حقِ آقا اس قانون کو کہا جاتا تھا جس کی رو سے یورپ کے کچھ علاقوں بالخصوص فرانس اور اٹلی میں شادی کی رات دلہن کے نزدیک جانے والا پہلا شخص شوہر نہیں بلکہ علاقے کا حاکم ہوتا تھا جو عام طور پر سب سے بڑا زمیندار ہوا کرتا۔ یہ قانون یا رسم Droit du seigneur کہلاتی تھی۔ اسے jus primae noctis بھی کہتے ہیں۔ بسا اوقات حاکم یا نواب دولہے سے اپنی اس "خدمت" کا معاوضہ بھی وصول کرتے تھے۔ جو لوگ معاضہ ادا کرنے کے قابل نہ ہوتے تھے انہیں شادی کرنے کی اجازت نہ ہوتی تھی۔ معاوضے کی وصولی کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی تھی کہ حاکم نے یہ خدمت انجام دے کر در حقیقت دلہن کا بانچھ پن ختم کیا ہے، اپنی نفسانی خواہش کی تکمیل نہیں۔[1] ان باتوں کا کوئی قدیم حوالہ ابھی تک دستیاب نہیں ہوا کہ قرون وسطی کے یورپ میں واقعی ایسی کوئی رسم تھی۔ جو حوالے ملتے ہیں وہ بعد کے زمانے کے ہیں۔[2][3]

Vasily Polenov: Le droit du Seigneur (1874)۔
ایک بوڑھا کسان اپنی بیٹیوں کو زمیندار سے متعارف کرانے لایا ہے۔

عہد قدیم میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ خدا ہی ساری زندہ چیزوں میں روح ڈالنے والا ہے اور زمین پر خدا کا نائب (پجاری یا پادری کی شکل میں) اولاد اور فصل کی بہتات کا ضامن ہوتا ہے۔ بعد میں جب بڑی بڑی بادشاہت قائم ہونے لگیں تو پجاری کی جگہ بادشاہ کو ایسی قوتوں کا مالک سمجھا جانے لگا۔[4] کسی زمانے میں یہ عقیدہ عام تھا کہ بادشاہ کی مردانہ طاقت ہی سلطنت کی بقا اور مضبوطی کی علامت ہے۔droit. جب آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے دلہنوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے لگی تو بادشاہ کی جگہ بادشاہ کی مورتی کو استعمال کیا جاتا تھا۔ بادشاہ یا نواب کو یہ اختیار بھی حاصل ہوتا تھا کہ وہ کسی دلہن کو مسترد کر دیں۔

1865ء تک امریکا میں غلام رکھنا قانونی تھا اور کنیز بھی اپنے مالک کی مرضی کی تابعداری پر مجبور ہوتی تھی۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم