"فرقہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

5 بائٹ کا ازالہ ،  4 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار: خودکار درستی املا ← سے، سے)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
{{Wikify}}
فرقہ کے معنی جماعت یا گروہ کے ہیں.ہیں۔ یہ لفظ "فرق" سے مشتق ہے، جس کے معنی الگ کرنا/جدا ہونا ہے.ہے۔ دوسرے الفاظ میں فرقہ کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ فرقہ کسی بھی مذہب ،مذہب، جماعت (سیاسی یا مذہبی) یا گروپ کا ذیلی حصہ ہوتا ہے جو اپنے الگ خیالات و نظریات کی وجہ سے الگ جانا جاتا ہے۔
 
==قرآن مجید میں فرقہ کا ذکر==
ترجمہ : ایک فرقہ کو ہدایت کی اور ایک فرقہ پر مقرر ہو چکی گمراہی انہوں نے بنایا شیطانوں کو رفیق اللہ کو چھوڑ کر اور سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں .
 
لوگ آج کل اتفاق اتفاق تو پکارتے ہیں مگر اس کی حدود کی رعایت نہیں کرتے ،کرتے، بس اتنا یاد کر لیا ہے کہ قرآن میں حکم ہے” افتراق نہ کرو“۔(٣/١٠٣) مگر پوری آیت بیان کرتے اس سے پہلا جملہ نہیں دیکھتے کہ ” الله کی رسی کو "سب مل کر" پکڑو اور (پھر فرمایا کہ اس سے ) تفرقہ (علیحدگی) اختیار نہ کرو“ تو اب مجرم وہ ہے جو حبل الله ( ا لله کی رسی) سے الگ ہو اور جو حبل الله (الله کی رسی) پر قائم ہے ۔ہے۔ وہ ہر گز مجرم نہیں ،نہیں، گو اہل باطل سے اس کو ضرور اختلاف ہو گا۔
 
 
==حدیث میں لفظ فرقہ کا ذکر==
 
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ،عَمْرٍو، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ،إِسْرَائِيلَ، حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ ،ذَلِكَ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ،مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً ،وَاحِدَةً، قَالُوا : وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟اللَّهِ؟ قَالَ : مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي "<ref>ترمذی: ابواب الایمان، افتراق هذه الأمة, 2585 (2641)</ref>
 
ترجمہ : حضرت عبدللہعبد للہ بن عمرو (رضی الله عنہ) سے روایت ہے کہ رسول الله (صلی الله علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ”میری امّت تہتر (٧٣) فرقوں میں تقسیم ہوگی، ان میں سے ایک کے علاوہ سب جہنمی ہونگے.ہونگے۔ صحابہ (رضی الله عنھم) نے عرض کیا کہ اے الله کے رسول (صلے الله علیہ وسلم) وہ (نجات پانے والے) کون ہونگے؟ (آپ صل الله علیہ وسلم نے) فرمایا: جس (طریقے) پر میں اور میرے صحابہ ہیں"۔
{{نامکمل}}