مرکزی مینیو کھولیں


République française
República Francesa
جمہوریہ فرانس
فرانس کا پرچم فرانس کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: Liberté, égalité, fraternité
(آزادی، مساوات، اخوت)
ترانہ: La Marseillaise
فرانس کا محل وقوع
دار الحکومت پیرس
عظیم ترین شہر پیرس
دفتری زبان(یں) فرانسیسی، کتلانی
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
جمہوریہ (نیم صدارتی نظام)
عمانویل میکرون
مانویل والس
تشکیل
{{{تسلیمشدہ_واقعات}}}
{{{تسلیمشدہ_تواریخ}}}
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
551500  مربع کلومیٹر (48)
212935 مربع میل
نامعلوم
آبادی
 - تخمینہ:2011ء
 - کثافتِ آبادی
 
65,800,000 (19)
110 فی مربع کلومیٹر(95)
285 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

2067 ارب بین الاقوامی ڈالر (8 واں)
33800 بین الاقوامی ڈالر (25 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.952
(10) – بلند
سکہ رائج الوقت یورو (EUR)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
مرکزی یورپی وقت (CET اور CEST)
(یو۔ٹی۔سی۔ 1)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 2)
انٹرنیٹ ڈومین .fr
کالنگ کوڈ +33+

جمہوریہ فرانس یا فرانس (فرانسیسی: République française، دفتری نام: جمہوریہ فرانس) ایک خود مختار ریاست ہے جس کی عمل داری میں مغربی یورپ کا میٹروپولیٹن فرانس اور سمندر پار واقع متعدد علاقے اور عمل داریاں شامل ہیں۔ فرانس کا میٹروپولیٹن خطہ بحیرہ روم سے رودبار انگلستان اور بحیرہ شمال تک نیز دریائے رائن سے بحر اوقیانوس تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ سمندر پار علاقوں میں جنوبی امریکا کا فرانسیسی گیانا اور بحر الکاہل و بحر ہند میں واقع متعدد جزائر شامل ہیں۔ ملک کے 18 خطوں (جن میں سے پانچ سمندر پار واقع ہیں) کا مکمل رقبہ 643,801 مربع کلومیٹر (248,573 مربع میل) ہے جس کی مجموعی آبادی (جون 2018ء کے مطابق) 67.26 ملین (چھ کروڑ اکہتر لاکھ چھیاسی ہزار چھ سو اڑتیس) نفوس پر مشتمل ہے۔ فرانس ایک وحدانی نیم صدارتی جمہوریہ ہے جس کا دار الحکومت پیرس ہے۔ یہ فرانس کا سب سے بڑا شہر اور ملک کا اہم ترین ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے۔ دیگر اہم شہروں میں مارسئی، لیون، لیل، نیس، تولوز اور بورڈو قابل ذکر ہیں۔

وہ خطہ جو اس وقت میٹروپولیٹن فرانس کہلاتا ہے، آہنی دور میں اس جگہ سیلٹک قوم سے تعلق رکھنے والے گال آباد تھے۔ روم نے 51 ق م میں اس خطہ پر قبضہ کیا جو 476ء تک برقرار رہا۔ بعد ازاں جرمانی فرانک یہاں آئے اور انہوں نے مملکت فرانس کی بنیاد رکھی۔ عہد وسطیٰ کے اواخر میں فرانس نے جنگ صد سالہ (1337ء تا 1453ء) میں فتح حاصل کی جس کے بعد فرانس ایک بڑی یورپی طاقت بن کر ابھرا۔ نشاۃ ثانیہ کے وقت فرانسیسی ثقافت پروان چڑھی اور ایک عالمی استعماری سلطنت کی ابتدا ہوئی جو بیسویں صدی عیسوی تک دنیا کی دوسری عظیم ترین سلطنت سمجھی جاتی تھی۔ سولہویں صدی عیسوی میں کاتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان میں مذہبی جنگیں عروج پر تھیں اور یہ پوری صدی انہی جنگوں کے نام رہی، تاہم لوئی چودہواں کے زیر اقتدار فرانس یورپ کی غالب تمدنی، سیاسی اور فوجی طاقت بن گیا۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر میں عظیم الشان انقلاب فرانس رونما ہوا جس نے مطلق العنان شہنشاہی کا خاتمہ کرکے عہد جدید کے اولین جمہوریہ کی بنیاد رکھی اور حقوق انسانی کے اعلامیہ کا مسودہ پیش کیا جو بعد میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے منشور کا محرک بنا۔

انیسویں صدی عیسوی میں نپولین نے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد فرانسیسی سلطنت اول قائم کی۔ نپولین کے عہد میں لڑی جانے والی جنگوں نے پورے بر اعظم یورپ کو خاصا متاثر کیا۔ اس سلطنت کے زوال کے بعد فرانس سخت بد نظمی اور انتشار کا شکار رہا، بالآخر سنہ 1870ء میں فرانسیسی جمہوریہ سوم کی بنیاد پڑی۔ فرانس پہلی جنگ عظیم میں شامل تھا جس میں اسے معاہدہ ورسائے کی شکل میں فتح نصیب ہوئی، نیز وہ دوسری جنگ عظیم میں بھی متحدہ طاقتوں کے ساتھ تھا لیکن 1940ء میں محوری طاقتوں نے اس پر قبضہ کر لیا جس سے سنہ 1944ء میں فرانس کو آزادی ملی اور فرانسیسی جمہوریہ چہارم کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ جنگ الجزائر کی وقت تحلیل ہو گیا۔ سنہ 1958ء میں چارلس ڈیگال نے فرانسیسی جمہوریہ پنجم کی بنیاد رکھی جو اب تک موجود ہے۔ سنہ 1960ء کی دہائی میں الجزائر اور تقریباً تمام نو آبادیاں فرانسیسی استعمار سے آزاد ہوئیں لیکن فرانس سے ان کے اقتصادی اور فوجی روابط اب بھی خاصے مستحکم ہیں۔

فرانس سینکڑوں برس سے فلسفہ، طبیعی علوم اور فنون لطیفہ کا عالمی مرکز رہا ہے۔ وہاں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات بکثرت موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے ہر سال تقریباً 83 ملین غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ فرانس ایک ترقی یافتہ ملک ہے جو خام ملکی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کی ساتویں اور مساوی قوت خرید کے لحاظ سے نویں بڑی معیشت سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی خانگی دولت کے حساب سے فرانس دنیا کا چوتھا مالدار ترین ملک ہے۔ نیز تعلیم، نگہداشت صحت، متوقع زندگی اور انسانی ترقی کے میدانوں میں بھی فرانس کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل میں حق استرداد حاصل ہونے کی بنا پر اسے دنیا کی عظیم طاقت اور باضابطہ جوہری قوت کا حامل ملک سمجھا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یورو زون اور یورپی اتحاد کے سربرآوردہ ممالک میں اس کا شمار ہے۔ نیز وہ نیٹو، انجمن اقتصادی تعاون و ترقی، عالمی تجارتی ادارہ اور فرانسیسی بین الاقوامی تنظیم کا بھی رکن رکین ہے۔

فہرست

اشتقاقیاتترميم

لفظ "فرانس" لاطینی زبان کے لفظ "فرانکیا" سے ماخوذ ہے جو ابتدا میں پوری فرانکیا سلطنت کے لیے استعمال ہوتا تھا، اس کے معنی ہیں "فرانک کا وطن"۔ آج بھی یورپ کی بہت سی زبانوں میں جدید فرانس کا تقریباً یہی نام رائج ہے، چنانچہ اطالوی اور ہسپانوی میں فرانسیا، جرمن میں فرانکریخ اور ولندیزی میں فرانک ریک کہا جاتا ہے اور ان سب ناموں کا ماخذ وہی مذکورہ تاریخی پس منظر ہے۔

لفظ "فرانک" کی ابتدا کے متعلق متعدد نظریات بیان کیے جاتے ہیں۔ ایڈورڈ گبن اور جیکب گرم کے پیشرووں کا خیال تھا کہ اس لفظ کا تعلق انگریزی لفظ "فرینک" (frank یعنی آزاد) سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گال کی فتوحات کے بعد فرانک ہی تھے جو محصولات سے آزاد رہے، اسی لیے انہیں فرانک کہا جانے لگا۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ لفظ "فرانک" ابتدائی جرمنی زبان کے لفظ frankon سے مشتق ہے جس کے معنی چھوٹے نیزے یا برچھی کے ہیں اور چونکہ فرانک قوم نیزہ افگنی میں معروف تھی، اس لیے وہ فرانک مشہور ہوئے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ فرانکوں کے استعمال کی بنا پر ان ہتھیاروں کا یہ نام پڑا، نہ کہ ہتھیاروں کے استعمال سے اس قوم کا نام فرانک ہوا۔

تاریخترميم

ماقبل تاریخ (چھٹی صدی ق م سے قبل)ترميم

موجودہ فرانس میں انسانی زندگی کے آثار اٹھارہ لاکھ برس سے پائے جاتے ہیں۔ ماضی میں یہاں انسانی آبادی کو ناخوشگوار اور بدلتے موسموں کا سامنا رہا جن میں سخت برفانی دور بھی آئے۔ یہاں ابتدائی انسانی انواع خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتی اور شکار کرکے اپنی غذا کا انتظام کرتی تھیں۔ فرانس میں بالائی قدیم سنگی دور کے منقش غاروں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں مشہور ترین اور محفوظ ترین غار لاسکو ہے جو اندازہً 18000 ق م کی ہے۔ برفانی دور کے اختتام (10000 ق م) کے وقت اس خطے کی آب و ہوا معتدل ہو گئی اور اندازہً سات ہزار ق م سے مغربی یورپ کا یہ حصہ نئے سنگی دور میں داخل ہوا اور اس کے باشندوں نے خانہ بدوشی ترک کر کے مستقل سکونت اختیار کی۔

آبادیاتی اور زراعتی ترقی کے بعد چوتھے اور تیسرے ہزارے کے درمیان میں فلزیات کا ظہور ہوا۔ ابتدا میں یہ لوگ سونا، تانبا اور کانسی کو استعمال کرتے رہے، بعد میں لوہے کا انکشاف ہوا۔ آج بھی فرانس میں نئے سنگی دور میں تعمیر شدہ متعدد سنگی عمارتیں موجود ہیں جن میں انتہائی کثیف کارناک پتھروں کا مقام خاصا مشہور ہے۔ یہ مقام اندازہً 3300 ق م کا ہے۔

عہد قدیم (چھٹی صدی ق م سے پانچویں صدی عیسوی تک)ترميم

600 ق م میں فوکائیا سے تعلق رکھنے والے ایونی یونانیوں نے بحیرہ روم کے ساحل پر مسالیا نامی نوآبادی قائم کی جہاں اس وقت مارسئی شہر آباد ہے، اس لحاظ سے مارسئی فرانس کا سب سے قدیم شہر سمجھا جاتا ہے۔ اسی اثنا میں کچھ سیلٹک قبائل فرانس کے بعض حصوں میں داخل ہوئے جو پانچویں صدی سے تیسری صدی ق م تک آہستہ آہستہ پورے فرانس پر قابض ہو گئے۔ ان کے مقبوضہ علاقوں کی سرحدیں دریائے رائن، بحر اوقیانوس، کوہ پائرینیس اور بحر متوسط پر محیط تھیں۔ موجودہ فرانس کی سرحدیں بھی تقریباً یہی ہیں جن میں سیلٹک گال آباد تھے۔ گال کے عہد میں یہ خطہ انتہائی خوش حال اور متمول تھا اور اس کا انتہائی جنوبی علاقہ یونانی اور رومی تہذیب و معاشیات سے بے حد متاثر تھا۔

125 ق م کے آس پاس ملک گال کے جنوبی علاقہ کو رومیوں نے فتح کر لیا جو اسے ہمیشہ پرووِنشیا نوسٹرا (یعنی ہمارا خطہ) کہا کرتے تھے، موجودہ فرانس میں بھی یہ خطہ پروونس کہلاتا ہے۔ بعد ازاں 52 ق م میں جولیس سیزر نے گال کے سربراہ ورسنگے ٹورکس کی قیادت میں اٹھنے والی بغاوت کی لہر کو کچل کر ملک گال کے بقیہ حصوں کو بھی فتح کر لیا۔ آگستس نے گال کو رومی ریاستوں میں تقسیم کیا۔ اس گال رومی عہد میں متعدد شہر آباد ہوئے جن میں لوگدونوم (موجودہ لیون) قابل ذکر ہے، یہ شہر گالوں کا دار الحکومت سمجھا جاتا ہے۔ ان شہروں کو ٹھیٹھ رومی طرز میں تعمیر کیا گیا تھا جن میں ایک بڑی بیٹھک یا چوپال، تھیٹر، سرکس، ایمفی تھیٹر اور گرم حمام ہوا کرتے تھے۔ جلد ہی گال رومی نو آبادکاروں میں گھل مل گئے اور ان کی ثقافت و تمدن نیز ان کی زبان کو اختیار کر لیا۔ بعد میں ان دونوں کی زبانوں کے اشتراک سے فرانسیسی زبان پیدا ہوئی۔ نیز رومی کثرت پرستی گال کی بت پرستی میں مل کر امتزاج ضدین کا نمونہ بن گئی۔

ملک گال کی قلعہ بند سرحدوں پر بربری قبائل کے حملوں کی وجہ سے 250ء سے 280ء کی دہائی تک رومی گال زبردست بحران کا شکار رہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں اس خطے کی صورت حال میں انقلاب آیا، یہ وہ عہد تھا جب رومی گال پھر سے بیدار ہوئے اور خوش حالی ان کا مقدر بنی۔ 312ء میں قسطنطین اعظم نے مسیحیت اختیار کر لی جس کے بعد پوری رومی سلطنت میں مسیحی (جو اب تک سخت عقوبتوں اور مصائب سے دوچار تھے) بہت تیزی سے پھیلے۔ لیکن پانچویں صدی عیسوی کے آغاز میں بربر حملے پھر شروع ہو گئے جن کی بنا پر متعدد جرمنی قبائل مثلاً وندال، سوئبی اور الان نے دریائے رائن عبور کرکے گال، ہسپانیہ اور زوال پزیر رومی سلطنت کے دوسرے حصوں میں بود و باش اختیار کی۔

اوائل عہد وسطیٰ (پانچویں صدی عیسوی سے دسویں صدی عیسوی تک)ترميم

عہد قدیم کے ختم ہونے کے بعد قدیم گال متعدد جرمنی مملکتوں اور گال رومی عمل داری میں تقسیم ہو گیا، موخر الذکر گال رومی عمل داری مملکت سیاغریوس کے نام سے معروف ہوئی۔ اسی اثنا میں سیلٹک بریطون برطانیہ کی اینگلو سیکسن نوآبادی سے ارموریکا کے مغربی حصے میں اٹھ آئے اور ان کے آباد ہونے کے بعد جزیرہ نما ارموریکا کو بریتانیہ کہا جانے لگا۔نیز اس خطے میں دوبارہ سیلٹک تمدن و ثقافت پروان چڑھے اور چھوٹی چھوٹی مملکتیں وجود میں آئیں۔

بت پرست فرانک (جن کے نام فرانک سے "فرانسی" نام مشتق ہے) اصلاً ملک گال کے شمالی حصے میں آباد تھے، لیکن انہوں نے کلوویس اول کی زیر قیادت شمالی اور وسطی گال کی بیشتر مملکتوں کو زیر نگین کر لیا۔ سنہ 498ء میں کلوویس اول نے کاتھولک مسیحیت اختیار کر لی۔ سلطنت روم کے زوال کے بعد کلوویس پہلا فاتح تھا جس نے آریوسیت کی بجائے مسیحیت قبول کی۔ قبول مذہب کے بعد پاپائے روم نے فرانس کو "کلیسیا کی سب سے بڑی بیٹی" (فرانسیسی: La fille aînée de l'Église) کے لقب اور فرانسیسی بادشاہوں کو "مسیحی بادشاہ" (فرانسیسی: Rex Christianissimus) کے خطاب سے نوازا۔ اسی تبدیلی مذہب کے بعد فرانکوں نے مسیحی گال رومن ثقافت کو اپنا لیا اور ملک گال بتدریج فرانکیا (فرانکستان) میں تبدیل ہو گیا۔ نیز جرمن فرانکوں نے رومنی زبانیں بھی اختیار کر لیں، بجز شمالی گال کے جہاں رومی نو آبادیاں زیادہ گنجان نہیں تھیں؛ بلکہ اس خطے میں جرمن زبانوں کا ظہور ہوا۔ کلوویس نے پیرس کو اپنا دار الحکومت بنایا اور خاندان میروونجئین کی بنیاد رکھی، لیکن کلوویس کی وفات کے بعد یہ مملکت قائم نہیں رہ سکی۔ فرانکوں نے پوری سرزمین کو نجی جائداد سمجھ کر اسے ورثا میں تقسیم کر دیا اور یوں مملکت کلوویس کے حصے بخرے کرنے کے بعد چار مملکتیں وجود میں آئیں، پیرس، اوغلیوں، سواسون اور رمس۔ آخری میروونجئین بادشاہ محض کٹھ پتلی تھے اور ان کے پردے میں اصل حکمران ناظم محل ہوا کرتا تھا۔ انہی ناظموں میں سے ایک ناظم شارل مارٹل فرانکی مملکتوں میں بڑا معزز اور طاقت ور سمجھا جاتا تھا۔ اسی نے معرکہ بلاط الشہداء میں مسلمان فوجوں کو سخت ہزیمت دی تھی جس کے بعد بنو امیہ کے دور میں مسلمان جزیرہ آئبریا میں کبھی نہیں آئے۔ اس کے فرزند پیپن مختصر نے کمزور میروونجئین سے فرانکیا کا تخت حاصل کیا اور خاندان کیرولنجین کی بنیاد رکھی۔ پیپن کے بیٹے شارلیمین نے فرانکی مملکتوں کو متحد کرکے ایک وسیع و عریض سلطنت قائم کی جو مغربی اور وسطی یورپ پر محیط تھی۔ پوپ لیو سوم نے اسے مقدس شہنشاہ روم قرار دیا اور یوں حکومت فرانس کے کاتھولک کلیسیا سے مضبوط، طویل اور تاریخی تعلقات قائم ہوئے۔ نیز شارلیمین نے مغربی رومی سلطنت اور اس کی ثقافت و تمدن کے احیا کی بھی کوشش کی۔ شارلیمین کے بیٹے لوئی اول (814ء – 840ء) نے بھی اپنے عہد حکومت میں سلطنت کو متحد رکھا لیکن اس کی وفات کے بعد سلطنت متحد نہ رہ سکی۔ سنہ 843ء میں معاہدہ وردون کے تحت یہ سلطنت لوئی کے تین بیٹوں میں تقسیم ہو گئی؛ مشرقی فرانکیا لوئی جرمن کے پاس، وسطی فرانکیا لوتھر اول کے پاس اور مغربی فرانکیا شارل گنجے کے پاس چلے گئے۔ مغربی فرانکیا کے متعلق یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ وہی خطہ ہے جہاں آج ملک فرانس موجود ہے۔

نویں اور دسویں صدی عیسوی میں فرانس پر وائکنگ کے متعدد حملے ہوئے جن کے نتیجے میں فرانس کی مرکزیت ختم ہو گئی۔ شرفا اور امرا کے خطاب اور جائدادیں موروثی قرار پائیں اور بادشاہ مزید مذہبی رنگ میں رنگ گئے۔ اس انتشار نے فرانس میں جاگیردارانہ نظام کو جنم دیا۔ بسا اوقات بادشاہ کے ماتحت جاگیردار اتنے طاقت ور ہو جاتے تھے کہ وہ خود بادشاہ کے لیے خطرہ بن جاتے۔ مثلاً 1066ء ميں معرکہ ہیسٹنگز کے بعد ولیم فاتح نے اپنے القاب میں "شاہ انگلستان" کا اضافہ کر لیا جس کے بعد اس کا رتبہ شاہ فرانس کے برابر ہو گیا۔ اس صورت حال نے تناؤ میں مزید اضافہ کیا۔

جغرافيہترميم

فرانس کے چند علاقے سمندر پار شمالی و جنوبی امریکا، بحر الکاہل اور بحر ہند میں بھی واقع ہیں۔ یورپ میں فرانس کے ہمسایہ ممالک ہیں بلجیم، لگزمبرگ(لوگسام بورغ)، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، مناکو، انڈورا(اندورا) اور اسپین۔ یورپ کے باہر فرانس کی سرحدیں برازیل، سورینام اور نیدرلینڈز سے ملتی ہیں۔

رياست اور سياستترميم

فرانس ایک متحدہ، نیم صدارتی، جمہوری ریاست ہے۔ فرانس کی بنیادیں اس کے آئین اور "آدمی اور شہری کے حقوق کا اعلان" ہیں۔ فرانس ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے۔

فرانس یورپی یونین کے بانی ارکان میں سے ہے اور رقبے کے لحاظ سے اس کا سب سے بڑا رکن ہے۔ فرانس نیٹو کے بانی ارکان میں سے بھی ہے۔ فرانس اقوام متحدہ کے بانی ارکان میں سے بھی ہے اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ فرانس دنیا کی سات ایٹمی طاقتوں میں سے ایک ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین فرانسترميم