مرکزی مینیو کھولیں
  
اطالیہ
اطالیہ
پرچم
اطالیہ
نشان

EU-Italy.svg، LocationItaly.svg، Italy on the globe (Europe centered).svg 

ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات 42°30′N 12°30′E / 42.5°N 12.5°E / 42.5; 12.5  ویکی ڈیٹا پر متناسقاتی مقام (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
بلند مقام مونٹ بلانک (4810 میٹر)  ویکی ڈیٹا پر بلند ترین سطح (P610) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رقبہ 301338 مربع کلومیٹر  ویکی ڈیٹا پر رقبہ (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دارالحکومت روم[2]  ویکی ڈیٹا پر دارالحکومت (P36) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرکاری زبان اطالوی[3]  ویکی ڈیٹا پر سرکاری زبان (P37) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی 60599936 (30 نومبر 2016)[4]  ویکی ڈیٹا پر آبادی (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حکمران
اعلی ترین منصب سرجیو ماتاریلا (3 فروری 2015–)[5][6]  ویکی ڈیٹا پر سربراہ ریاست (P35) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سربراہ حکومت جوزپے کونٹے (1 جون 2018–)  ویکی ڈیٹا پر سربراہ حکومت (P6) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 18 جون 1946[7]  ویکی ڈیٹا پر تاسیس (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 18 سال، 16 سال  ویکی ڈیٹا پر شادی کی کم از کم عمر (P3000) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لازمی تعلیم (کم از کم عمر) 6 سال  ویکی ڈیٹا پر لازمی تعلم (کم از کم عمر) (P3270) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لازمی تعلیم (زیادہ سے زیادہ عمر) 16 سال  ویکی ڈیٹا پر لازمی تعلیم (زیادہ سے زیادہ عمر) (P3271) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شرح بے روزگاری 12 فیصد (2014)[8]  ویکی ڈیٹا پر unemployment rate (P1198) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر اعداد و شمار
کرنسی یورو  ویکی ڈیٹا پر رائج سکہ (P38) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
منطقۂ وقت مرکزی یورپی وقت
متناسق عالمی وقت+01:00 (معیاری وقت)
00 (روشنیروز بچتی وقت)  ویکی ڈیٹا پر منطقہ وقت (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ٹریفک سمت دائیں  ویکی ڈیٹا پر ڈرائیونگ سمت (P1622) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈومین نیم it.  ویکی ڈیٹا پر ٹی ایل ڈی (P78) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرکاری ویب سائٹ {{#اگرخطا:باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں|}}
آیزو 3166-1 الفا-2 IT  ویکی ڈیٹا پر ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بین الاقوامی فون کوڈ +39  ویکی ڈیٹا پر ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اطالیہ(اطالوی: Italia [iˈtaːlja] ( سنیے))، سرکاری نام:جمہوریہ اطالیہ(اطالوی: Repubblica Italiana [reˈpubblika itaˈljaːna][9][10][11][12] (اطالوی میں Italia) جنوبی یورپ میں واقع ایک جزیرہ نما ملک ہے۔[13] یہ اطالوی جزیرہ نما کا ایک حصہ ہے اور رہیں سے رومی سلطنت و‌رومی تہذیب شروع ہوئی تھی۔ اسے مغربی یورپ بھی کہا جاتا ہے۔[14][15] بعض لوگ اسے انگریزی کی نقالی میں اردو میں بھی اٹلی کہتے ہیں۔ اطالیہ کو مسیحیت کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ رومن کیتھولک فرقے کے روحانی پیشواہ جن کو پوپ کہا جاتا ہے وہ روم میں واقع ایک جگہ جسے ویٹیکن سٹی (شہر واتیکان) کہتے ہیں، وہاں رہتے ہیں۔ اطالیہ کی سرحد فرانس،آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ سے ملتی ہے۔ جبکہ اٹلی کے درمیان میں سان مرینو(سان مارینو) اور ویٹیکن سٹی( شہر واتیکان) کے آزاد مگر چھوٹے علاقے ہیں۔ اس کا دار الحکومت روم ہے۔ زبان اطالوی اور نظام حکومت پارلیمانی جمہوریہ ہے۔ 25 مارچ 1957 کو یہ یورپی یونین کا رکن بنا تھا۔ اطالیہ یورپی یونین کے بانی ممالک میں شامل ہے۔ اس کا کل رقبہ 301,340 کلومیٹر2 (116,350 مربع میل) اور اس کی زمینی سرحد فرانس، سوتزرلینڈ، آسٹریا، سولوینیا اور ویٹیکن سٹی اور سان مارینو سے ملتی ہیں۔ جنوبی یورپ اور بحیرہ روم طاس میں اپنی مرکزی جغرافیائی وقوع کی وجہ سے اطالیہ ہمیشہ سے ہزارہا اقوام اور تہذیبوں کا مسکن و ملجا رہا ہے۔ متعدد قدیم اقوام کے علاوہ یہاں ہند-یورپی اطالوی قوم آکر آباد ہوئی جنہوں نے جدید ملک کو یہ نام دیا۔ ان کا عہد کلاسیکی دور سے شروع ہوتا ہے جب فونیقی اور قدیم قرطاجنہ نے اطالیہ میں قدم رکھا،[16] ان کے بعد قدیم یونان کی تہذیب ظہور پزیر ہوئی۔ 8ویں صدی ق م میں ایک اطالوی قبیلہ نے رومی مملکت کی بنیاد رکھی اور بعد میں رومی جمہوریہ کے نام سے جانا گیا۔ یہاں اب سینیٹ اور عوامی طرز حکومت ہے۔

عہد وسطی کے اوائل میں اطالیہ کئی بار انہدام اور تخریب کا شکار ہوا۔ لیکن 11ویں صدی میں اطالیہ میں سرمایہ داری نظام کا آغاز ہوا۔[17] اب ریاستیں آزاد رہنے لگی تھیں اور اور یہاں جہوری اور جاگیردارانہ نظام قائم تھا جس سے تجارت کو خوب فروغ حاصل ہوا اور علاقہ ایشیا و یورپ کا تجارتی مرکز بن گیا۔ البتہ اطالیہ ایک حصہ اب بھی مذہبی شکنجہ میں تھا جہاں مذہبی آمریت اور پاپائی ریاستیں قائم تھیں۔

41°54′N 12°29′E / 41.900°N 12.483°E / 41.900; 12.483

مذہبترميم

اسلامترميم

اسلام اطالیہ (اٹلی) میں رومن کیتھولک کے بعد دوسرا بڑا مذہب ہے، 2011ء کے اندازے کے مطابق اطالیہ میں مسلمان 2٪ ہیں ۔[18] اطالیہ کا قومی شماریاتی ادارہ (Instituto Nazionale di Stastica) یہاں کے شہریوں کی "حساس" معلومات یکجا نہیں کرتا۔ اس زمرے میں مذہبی وابستگی پر اعداد و شمار بھی شامل ہیں۔ تاہم 2006 میں غیر سرکاری طور پر جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں 723188 سے لے کر دس لاکھ کے درمیان مسلمان یہاں آباد ہیں۔ مسلمانوں کی پہلی آمد نویں صدی عیسوی میں جب صقلیہ خلافت عباسیہ کے زیر اقتدار تھا، تب ہوئی۔ 827ء میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ماتزار میں کاروبار کر رہی تھی۔[19]

انتظامی علاقےترميم

 
اطالیہ کے مختلف انتظامی علاقے۔
Region Capital Area (km2) Area (sq mi) Population Nominal GDP EURO billions (2016)[20] Nominal GDP EURO per capita(2016) [21]
آبروزو L'Aquila 10,763 4,156 1,331,574 32 24,100
وادی آوستہ آئوستا 3,263 1,260 128,298 4 34,900
پولیا باری 19,358 7,474 4,090,105 72 17,800
بازیلیکاتا پوتینتسا 9,995 3,859 576,619 12 20,600
کلابریا کاتاندزارو 15,080 5,822 1,976,631 33 16,800
کمپانیا ناپولی 13,590 5,247 5,861,529 107 18,300
ایمیلیا رومانیا بولونیا 22,446 8,666 4,450,508 154 34,600
فریولی وینیزیا جولیا تریستے 7,858 3,034 1,227,122 37 30,300
لاتزیو روم 17,236 6,655 5,892,425 186 31,600
لیگوریا جینوا (اٹلی) 5,422 2,093 1,583,263 48 30,800
لومباردیہ میلان 23,844 9,206 10,002,615 367 36,600
مارکے انکونا 9,366 3,616 1,550,796 41 26,600
مولیزے کامپوباسو 4,438 1,713 313,348 6 20,000
پیعیمونتے تورینو 25,402 9,808 4,424,467 129 29,400
ساردینیا کالیاری 24,090 9,301 1,663,286 34 20,300
صقلیہ پالیرمو 25,711 9,927 5,092,080 87 17,200
تسکانہ فلورنس 22,993 8,878 3,752,654 112 30,000
ترینتینو جنوبی ٹائرول ترینتو 13,607 5,254 1,055,934 42 39,755
امبریا پیروجا 8,456 3,265 894,762 21 24,000
وینیتو وینس 18,399 7,104 4,927,596 156 31,700

بیرونی روابطترميم

مزید دیکھیےترميم

فہرست متعلقہ مضامین اطالیہترميم

  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

حوالہ جاتترميم

  1.     "صفحہ اطالیہ في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 دسمبر 2019۔
  2. La Costituzione della Repubblica Italiana
  3. Legge 15 Dicembre 1999, n. 482
  4. http://demo.istat.it/bilmens2016gen/index.html
  5. Il Presidente della Repubblica Sergio Mattarella si è insediato al Quirinale
  6. Il Presidente della Repubblica Sergio Mattarella si è insediato al Quirinalehttps://web.archive.org/web/20150206010544/http://www.quirinale.it/elementi/Continua.aspx?tipo=Notizia&key=393 — سے آرکائیو اصل
  7. Western Europe 2003 — صفحہ: 360 — شائع شدہ از: 2003 — ISBN 1-85743-152-9
  8. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  9. Search the agreements database نسخہ محفوظہ 29 مارچ 2014 در وے بیک مشین Council of the European Union (retrieved 13 اکتوبر 2013)۔
  10. Italy: The World Factbook نسخہ محفوظہ 9 جولائی 2017 در وے بیک مشین Central Intelligence Agency (retrieved 13 اکتوبر 2013)۔
  11. "Country names"۔ مورخہ 19 مئی 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)
  12. "BBC News – Italy profile – Facts"۔ BBC News۔ 17 دسمبر 2015۔ مورخہ 25 ستمبر 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)
  13. "UNSD — Methodology"۔ unstats.un.org۔
  14. "UNITED NATIONS DGACM"۔ www.un.org۔
  15. Italy is grouped in both Southern and Western Europe depending on the context. Academic works describing Italy as a Western European country:
  16. Carl Waldman؛ Catherine Mason۔ Encyclopedia of European Peoples۔ Infobase Publishing۔ صفحہ 586۔ آئی ایس بی این 978-1-4381-2918-1۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 فروری 2013۔
  17. Henri Sée۔ "Modern Capitalism Its Origin and Evolution" (پی‌ڈی‌ایف)۔ University of Rennes۔ Batoche Books۔ مورخہ 7 اکتوبر 2013 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اگست 2013۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)
  18. http://www.fgi-tbff.org/sites/default/files/elfinder/FGIImages/Research/fromresearchtopolicy/ipsos_mori_briefing_pack.pdf
  19. "Assessment of the status, development and diversification of fisheries-dependent communities: Mazara del Vallo Case study report" (پی‌ڈی‌ایف)۔ European Commission۔ صفحہ 2۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 ستمبر 2012۔ In the year 827, Mazara was occupied by the Arabs, who made the city an important commercial harbour. That period was probably the most prosperous in the history of Mazara.
  20. [1]
  21. "Archived copy"۔ مورخہ 3 مارچ 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 مئی 2018۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)

(آلپی)