"طوفان" کے نسخوں کے درمیان فرق

3 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار: خودکار درستی املا ← کیے، سائنس دان، ہو گئے، سے، ہو گئی، سے، صورت حال، شے، \1 رہے، سو گئے)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
'''ٹورنيڈو''' ايک تباہ کن طوفان جو چکر کھاتي ہوئي بڑھتے دھنوارے کي طرح کے کالے بادل سے زمين کي طرف اترتي دکھائي ديتي ہے جس ميں ہوا کي رفتار 300 ميل في گھنٹہ تک پہنچ جاتي ہے- ٹورنيڈو کا موسم عموماً [[مارچ]] سے [[اگست]] کے مہينوں کے دوران رہتا ہے، ليکن وہ کسي بھي وقت آ سکتے ہيں-
 
يہ کسي بھي رياست ميں آ سکتا ہے ليکن زيادہ تر ايسا علاقہ جسے عام طور پر "ٹورنيڈو کا گليارا" کہا جاتا ہے,ہے، وہان آ تا ہے- يہ لفظ چودھويں صدي کے ايک جہازراں کا ہے جس نے، شديد طوفاني برق وباراں کو "ٹورنيڈو" کا نام ديا تھا- يہ [[ہسپانیہ|ہسپانوي]] لفظ '''ٹروناڈا''' سے مشتق ہے، جس کے معني "طوفان برق وباراں" ہے-
 
ا گر موسم کي اطلاع يا خبروں ميں يہ بتايا جاتا ہے کہ آپ کے علاقے ميں ٹورنيڈو ہے تو، سب سے زيادہ ضروري چيز يہ ہے کہ کسي ايسي جگہ ميں پناہ ليں جہاں کھڑکياں نہ ہوں، جيسے غسل خانہ يا تہ خانہ-
اگست کے اواخر ميں امريکہ ميں آنے والا طوفان ”کترينہ“ اپنے پيچھے تباہی و بربادی کے المناک نقوش چھوڑ گيا۔ گزشتہ سال 25 دسمبر کو جنوب مشرقی ايشيا ميں آنے والے سمندری زلزلے سونامی کے زخم ابھی مندمل نہيں ہوئے تھے کہ امريکہ کی دس رياستيں ”کترينہ“ طوفان کی زد ميں آگئيں۔ صرف ايک مہينہ کے دوران آنے والی قدرتی آفات سے لاکھوں انسان متاثر ہوئے ہيں۔
[[ملف:Typhoon.jpg|thumb|اگست 2005 کے اواخر ميں امريکہ ميں آنے والا طوفان ”کترينہ“]]
28 اگست کی صبح، رياست ہائے متحدہ امريکہ کی جنوبی رياستوں پر قيامت بن کر ٹوٹی جب 169 ميل فیگھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے سمندر ميں 28فٹ بلند لہريں پيدا کرديں جو طوفان کی صورت اختيار کرگئيں۔ کترينہ نامی اس [[سمندری طوفان]] نے ساحلی کناروںکوعبورکناروں کوعبور کيا اور شہر کے شہر روند ڈالے۔ يہقيامت خيز طوفان امريکہ کی جنوبی رياست لوزيانہ کے بڑے ميٹروپوليٹن شہر نيواورلينز کے ساحلوں سے داخل ہوا اور ديکھتے ہی ديکھتے مزيد دس امريکی رياستوں کو بھی اپنی لپيٹ ميں لے ليا۔ اس طوفان نے مِسی سپّی، لوزيانا اور البامہ ميں بھی قيامت برپا کردی اور يہاں بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا۔ طوفانی لہريں پلوں اور ڈيم کو بہاکر لے گئيں، نيواورلينز کا حفاظتی پشتہ ٹوٹ گيا۔ بندرگاہ پر واقع شہر بلوکسی مکمل طور پر متاثر ہوا۔ خليج ميکسيکو ميں واقع پٹروليم کی تنصيبات کو شديد نقصان پہنچا۔ سڑکيں بہہ گئيں، مکانات مسمارہوگئے اور بے شمار مکانات و درخت کا تو نام و نشان تک باقی نہ رہا۔
کترينہ کے بعد امريکی رياست کيرولينا بھی ايک نسبتاً کم شديد طوفان ”اوفليا“ سے متاثر ہوئی۔ اس طوفان کی شدت امريکہ تک پہنچتے پہنچتے بہت کم ہوچکی تھی۔ ليکن امريکہ کی صنعتی پيداوار متاثر ہوئی اور کئی علاقوں ميں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔
دوسری طرف چين ميں زی جياننگ، فيوجيان اور جيانگ زی صوبوں ميں تالم نامی طوفان نے 4 لاکھ افراد کو بے گھر کرديا۔ سينکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ اسی دوران جاپان ميں بھی ناپی نامی طوفان نے تباہی پھيلائی اور ايک لاکھ افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
اگلا طوفان ”ريٹا“ امريکہ کے جنوبی ساحلوں سے ٹکرايا۔ دنيا ابھی ان طوفانوں کی تباہی کا اندازہ بھی نہيں لگاسکی تھی کہ تائيوان اور چين کی طرف بڑھنے والے [[سمندری طوفان]] (ٹائی فون) ”خانون“ کی خبر نے دل دہلاديا۔ آخری خبر آنے تک 22 ستمبر کو بنگلہ ديش اور بھارت ميں خليج بنگال سے اُٹھنے والے [[سمندری طوفان]] سے زبردست تباہی ہوچکی ہے، سمندر کی سطح تين ميٹر بلند ہو گئی ،گئی، جس سے ايک ہزار مچھيرے لاپتہ اور 300 ديہات زيرِ آب آ گئے۔
پے درپے آنے والے سمندری طوفانوں اور بعض خطوں ميں شديد بارشوں سے پيدا ہونے والی خطرناک سيلابی صورت حال نے دنيا بھر کے انسانوں کو شديد خوف ہراس ميں مبتلا کرديا ہے بہت سے لوگ يہ سوچنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہيں کہ آخر ان طوفانوں کے اسباب کيا ہيں اور تواتر سے يہ طوفان کيوں برپا ہو رہے ہيں؟
اس کاواضح جواب خودخالقِ کائنات اللہ رب العزۃ نےدیاہے،نے دیاہے، کہ یہ میری نشانیاں ہیں،. تاکہ تم اس سے ڈرواوراس کی اطاعت کرو
 
== سائيکلون اور ہريکين ==
بحيرہ عرب:پاکستان اور جنوب مغربی بھارت بحيرہعرب کے ساحل پر واقع ہے۔ يہ سمندر قدرت کا عظيم تحفہ ہے جس ميں بہت کم ہی کوئی شديد طوفان بنتے ہيں۔ بحيرہعرب ميں جنوری، فروری، مارچ، اپريل، جولائی، اگست اور ستمبر ميں سائيکلون نہيں بنتے۔ جنوب مشرقی اور مرکزی بحيرئہ عرب ميں سائيکلون عموماً مئی، جون، اکتوبر، نومبر اور دسمبر ميں تشکيل پاتے ہيں۔ پاکستان بحيرئہ عرب کے شمال ميں واقع ہے۔ عام طور پر يہ سائيکلون شمال کی طرف نہيں بڑھتے يا شمال مغرب ميں بھارتی گجرات کی طرف بڑھتے ہيں ليکن راستے ميں ہی اکثر اپنی زيادہ تر قوت کھوديتے ہيں۔
خليج بنگال: بحيرہ عرب کے برعکس خليج بنگال کو سرکش سمندر کہا جاسکتا ہے۔ اس ميں جنوری سے مارچ تک شاذ و نادر ہی سائيکلون تشکيل پاتا ہے ليکن باقی مہينوں ميں طوفانوں کی امکانات زيادہ رہتے ہيں۔ جنوبی خليج بنگال ميں بننے والے سائيکلون مغربی يا مشرقی حصہ کی طرف بڑھتے ہيں۔ اس کے مشرق ميں بنگلہ ديش واقع ہے جو اکثر و بيشتر طوفانوں سے نبرد آزما ہوتا رہتا ہے۔ مغرب ميں سری لنکا واقع ہے۔ خليج بنگال سے اُٹھنے والا سائيکلون مغرب ميں چلے تو سری لنکا ميں تامل ناڈو کے ساحل سے ٹکراتا ہے۔ خليج بنگال کے سرکش طوفان بحيرئہ عرب کے امن پسند سمندر کی طرف بھی بڑھنے کی کوشش کرتے ہيں ليکن اس سمندر تک پہنچتے پہنچتے کمزور اور تقريباً بے اثر ہوجاتے ہيں۔ اس لیے بحيرہ عرب کے ساحلی شہروں کے لیے خطرہ نہيں بنتے۔ البتہ اپريل سے مئی تک خليج بنگال ميں تشکيل پانے والے سائيکلون بھارتی رياستوں آندھرا پرديش اور اڑيسہ کے لیے ضرور چيلنج بن سکتے ہيں۔
بحرِ اوقيانوس: بحر اوقيانوس کے آس پاس دنيا کے کئی اہم ممالک واقع ہيں۔ اس کے شمال مشرق ميں يورپ کے کئی ممالک اور جنوب مشرق ميںکئیميں کئی افريقی ممالک واقع ہيں۔ جبکہ جنوب مغرب ميں ويسٹ انڈيز، برازيل اور کئی ديگر ممالک ہيں۔
ٹراپيکل بيلٹ پر ہونے کی وجہ سے امريکہ کے جنوب ميں، ميکسيکو اور کيربين ممالک ميں آنے والے سائيکلون کی تعداد زيادہ ہے۔ بحر اوقيانوس ميں سائيکلون عموماً جون سے نومبر تک اُٹھتے ہيں۔ اگست سے ستمبر تک طاقتور سائيکلون بنتے ہيں جنہيں بجا طور پر ہريکين کہا جاسکتا ہے۔ شمال مشرق ميں واقع يورپ کی طرف اُٹھنے والے سائيکلون عموماً زيادہ طاقتور نہيں ہوتے۔ اسی طرح کينيڈا اور امريکہ کے شمالی علاقوں ميں بھی طوفانوں کی زيادہ شدت نظر نہيں آتی۔ جيسا کہ پہلے بھی ہم نے بيان کيا تھا کہ عموماً امريکہ کی جنوبی رياستوں، ميکسيکو اور کيريبين ممالک ميں اُٹھنے والے طوفان زيادہ شديد ہوتے ہيں۔ حال ہی ميں امريکہ ميں تباہی پھيلانے والا کترينہ نامی طوفان بھی اسی حصّہ سے اُٹھا تھا۔
بہرحال! کس علاقہ ميں سائيکلون کتنا شديد يا کمزور ہے اس بارے ميں تمام جائزے اندازوں پر قائم ہيں۔ کس وقت کس جگہ سائيکلون ہريکين ميں تبديل ہو جائے يہ کوئی نہيں کہہ سکتا۔ امريکہ کی طرف بڑھنے والے کترينہ کی شدت کو سمجھنے ميں بھی ناسا کو مشکلات ہوئيں۔ ايک اطلاع کے مطابق جاپان کے سائنسدانوں نے کترينہ کی ہولناکی سے ناسا ک پيشگی خبردار کرديا تھا ليکن امريکی حکام کترينہ کی شدت کوپوری طرح نہ سمجھ سکے اور اسے درميانے درجہ کا طوفان خيال کرتے رہے۔