لگی تھی اور پیغمبرِ اسلام کی وفات (632ء) کے عین سو سال بعد ہی اسلام 732ء میں فرانس کے شہر تور (tours) کی حدود تک پہنچ چکا تھا۔

خلافت راشدہ

632ء میں عبداللہ ابن ابی قحافہ کے انتخاب پر خلافت راشدہ کا آغاز ہوا، انہوں نے حروب الردہ کے بعد سلطنت ساسانیان اور سلطنت بازنطینی کی جانب پیشقدمیاں کیں۔ 634ء میں ابوبکر   کے انتقال کے بعد عمر بن الخطاب خلیفۂ دوم ہوئے ، کچھ لوگ اس انتخاب پر علی بن ابی طالب کے حق میں تھے۔ عمر فاروق نے ساسانیوں سے عراق (بین النہرینایران کے علاقے اور رومیوں سے مصر، فلسطین، سوریا اور آرمینیا کے علاقے لیکر اسلامی خلافت میں داخل کیئے اور عملی طور پر دونوں بڑی سلطنتوں کا خاتمہ ہوا۔ 638ء میں مسلمان بیت المقدس میں داخل ہو چکے تھے۔ 644ء میں ابولولو فیروز کے خنجر سے عمر فاروق کی شہادت کے بعد عثمان ابن عفان خلیفۂ سوم منتخب ہوئے اور 652ء تک اسلامی خلافت، مغرب کی حدوں (جزیرۃ الاندلس) میں پہنچ گئی۔ اگر تفصیل سے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ وہ عرصہ تھا کہ گو ابھی شیعہ و سنی تفرقے بازی کھل کر تو سامنے نہیں آئی تھی لیکن تیسرے خلیفہ عثمان ابن عفان کے انتخاب (644ء تا 656ء) پر بہرحال ایک جماعت اپنی وضع قطع اختیار کر چکی تھی جس کا خیال تھا کہ علی بن ابی طالب کو ناانصافی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس جماعت سے ہی اس تفرقے نے جنم لیا جسے شيعة علی اور مختصراً شیعہ کہا جاتا ہے۔ عثمان غنی کی شہادت کے بعد اب خلافت راشدہ کا اختتام قریب قریب تھا کہ جب علی المرتضیٰ خلیفہ کے منصب پر آئے (656ء تا 661ء)۔ لوگ فتنۂ مقتلِ عثمان بن عفان پر نالاں تھے اور علی بن ابی طالب پر شدید دباؤ ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے ڈال رہے تھے جس میں ناکامی کا ایک خمیازہ امت کو 656ء کے اواخر میں جنگ جمل کی صورت میں دیکھا نصیب ہوا؛ پھر عائشہ بنت ابی بکر کے حامیوں کی شکست کے بعد دمشق کے حاکم، معاویہ بن ابو سفیان نے علی بن ابی طالب کی بیت سے انکار اور عثمان بن عفان کے قصاص کا مطالبہ کر دیا، فیصلے کے لیے میدان جنگ چنا گیا اور 657ء میں جنگ صفین کا واقعہ ہوا جس میں علی المرتضیٰ کو فتح نہیں ہوئی۔ معاویہ بن ابو سفیان کی حاکمیت (660ء) مصر ، حجاز اور یمن کے علاقوں پر قائم رہی۔ 661ء میں عبد الرحمن بن ملجم کی تلوار سے حملے میں علی بن ابی طالب شہید ہوئے۔ یہاں سے ، علی بن ابی طالب کے حامیوں اور ابتدائی سنی تاریخدانوں کے مطابق ، خلافت راشدہ کے بعد خلیفۂ پنجم حسن ابن علی کا عہد شروع ہوا۔

661ء تا 1258ء

حسن بن علی کی دستبرداری پر معاویہ بن ابو سفیان نے 661ء میں خلافت بنو امیہ کی بنیاد ڈالی اور ایک بار پھر قبل از اسلام کے امرائی و اعیانی عربوں کا سا اندازِ حکمرانی لوٹ آیا[21]۔ پھر ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے، یزید بن معاویہ (679ء) نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے حسین ابن علی کو 680ء میں جنگ کربلا میں شہید کر دیا اور سنی ، شیعہ تفرقوں کی واضح بنیاد ڈالی۔ 699ء میں فقہی امام ابو حنیفہ کی پیدائش ہوئی۔ بنو امیہ کو 710ء میں محمد بن قاسم کی فتح سندھ اور 711ء میں طارق بن زیاد کی فتح اندلس (یہی امام مالک کی پیدائش کا سال بھی ہے) کے بعد 750ء میں عباسی خلافت کے قیام نے گو ختم تو کر دیا لیکن بنو امیہ کا ایک شہزادہ عبدالرحمٰن الداخل فرار ہو کر 756ء میں اندلس جا پہنچا اور وہاں خلافت قرطبہ کی بنیاد رکھی، یوں بنو امیہ کی خلافت 1031ء تک قائم رہی۔ ادھر عباسی خلافت میں کاغذ کی صنعت ، بغداد کے بیت الحکمۃ (762ء) جیسے شاہکار نظر آئے تو ادھر اندلس میں بچی ہوئی خلافت امیہ میں جامع مسجد قرطبہ جیسی عمارات تعمیر ہوئیں۔ 767ء میں فقہی امام شافعی اور 780ء امام حنبل کی پیدائش ہوئی۔ 1258ء میں شیعیوں کی حمایت سے[22] ہلاکو کے بغداد پر حملے سے آخری خلیفہ ، موسیقی و شاعری کے دلدادہ ، معتصم باللہ کو قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں سے روندا گیا اور خلیفۃ المسلمین و امیرالمومنین کی صاحبزادی کو منگولیا ، چنگیز خان کے پوتے مونکو خان کے حرم بھیج دیا گیا، مصلحت اندیشی سے کام لیتے ہوئے ہلاکو نے اہم شیعہ عبادت گاہوں کو اپنے سپاہیوں سے بچانے کی خاطر پہرے دار مقرر کر دیئے تھے ؛ یوں خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہوا۔ عباسیہ عہد ہی میں اسلامی تاریخ کو کوئی 700ء سے شروع ہونے والے[23] اسلامی عہدِ زریں کا دیکھنا نصیب ہوا اور مسلم سائنسدانوں کی متعدد عظیم کتب اسی زمانے میں تخلیق ہوئیں اور اسی زمانے میں ان کی سیاہی کو دجلہ کا پانی کالا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا[22]۔

خلافت تا خلافتیں

کہنے کو 1924ء تک گھسٹنے والی خلافت ، لغوی معنوں میں 632ء تا 1258ء تک ہی قائم سمجھی جاسکتی ہے[24] جبکہ فی الحقیقت اس کا عملی طور پر خاتمہ 945ء میں بنی بویہ کے ہاتھوں ہو چکا تھا[25]۔ ادھر ایران میں سامانیان (819ء تا 999ء) والے اور ایران کے متعدد حصوں سمیت ماوراء النہر و موجودہ ہندوستان کے علاقوں پر پھیلی غزنوی سلطنت (963ء تا 1187ء) والے ، عباسی خلافت کو دکھاوے کے طور برائے نام ہی نمائندگی دیتے تھے۔ فاطمیون (909ء تا 1171ء) ، تیونس میں عباسی خلافت کو غاصب قرار دے کر اپنی الگ خلافت (920ء) کا دعویٰ کر چکے تھے[26] اور اسپین میں عبد الرحمن سوم ، 928ء میں اپنے لیے خلیفہ کا لقب استعمال کر رہا تھا[25]۔ یہ وہ سماں تھا کہ ایک ہی وقت میں دنیا میں کم از کم تین بڑی خلافتیں موجود تھیں ، اور ہر جانب سے خلیفہ بازی اپنے زوروں پر تھی ، یہ بیک وقت موجود خلافتیں ؛ خلافت عباسیہ ، خلافت فاطمیہ اور خلافت قرطبہ (اندلسی امیہ) کی تھیں۔ 1169ء میں نور الدین زنگی نے شیر کوہ کے ذریعے مصر اپنے تسلط میں لے کر فاطمیہ خلافت کا خاتمہ کیا۔ صلاح الدین ایوبی (1138ء تا 1193ء) نے 1174ء میں ایوبی سلطنت کی بنیاد ڈالی[27] اور 1187ء میں عیسائیوں کی قائم کردہ مملکت بیت المقدس سے بیت المقدس کو آزاد کروا لیا۔ 1342ء میں ایوبی سلطنت کے خاتمے اور مملوک (1250ء تا 1517ء) حکومت کے قیام سے قبل اس سلطنت میں ایک خاتون سلطانہ ، شجر الدر (1249ء تا 1250ء) نے بھی ساتویں صلیبی جنگوں کے دوران میں قیادت کی[28]۔

طوائف الملوک تا استعماریت

1258ء میں چنگیز کے پوتے سے بچ نکلنے والے عباسیوں نے مصر میں مملوکوں کی سلطنت (1250ء تا 1517ء) میں خلفیہ کا لقب اختیار کر کے عباسی (فرار ہوجانے والی) خلافت کو مملوکوں کی عثمانیوں کے سلیم اول کے ہاتھوں شکست ہونے تک (1517ء) نام دکھاوے کی طرح قائم رکھا اور پھر سلیم اول نے آخری مصری عباسی خلیفہ، محمد المتوکل ثانی (1509ء تا 1517ء) کے بعد خلیفہ کا لقب اس سے اپنے لیے حاصل کر لیا۔ ھاشم ثانی کے بعد خلافت قرطبہ (756ء تا 1031ء) ختم ہوئی اور الاندلس چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گیا۔ دولت مرابطین کے یوسف بن تاشفین نے 1094ء میں اسے پھر متحد کیا لیکن اس کے بعد دولت موحدون آئی اور معرکہ العقاب (1212ء) میں ان کی شکست پر دوبارہ اندلس کا شیرازہ بکھر گیا اور 1492ء میں ابو عبد اللہ اندلس کو عیسائیوں کے حوالے کر کہ مراکش آگیا۔ ادھر مشرق کی جانب مملوکوں سے سلطنت غزنویہ (986ء تا 1186ء) اور سلطنت غوریہ (1148ء تا 1215ء) نے خلافت کو طوائف بنانے میں اپنا کردار ادا کیا، اس کے بعد خلجی خاندان اور تغلق خاندان آئے اور 1526ء میں سلطنت دہلی ، سلطنت مغلیہ بن گئی۔

استعماریت تا حال

اجمالی جائزہ

جغرافیائی اعتبار سے عیسائیت اور یہودیت کی طرح اسلام بھی ان ہی علاقوں سے دنیا میں آیا کہ جن کو مشرقی وسطٰی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسلام میں حضرت محمد  کے ساتھ دیگر تمام انبیاء پر ایمان رکھا جاتا ہے اور ان میں قرآن ہی کی سورت 35 (فاطر) کی آیت 24 کے مطابق ، قرآن میں درج 25 انبیاء و مرسال[29] کے علاوہ ان میں وہ تمام بھی شامل ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں آتا، مثال کے طور پر سدھارتھ گوتم بدھ مت اور دیگر مذاہب کی ابتداء کرنے والے[30]، قرآن کی رو سے یہ تمام اشخاص خدا کی طرف سے وہی پیغام اپنی اپنی امت میں لائے تھے کہ جو آخری بار قرآن لایا، مگر ان میں تحریف پیدا ہوگئی۔

  • یقیناً ہم نے بھیجا ہے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔
    اور نہیں ہے کوئی امت مگر ضرور آیا ہے اس میں کوئی منتبہ کرنے والا۔ (قرآن؛ 35:24)

تقدمِ زمانی کے لحاظ سے تمام توحیدیہ مذاہب میں جدید ترین کتاب ہونے کے باوجود عقیدے کے لحاظ سے قرآن قدیم ترین الہامی کتاب سمجھی جاتی ہے اور عرب و عجم سمیت تمام دنیا کے مسلمانوں میں عربی ہی میں اسے پڑھا جاتا ہے، جبکہ اس کے متعدد لسانی تراجم کو (ساتھ درج عربی کے لیے) محض تشریح کی حیثیت حاصل ہوتی ہے[31]۔ اسلام میں جن باتوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے انکا ذکر اجزائے ایمان کے قطعے میں آچکا ہے، ان کے علاوہ توحید (شرک سے پرہیز)، اور تخلیق بھی ان اجزاء میں بیان کیئے جاسکتے ہیں۔ عبادات میں نمازِ پنجگانہ و نمازِ جمعہ کے علاوہ عید و بقرعید وغیرہ کی نمازیں قابلِ ذکر ہیں؛ نمازوں کے علاوہ تمام ارکانِ اسلام عبادات میں ہی شمار ہوتے ہیں۔ اہم تہواروں میں عیدالفطر و عید الاضحٰی شامل ہیں۔ روزمرہ زندگی میں اسلامی آدابِ زندگی پر قائم رہنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں معاشرے کے مختلف افراد کے حقوق، مناسب لباس، بے پردگی سے بچاؤ اور آداب و القاب کا خیال رکھا جاتا ہے؛ خرد و نوش میں حلال و حرام کی تمیز ضروری ہے۔ ایمان ، سچائی اور دیانت ہر شعبۂ زندگی میں ملحوظ خاطر رکھنے کی تاکید کی جاتی ہے؛ کام کاج اور فرائض منصبی کو درست طور پر ادا کرنا اور محنت کی عظمت کے بارے میں متعدد احادیث بیان کی جاتی ہیں

اسلام و دیگر مذاہب

از روئے قرآن، اسلام کی بنیادی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ محمد صل للہ علیہ والہ وسلم سے قبل جتنے بھی مذاہب اس دنیا میں آئے وہ فی الحقیقت اسلام تھے اور جو عقائد محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کی جانب سے انسانوں کو سکھائے گئے محمد صل للہ علیہ والہ وسلم سے گذشتہ تمام انبیاء نے بھی ان ہی عقائد کی تبلیغ کی تھی۔ سورت النساء میں درج ہے؛

مذکورہ بالا آیت سے دوسرے مذاہب کے بارے میں اسلام کے نظریے کی وضاحت سامنے آجاتی ہے۔

اسلام میں انبیا

قرآن ہی کی سورت 35 (فاطر) کی آیت 24 کے مطابق، قرآن میں درج 25 انبیاء و مرسال[32] کے علاوہ اسلامی عقائد کے مطابق ایسے انبیا اکرام بھی ہیں کہ جن کا ذکر قرآن میں نہیں آتا، قطعہ بنام اجمالی جائزہ میں درج آیت سے یہ بات عیاں ہے کہ ہر امت میں نبی (یا انبیا) بھیجے گئے، اس سلسلے میں ایک حدیث بھی مسند احمد بن حنبل اور فتح الباری بشرح صحیح البخاری میں آتی ہے کہ جس میں پیغمبران کی تعداد 124000 بیان ہوئی ہے[33][34][35]؛ ظاہر ہے کہ ان میں ان مذاہب کے وہ اشخاص منطقی طور پر شامل ہو جاتے ہیں کہ جن کو آج ان مذاہب کی ابتداء کرنے والا یا ان مذاہب کا خدا مانا جاتا ہے؛ مثال کے طور پر سدھارتھ گوتم بدھ مت اور دیگر مذاہب کی ابتدا کرنے والے[36]، گوتم بدھ کے بارے میں بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ پیغمبر ذو الکفل علیہ السلام (الانبیاء آیت 85) کی جانب اشارہ ہے اور kifl اصل میں سنسکرت کے لفظ (Kapilavastu) کو تشبیہ ہے،[37] گو یہ خیال سنی[37] اور شیعہ [38] کے علاوہ خود بدھ مذہب والوں میں بھی پایا جاتا ہے[39] لیکن چونکہ گوتم بدھ کا نام براہ راست قرآن میں نہیں آتا اس لیے متعدد علماء اس وضاحت کو تسلیم نہیں کرتے۔ قرآن کی رو سے یہ تمام اشخاص خدا کی طرف سے وہی پیغام اپنی اپنی امت میں لائے تھے کہ جو آخری بار قرآن لایا، مگر ان میں تحریف پیدا ہوگئی۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار کی تعداد کے بارے میں متعدد نظریات دیکھنے میں آتے ہیں اور بہت سے علماء کے نزدیک یہ عدد کوئی معین یا ناقابل ترمیم نہیں ہے[40]۔

اسلام پر انتقاد

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. ^ 1.0 1.1 Is the Qur'an for Arabs Only? By Abul A'la Mawdudi روئے خط موقع
  2. مسلم آبادی 1.6 ارب اور 1.82 ارب کا بیان
  3. Learning Arabic at Berkeley By Sonia S'hiri اسی کروڑ
  4. اردو ترجمے کے ساتھ ایک موقع بنام آسان قرآن
  5. ahl al-quran at oxford islamic studies online روئے خط صفحہ
  6. the ahle sunnat wal jamaat روئے خط صفحہ
  7. Ahl-i Hadith روئے خط بیان
  8. see: sachal sarmast at dargahs of india and the world روئے خط صفحہ
  9. shia encyclopedia at scribd روئے خط صفحہ
  10. آسان قرآن
  11. preservation of quran روئے خط مضمون
  12. basic articles of faith صفحہ روئے خط
  13. fundamental articles of faith صفحہ روئے خط
  14. islamic academy نامی موقع پر ایمان مفصل و مجمل کا بیان
  15. اسلام کی آبادیات آن لائن صفحہ
  16. کتنے شیعہ موجود ہیں؟ آن لائن صفحہ
  17. islamicity میں اسلام کے پانچ ارکان آن لائن صفحہ
  18. شیعہ فرقے میں اسلام کے پانچ ارکان آن لائن صفحہ
  19. ارکان اسلام: (da'a'im al-islam of al-qadi al nu'man oxford univ. press 780195684353 کتب فروش موقع
  20. انسائکلوپیڈیا looklex پر دروز آن لائن صفحہ
  21. the first dynasty of islam by G.R. Hawting روئے خط اقتباس
  22. ^ 22.0 22.1 invaders by ian frazier: the new yourker روئے خط مضمون
  23. Matthew E. Falagas, Effie A. Zarkadoulia, George Samonis (2006)۔ "Arab science in the golden age (750–1258 C.E.) and today"، The FASEB Journal 20، p. 1581–1586.
  24. caliphate at student britannica صفحہ روئے خط
  25. ^ 25.0 25.1 caliphate at encyclopedia britannica صفحہ روئے خط
  26. caliphate at history.com روئے خط مضمون
  27. medieval crusades روئے خط مضمون
  28. Female Heroes from the Time of the Crusades روئے خط مضمون
  29. islam web: fatwa 84425; number of messengers in quran روئے خط مضمون
  30. islam and buddhism by harun yahya روئے خط مضمون
  31. what everyone needs to know about islam by John Esposito
  32. islam web: fatwa 84425; number of messengers in quran آن لائن مضمون
  33. فتح الباری بشرح صحیح البخاری آن لائن
  34. پاکستان لنک نامی ایک موقع آن لائن بیان
  35. دارالافتاء پر ایک بیان آن لائن موقع
  36. islam and buddhism by harun yahya آن لائن مضمون
  37. ^ 37.0 37.1 تنظیم اسلامی کی ویب سائٹ پر بیان القرآن؛ Surah An-Nisa (Ayat 158-176) (پیڈی ایف ملف)
  38. ایک شیعہ موقع پر ایک لاکھ چوبیس ہزار کے عدد کا ذکر آن لائن مضمون
  39. قرآن میں گوتم بدھ کے بارے میں بدھ موقع آن لائن
  40. darul ifta; question آن لائن ربط

ملاحظات


کتابیات

  • Accad، Martin (2003). "The Gospels in the Muslim Discourse of the Ninth to the Fourteenth Centuries: An Exegetical Inventorial Table (Part I)". Islam and Christian-Muslim Relations 14 (1). 
  • Ahmed، Akbar (1999). Islam Today: A Short Introduction to the Muslim World (2.00 ed.). I. B. Tauris. 
  • Bennett، Clinton (2010). Interpreting the Qur'an: a guide for the uninitiated. Continuum International Publishing Group. صفحہ۔101. 
  • Brockopp، Jonathan E. (2003). Islamic Ethics of Life: abortion, war and euthanasia. University of South Carolina press. 
  • Cohen-Mor، Dalya (2001). A Matter of Fate: The Concept of Fate in the Arab World as Reflected in Modern Arabic Literature. Oxford University Press. 
  • Curtis، Patricia A. (2005). A Guide to Food Laws and Regulations. Blackwell Publishing Professional. 
  • Esposito، John (2010). Islam: The Straight Path (4th ed.). Oxford University Press. 
  • Esposito، John (1998). Islam: The Straight Path (3rd ed.). Oxford University Press. 
  • Esposito، John; Haddad، Yvonne Yazbeck (2000a). Muslims on the Americanization Path?. Oxford University Press. 
  • Esposito، John (2000b). Oxford History of Islam. Oxford University Press. 
  • Esposito، John (2002a). Unholy War: Terror in the Name of Islam. Oxford University Press. 
  • Esposito، John (2002b). What Everyone Needs to Know about Islam. Oxford University Press. 
  • Esposito، John (2003). The Oxford Dictionary of Islam. اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس. 
  • Esposito، John (2004). Islam: The Straight Path (3rd Rev Upd ed.). Oxford University Press. 
  • Farah، Caesar (1994). Islam: Beliefs and Observances (5th ed.). Barron's Educational Series. 
  • Farah، Caesar (2003). Islam: Beliefs and Observances (7th ed.). Barron's Educational Series. 
  • Firestone، Reuven (1999). Jihad: The Origin of Holy War in Islam. Oxford University Press. 
  • Ghamidi، Javed (2001). Mizan. المورد. OCLC 52901690. 
  • Goldschmidt, Jr.، Arthur; Davidson، Lawrence (2005). A Concise History of the Middle East (8th ed.). Westview Press. 
  • Griffith، Ruth Marie; Savage، Barbara Dianne (2006). Women and Religion in the African Diaspora: Knowledge, Power, and Performance. Johns Hopkins University Press. 
  • Haddad، Yvonne Yazbeck (2002). Muslims in the West: from sojourners to citizens. اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس. 
  • Hawting، G. R. (2000). The First Dynasty of Islam: The Umayyad Caliphate AD 661–750. Routledge. 
  • Hedayetullah، Muhammad (2006). Dynamics of Islam: An Exposition. Trafford Publishing. 
  • Hofmann، Murad (2007). Islam and Qur'an. 
  • Holt، P.M; Lewis، Bernard (1977a). Cambridge History of Islam, Vol. 1. Cambridge University Press. 
  • Holt، P. M.; Lambton، Ann K.S; Lewis، Bernard (1977b). Cambridge History of Islam, Vol. 2. Cambridge University Press. 
  • Hourani، Albert; Ruthven، Malise (2003). A History of the Arab Peoples. Belknap Press; Revised edition. 
  • Kobeisy، Ahmed Nezar (2004). Counseling American Muslims: Understanding the Faith and Helping the People. Praeger Publishers. 
  • Kramer، Martin (1987). Shi'Ism, Resistance, and Revolution. Westview Press. 
  • Lapidus، Ira (2002). A History of Islamic Societies (2nd ed.). Cambridge University Press. 
  • Lewis، Bernard (1984). The Jews of Islam. Routledge & Kegan Paul. 
  • Lewis، Bernard (1993). The Arabs in History. Oxford University Press. 
  • Lewis، Bernard (1997). The Middle East. Scribner. 
  • Lewis، Bernard (2001). Islam in History: Ideas, People, and Events in the Middle East (2nd ed.). Open Court. 
  • Lewis، Bernard (2003). What Went Wrong?: The Clash Between Islam and Modernity in the Middle East (Reprint ed.). Harper Perennial. 
  • Lewis، Bernard (2004). The Crisis of Islam: Holy War and Unholy Terror. Random House, Inc.، New York. 
  • Madelung، Wilferd (1996). The Succession to Muhammad: A Study of the Early Caliphate. Cambridge University Press. 
  • Malik، Jamal; Hinnells، John R (2006). Sufism in the West. Routledge. 
  • Menski، Werner F. (2006). Comparative Law in a Global Context: The Legal Systems of Asia and Africa. Cambridge University Press. 
  • Miller، Tracy، ed (اکتوبر 2009) (PDF). Mapping the Global Muslim Population: A Report on the Size and Distribution of the World's Muslim Population. Pew Research Center. http://www.pewforum.org/2009/10/07/mapping-the-global-muslim-population/۔ اخذ کردہ بتاریخ 2013-09-24. 
  • Momen، Moojan (1987). An Introduction to Shi'i Islam: The History and Doctrines of Twelver Shi'ism. Yale University Press. 
  • Nasr، Seyed Muhammad (1994). Our Religions: The Seven World Religions Introduced by Preeminent Scholars from Each Tradition (Chapter 7). HarperCollins. 
  • Nigosian، Solomon Alexander (2004). Islam: its history, teaching, and practices. Indiana University Press. 
  • Patton، Walter M. (اپریل 1900). "The Doctrine of Freedom in the Korân". The American Journal of Semitic Languages and Literatures (Brill Academic Publishers) 16 (3): 129. doi:10.1086/369367. ISBN 90-04-10314-7. 
  • Peters، F. E. (2003). Islam: A Guide for Jews and Christians. Princeton University Press. 
  • Rahman، H. U. (1999). Chronology of Islamic History, 570-1000 CE (3rd ed.). Ta-Ha Publishers Ltd. 
  • Rippin، Andrew (2001). Muslims: Their Religious Beliefs and Practices (2nd ed.). Routledge. 
  • Sachedina، Abdulaziz (1998). The Just Ruler in Shi'ite Islam: The Comprehensive Authority of the Jurist in Imamite Jurisprudence. Oxford University Press US. 
  • Siljander, Mark D. and John David Mann. A Deadly Misunderstanding: a Congressman's Quest to Bridge the Muslim-Christian Divide۔ First ed. New York: Harper One, 2008. ISBN 978-0-06-143828-8
  • Smith، Jane I. (2006). The Islamic Understanding of Death and Resurrection. Oxford University Press. 
  • Tabatabae، Sayyid Mohammad Hosayn; Nasr، Seyyed Hossein (1979). Shi'ite Islam. Suny press. 
  • Teece، Geoff (2003). Religion in Focus: Islam. Franklin Watts Ltd. 
  • Trimingham، John Spencer (1998). The Sufi Orders in Islam. Oxford University Press. 
  • Turner، Colin (2006). Islam: the Basics. Routledge (UK). 
  • Turner، Bryan S. (1998). Weber and Islam. Routledge (UK). 
  • Waines، David (2003). An Introduction to Islam. Cambridge University Press. 
  • Watt، W. Montgomery (1973). The Formative Period of Islamic Thought. University Press Edinburgh. 
  • Watt، W. Montgomery (1974). Muhammad: Prophet and Statesman (New ed.). Oxford University Press. 
  • Weiss، Bernard G. (2002). Studies in Islamic Legal Theory. Boston: Brill Academic publishers. 

دائرۃ المعارف

مزید مطالعہ

  • Abdul-Haqq, Abdiyah Akbar (1980)۔ Sharing Your Faith with a Muslim۔ Minneapolis: Bethany House Publishers. N.B۔ Presents the genuine doctrines and concepts of Islam and of the Holy Qur'an, and this religion's affinities with Christianity and its Sacred Scriptures, in order to "dialogue" on the basis of what both faiths really teach. ISBN 0-87123-553-6
  • Akyol، Mustafa (2011). Islam Without Extremes (1st ed.). W. W. Norton & Company. 
  • Arberry، A. J. (1996). The Koran Interpreted: A Translation (1st ed.). Touchstone. 
  • Cragg, Kenneth (1975)۔ The House of Islam، in The Religious Life of Man Series۔ Second ed. Belmont, Calif.: Wadsworth Publishing Co.، 1975. xiii, 145 p. ISBN 0-8221-0139-4
  • Hourani, Albert (1991)۔ Islam in European Thought۔ First pbk. ed. Cambridge, Eng.: Cambridge University Press, 1992, cop. 1991. xi, 199 p. ISBN 0-521-42120-9; alternative ISBN on back cover, 0-521-42120-0
  • Khan، Muhammad Muhsin; Al-Hilali Khan; Muhammad Taqi-ud-Din (1999). Noble Quran (1st ed.). Dar-us-Salam Publications. 
  • A. Khanbaghi (2006)۔ The Fire, the Star and the Cross: Minority Religions in Medieval and Early Modern Iran۔ I. B. Tauris.
  • Khavari, Farid A. (1990)۔ Oil and Islam: the Ticking Bomb۔ First ed. Malibu, Calif.: Roundtable Publications. viii, 277 p.، ill. with maps and charts. ISBN 0-915677-55-5
  • Kramer (ed.)، Martin (1999). The Jewish Discovery of Islam: Studies in Honor of Bernard Lewis. Syracuse University. 
  • Kuban، Dogan (1974). Muslim Religious Architecture. Brill Academic Publishers. 
  • Lewis، Bernard (1994). Islam and the West. Oxford University Press. 
  • Lewis، Bernard (1996). Cultures in Conflict: Christians, Muslims, and Jews in the Age of Discovery. Oxford University Press. 
  • Mubarkpuri، Saifur-Rahman (2002). صفی الرحمٰن مبارک پوری: Biography of the Prophet. Dar-us-Salam Publications. 
  • Najeebabadi، Akbar Shah (2001). History of Islam. Dar-us-Salam Publications. 
  • Nigosian، S. A. (2004). Islam: Its History, Teaching, and Practices (New ed.). Indiana University Press. 
  • Rahman، Fazlur (1979). Islam (2nd ed.). University of Chicago Press. 
  • Tausch، Arno (2009). What 1.3 Billion Muslims Really Think: An Answer to a Recent Gallup Study, Based on the "World Values Survey"۔ Foreword Mansoor Moaddel, Eastern Michigan University (1st ed.). Nova Science Publishers, New York. 
  • Tausch، Arno (2015). The political algebra of global value change. General models and implications for the Muslim world. With Almas Heshmati and Hichem Karoui. (1st ed.). Nova Science Publishers, New York. 
  • Walker، Benjamin (1998). Foundations of Islam: The Making of a World Faith. Peter Owen Publishers. 

بیرونی روابط

تعلیمی وسائل
آن لائن مآخذ
ڈائریکٹریاں