"وفاقی شرعی عدالت پاکستان" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م
(ٹیگ: القاب)
م
اس عدالت کے دائرہ اختیار میں فوجداری مقدمات کی سماعت بھی شامل ہے جو کہ حدود کے زمرے میں آتے ہوں۔ اس عدالت کا فیصلہ کسی بھی [[صوبائی عدالت عالیہ]] کے فیصلے پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ حدود سے متعلق کسی بھی مقدمے کی سماعت و پیروی کے لیے یہ عدالت اپنے ملازمین متعین کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔<br />
[[1980ء]] میں جب یہ عدالت قائم کی گئی تھی، تب سے یہ عدالت کئی بار تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے، اور کئی مواقع پر متنازع بھی رہی ہے۔ اس وقت کی [[فوجی حکومت]] میں اسلامی معاشرے کی تشکیل کے دعویٰ میں یہ عدالت [[آٹھویں ترمیم]] کے ذریعہ قائم کی گئی تھی ۔ مخالفین کے مطابق یہ عدالت متوازی طور پر قائم کیا گیا ایک ادارہ ہے جو کہ مملکت پاکستان کی اعلٰی عدالتوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو کر کئی پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے، یہاں تک کہ یہ عدالت [[پارلیمان]] کی خودمختاری پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اس عدالت میں مصنفین کی تعیناتی کا طریقہ کار اور مصنفین کی مدت ملازمت بھی اکثر مخالفانہ بحث کا مرکز رہی ہے۔ تنقید کاروں کے مطابق اس عدالت کی بنیاد اور طریقہ تعیناتی کسی بھی صورت میں آزاد عدلیہ کی نشانی نہیں ہے اور اس عدالت کے تحت ہونے والے فیصلوں پر وفاق کے کلیدی عہدیدار اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ <br />
ماضی میں یہ عدالت وفاق کے لیے [[عدالت عظمٰی]] میں ناپسندیدہ منصفین کو بہلانے کے لیے بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ کئی فیصلے جو اس عدالت کے زیر اہتمام کیے گئے، [[اسلامی مساوات]]، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے لحاظ سے اہم تھے ابھی تک تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے حقوق کی تنظیمیں بھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں کئی مقدمات کے فیصلوں کے خلاف آواز اٹھا چکی ہیں۔ فوجی حکومت میں تشکیل دی جانے والی یہ عدالت بلاشبہ کئی طرح سے متنازعہمتنازع رخ اختیار کر چکی ہے۔ <br />
اس بات سے قطع نظر کہ اس عدالت پر کئی اعتراضات کیے گئے، اگر اس کے بنیادی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کی جائیں تو بلاشبہ یہ اسلامی قوانین کی پاسداری کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس طور کئی زاویوں سے عدالت کے دائرہ اختیار اور تعیناتی کے عمل کو جانچے جانے کی گنجائش موجود ہے۔<br />
== مزید دیکھیے ==