"ایمان بالقدر" کے نسخوں کے درمیان فرق

درستی املا،۔ ویکی ڈیٹا کیا گيا
م (clean up, replaced: ← (4) using AWB)
(درستی املا،۔ ویکی ڈیٹا کیا گيا)
{{ایمان}}
یہ عقیدہ کہ انسان کے تمام اعمال و افعال خدا کی طرف سے پہلے سے طے کردہ ہوتے ہیں بہت قدیم ہے۔ اس عقیدے کے آثار [[سمیری]]، [[مصر|مصری]]ی اور اشوری تہذیبوں میں بھی ملتے ہیں۔ ان قوموں کے عقیدہ کے مطابق انسان بالکل مجبور ہے اور خدا نے نیکی، بدی، خوش حالی، مفلسی پہلے سے انسان کے لئے طے کر رکھی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
 
== اسلام میں عقیدۂ تقدیر ==
:نتیجہ: انسان اپنے انہی اعمال کا حساب دینے کا پابند ہوگا جو وہ اپنی رضا و رغبت سے کرتا ہے۔ مجبوری میں کئے جانے والے اعمال کی بابت اس سے باز پرس نہیں ہو گی۔
 
=== ایک بہترین مثال ===
سیدنا [[علی ابن ابی طالب]]{{رض}} سے کسی نے جبر و قدر بارے سوال کیا تو آپ نے بڑی سادہ مثال سے اسے واضح فرمایا۔ وہ آدمی کھڑا تھا۔ آپ نے اسے فرمایا: ’’اپنا دایاں پاؤں زمین سے اٹھاؤ‘‘۔ اس نے اٹھا لیا تو آپ نے فرمایا: ’’اب دوسرا پاؤں بھی اٹھاؤ‘‘۔ اس نے کہا اس طرح تو میں گر جاؤں گا۔ آپ نے فرمایا: ’’انسان ایک وقت میں ایک پاؤں اٹھانے پر مختار ہے اور ایک ساتھ دونوں پاؤں نہ اٹھا سکنے پر مجبور ہے۔‘‘ یہی راہ{{زیر}} اعتدال ہے۔
 
 
== حوالہ جات ==
<references />
 
[[زمرہ:عقائد]]